ناکامیوں نے مضبوط بنا دیا

لکھاریہ
زاہدہ پروین

میرے پاس ناکامیوں کے قصے بھی ہیں جنہوں نے مجھے مضبوط اور ایک کامیاب انسان بنایا، میرے پاس تجربات بھی ہیں جنہوں نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں زندگی میں ایک کامیاب انسان بن کر اگے بڑھ سکوں۔ انسان ہمیشہ اپنی ہی لغزشوں سے راہ پاتا ہے۔ اور میں نے بھی زندگی میں بہت سی ٹھوکریں کھا کر تجربات سے سیکھا اور ایک مضبوط جنگجو،نڈر انسان بن گئ

میرے پاس بہت سے دشمن، اور اپنوں میں چھپے ہوئے دشمن بھی ہیں، جنہوں نے اپنا بن کر میرے ساتھ دشمنی کی اور دشمنوں کے ساتھ مل کر مجھے ہرانے کی کوشش کی اور اکیلا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ خدا ہے جس نے میرا ہر پل ہر جگہ پر ساتھ دیا وہی لوگ میرے لیے ایک عبرت ناک سبق بن گئے ان کی میرے ساتھ کی ہوئی زیادتیاں ان کے وار ان کے چہروں میں چھپی ہوئی بھیانک منافقت نے اج مجھے ایک مضبوط انسان بنا دیا ہے وہی لوگ میرے لیے سبق ہیں
جو انسانوں کے بھیس میں خطرناک جانوروں سے بھی بدتر انسان کی صورت میں مجھے ملے، سبق جنہوں نے مجھے سکھایا کہ ان جیسے کرداروں سے کیسے دور رہا جائے۔

میرے پاس ان کے دیے ہوئے بہت سے زخم ہیں، جو بھرنے لگتے ہیں تو وہی لوگ پھر سے ان زخموں کو کرید دیتے ہیں اور ان پر نمک چھڑکتے ہیں
میرے پاس ان زخموں کے نشان ہیں، یہ نشان بد صورت یادگاریں ہیں، جو مجھے ہر لمحہ یہ یاد دلاتی ہیں کہ میں زندگی کی کڑی آزمائشوں سے گزر کر کام یابی کی طرف ائی ہوں اور یہی کامیابی اب ان لوگوں سے برداشت نہیں ہو رہی
زندگی نے اور کچھ نام نہاد اپنوں نے مجھے بہادر بنا دیا ہے اور اب
مجھے مظلوم کی طرح جینا پسند نہیں، کیوں کہ مظلوم ہمیشہ شکوے کرتے ہیں، نوحے گاتے ہیں۔ روتے ہیں فریاد کرتے ہیں اور جب کہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ ان کی یہ فریاد سننے والا کوئی بھی نہیں ہے

اب مجھے فاتح کی طرح جینا پسند ہے۔ فاتح اعتماد کی روشنی سے اپنے راستے کو روشن کرتا ہے، جو ماضی کی دھند میں کم جھانکتا ہے اور مستقبل کی تابانیوں پر نظریں جمائے رکھتا ہے۔ اب میں اسی طرح ایک بہادر نڈر کامیاب اگے بڑھنے والی انسان بن کر جینا چاہتی ہوں،اور اپنے کمزور ماضی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھنا چاہتی جو مجھے ہر پل ان لوگوں کی یاد دلائے جنہوں نے میرے ساتھ برا کیا،جنہوں نے مجھے کمزور سمجھ کر اکیلا کر دیا

7,161 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *