آپ مضبوط بنیں
اپنی تکلیفوں کو اپنے درد کو چھپا کر مکمل خود اعتمادی کے ساتھ لوگوں کے سامنے آئیں اور عوام میں اپنا ٹھوس امیج پیش کریں
بھلے اپ نے زندگی میں بہت ٹھوکریں کھائی ہوں بہت دکھ سہی ہوں درد جھیلیں ہوں
… لیکن ان سب کے باوجود، ان سب لوگوں کے سامنے سب میں ایک چٹان کی طرح سخت اور بلڈوزر کی طرح بھاری بھرکم؛ دوسروں کو روندنے والے ہرگز نہ بن جائیں!
مضبوط بننے کے چکر میں،حالات سے لڑنے کے بعد نہ ڈر بن جانے کے بعد دکھ سہنے کے بعد درد جھیلنے کے بعد،خود ایک چٹان بن جانے کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے راستے میں آنے والے نرم و نازک، مہکتے ہوئے رنگین گلابوں جیسی نفیس شخصیات کو بھی اپنی سخت دلی کے بھاری بھرکم بلڈوزر سے روند کر رکھ دیں…!! اپنی سختی صرف ان چند مخصوص لوگوں کے لیے رکھیں جنہوں نے اپ کو ایسا پتھر دل اور سخت بننے پر مجبور کیا
لوگ اپنے دشمنوں کے ساتھ تو اچھا برتاؤ کرتے ہیں لیکن اپنے عزیزوں کے ساتھ ہمیشہ برا سلوک ہی کرتے ہیں – اپ ان لوگوں کی طرح مت بنے جو دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنوں کو نیچے دکھاتے اور ان کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں
برے لوگوں کی بدسلوکی کا بدلہ کبھی بھی ان لوگوں سے نہیں لیا جاتا جو آپ کے ساتھ مخلص اور ہمدرد ہوتے ہیں – مگر کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ کچھ لوگوں کے برے برتاؤ کا بدلہ ہم کچھ اچھے لوگوں سے بے رخی کر کے لے لیتے ہیں اور اس نا سمجھی میں ہم کچھ اپنے سچے پیار کرنے والوں کو اپنے سے دور کر دیتے ہیں اور کھو دیتے ہیں
اپنا ٹھوس امیج ہمیشہ ان لوگوں کے سامنے پیش کریں جنہوں نے آپ کو چوٹ پہنچائی ہے، تکلیف دی ہے،درد دیا اور مشکلات میں دھکیلا …
ان نفیس روحوں کے ساتھ کبھی بھی سختی سے پیش نہ آئیں جنہوں نے آپ کے زخموں پر کبھی مرہم رکھا تھا وہ لوگ مسیحا جیسے ہیں جنہوں نے اپ کے زخموں پر مرہم رکھا اور اپ کو زندگی میں اگے بڑھنے کا حوصلہ دیا!!
لوگ ہمیشہ؛ مخلص، وفادار، ہمدرد، نرم دل اور شائستہ زبان ساتھی، دوست اور لائف پارٹنر کی تمنا کرتے رہتے ہیں اور جب انھیں ایسا نفیس انسان میسر آجاتا ہے تو پھر اس کی خوب ناقدری کرتے ہیں؛ اور بالآخر ان نفیس روحوں کو اپنے برے رویوں سے ایک دن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں،ایسے لوگ جنہوں نے کبھی اپ کے ساتھ برا کیا ہو درد دیا ہو تکلیفیں دی ہوں ٹھوکروں کے لیے چھوڑ دیا ہوں تو ایسے لوگ جب کبھی اپ کے سامنے ا جاتے ہیں تو وہ زخم اور یادیں پھر سے تازہ ہو جاتی ہیں
اکثر انسانوں کی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ؛
جب مل جائے تو قدر نہیں کرتے..!
جب کھو دیتے تو بہت پچھتاتے ہیں!!
لیکن تب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے،تو کچھ ایسے ہی لوگوں نے ہمیں بھی کھو دیا ہے اب ہم ان کو کبھی بھی میسر نہیں ائیں گے !!!
طوفاں میں اکیلا چھوڑ دینے والے اور جنگل میں چھوڑ دینے والوں کو اس بات سے اب کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ ڈوب گئے یا کسی بھیڑیے کا شکار ہو گئے ،ایسے لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی اپ کی نظروں سے گر گئے ہوتے ہیں اور مرے ہوئے کے برابر ہوتے ہیں
لوگ ایسے لوگوں کے بغیر جینا سیکھ ہی لیتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی جنگ خود اکیلے لڑی ہو!!!!
لکھاریہ
زاہدہ پروین سحر
7,440 total views, 3 views today
























Leave a Reply