وجیہہ سحر

زندگی تب سمجھ آتی ہے
جب رنگ دھندلے پڑنے لگتے ہیں
ہاتھوں میں بیساکھیاں آتی ہیں
توسہارے یاد آتے ہیں
جب اپنی آواز
اپنی سماعت سے آگے نہیں جاتی
تب کچھ
کریہہ آمیز آوازیں یاد آتی ہیں
نئی قربتوں میں
کچھ پیارے پیچھے رہ جاتے ہیں
خوابوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے
کچھ ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں
بےبسی کے وہی اشک
جب اپنی آنکھوں میں اُترتے ہیں
تو
اپنے بزرگ یاد آتے ہیں

261 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *