لوچستان کے ضلع خصدار سے اغوا ہونے والی خاتون کو خاندان کے حوالے کر دیا گیا: حکام

بلوچستان کے ضلع خضدار سے اغوا ہونے والی خاتون اسما بی بی کو سنیچر کی شب ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد ان کے خاندان کے حوالے کردیا گیا ہے۔

انہیں اغوا کے تیسرے روز ضلع خضدار ہی کے علاقے زہری سے بازیاب کیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر دشتی نے انہیں خاندان کے حوالے کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بیان ریکارڈ کرنے کے بعد عدالت نے اسما کو ان کے خاندان کے حوالے کرنے کی اجازت دی ہے۔

اس موقع پر رکن بلوچستان اسمبلی پرنس عمر احمد زئی، خاتون کے بھائی ڈاکٹر عطا اللہ بلوچ کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد اور قبائلی عمائدین بھی موجود تھے۔

قبل ازیں بازیابی کے بعد اسما کو مقامی میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر دشتی اور ایس پی خضدار جاوید زہری کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس قلات رینج سہیل خالد نے بتایا کہ خاتون کو زہری کے علاقے سے بازیاب کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہولناک قسم کا واقعہ تھا جس کی وجہ سے نہ صرف خضدار بلکہ پورے بلوچستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور پولیس پر دباؤ ڈال کر یہ توقع کی جارہی تھی کہ خاتون کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کو اس مقدمے میں نامزد کیا گیا وہ بڑے ’بدنام قسم‘ کے ملزمان تھے جنھوں نے اپنا فون وغیرہ بند کر دیا تھا جس کے بعد ملزمان کے بارے میں ٹیکنیکل معلومات حاصل کی گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے ٹیکنیکل معلومات کی فراہمی کے باعث ملزمان کی زہری میں موجودگی کا پتا چلا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد پولیس پارٹی تشکیل دی گئی جس نے خاتون کو زہری کے علاقے سے بازیاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث ملزمان نے پولیس پارٹی کو دور سے دیکھا اور وہ فرار ہوگئے۔

خاتون کے اغوا کے مقدمے میں نامزد ملزم ظہور جمالزئی کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا ہے، تاہم ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر دشتی کے مطابق اس کیس میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے دو وہ لوگ ہیں جو کہ ایف آئی آر میں نامزد ہیں۔

خیال رہے کہ خضدار کی رہائشی اسما کو 5 اور 6 فروری کی درمیانی شب خضدار شہر سے ان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔

ان کے اغوا کے خلاف جمعرات کو پہلے کوئٹہ، کراچی شاہراہ کو خضدار شہر میں جبکہ سینچر کو اسے قلات، وڈھ اور حب میں بند کرنے کے علاوہ کوئٹہ اور جیکب آباد کے درمیان بھی قومی شاہراہ کو بند کیا گیا تھا۔

تین روز تک کوئٹہ، کراچی شاہراہ کی بندش کے باعث لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

216 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *