نظم

بہنیں بھی ماوں جیسی ہیں
ساتھ ہنستی ہیں ساتھ روتی ہیں
کتنے ہی موسم گزر جائیں
یہ من آنگن میں بہار بن کر آتی ہیں
چڑیوں کی طرح اپنے آشیانوں سے اڑ کر بھی
یہ تاریک راہوں میں گم شدہ
یاد ڈھونڈ لاتی ہیں
یہ قہقوں میں ساون کی جھڑی لگاتی ہیں
بیمار ہیں تو ٹوٹکوں کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتی ہیں
دکھی ہیں تو یہ دور سے ہی کرلاتی ہیں۔۔
سات سمندر پار سے ہی یہ
یہ ایک دوسرے کی خوشی پر
سراپا رقص بن جاتی ہیں
بہنیں بھی ماوں جیسی ہیں

حنا یاسمین

288 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *