انٹرویو نرگس نور

السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشناء اختر حاضر ہے ایک نئے انٹرویو کے ساتھ ۔ اس بار ہماری مہمان شخصیت ہیں محترمہ نرگس نور صاحبہ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم!
کیسی ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میں ٹھیک ہوں ۔

* کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میں کشمیر کے شہر کوٹلی میں پیدا ہوئی دس سے بارہ سال ہو گئے ادبی دنیا میں قدم رکھے ہوئے اردو پنجابی میں کلام کہتی ہوں ہاؤس وائف ہوں زندگی میں بہت محنت کی پارلر بوتیک کپڑے کا کام لیڈیز اسیسری سب مزدوریاں کی ہیں۔ زندگی کے سارے نشیب و فراز دیکھے ہیں الحمداللہ رب العالمین ہر حال میں ہر قدم پر خوش اور کامیاب ہوں

* پسندیدہ ادبی شخصیات جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟

شاعرہ حمیدہ شاہین
تجمل کلیم
نصیر بلوچ مرحوم
بلھے شاہ وارث شاہ
نصیر احمد نصیر
صغیر احمد صغیر
پروفیسر صغیر تبسم

* ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

ایمانداری کے ساتھ ادب کی خدمت کی جائے نئے لکھنے والوں کو حقیقی معنوں میں پزیرائی دی جائے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں اور اصلاح برائے اصلاح کی جائے

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

کتابیں پڑھتی ہوں اسکے علاوعہ ذکر الہی

* زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

کسی سے کوئی امید وابستہ نہیں کرنی کسی پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا .

*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

انسان اپنا احتساب کرتا رہے اور احتیاط کرے تو سب ٹھیک ہے کیونکہ معاشرہ ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے.

*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟

زہر آشام
کشف
کرلاٹ
گھمن گھیری

* اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟

ان گنت ایوارڈز اسناد شیلڈز حاصل کر چکی ہوں بھلے شاہ گولڈ میڈل انٹر نیشنل حاصل کیا وارث شاہ انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کیا بانو قدسیہ ایوارڈ پروین شاکر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہوں

* کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟

جی بالکل

* آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟

ابھی تک طفل مکتب ہوں لیکن الحمدللہ چولہے کے سامنے سے اٹھ کر ادب کے فلک پر پرواز کر رہی ہوں امید ہے جلد منزل پر پہنچوں گی .

* سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

جی بالکل اور پاکستان کے سبھی شہر دیکھے ہیں الحمد اللہ

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی قدم قدم پر امتحان ہے .

* زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

ایک سال پہلے ماں باپ چلے گئے اس سے قیمتی کچھ نہیں تھا بس ابھی تک خود کو موٹیویٹ کرنے کی کوشش میں ہوں

*اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟

اپووا کے ساتھ مل کر کام کر کے ان کی تقاریب اٹینڈ کر کے اپنی فیملی والا احساس ہوتا ہے مکمل تحفظ اپنائیت اور آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں

* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

زندگی میں کوئی بھی کام کریں کہیں بھی کریں اپنا کردار اور عقیدہ مضبوط رکھ کر کریں کامیابی بھی ملے گی خدا کی رضا بھی

* اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

غزل
میں نے چھینی ہے نا مانگی نا چرائی روٹی
میرے حصے میں جو آئی وہی کھائی روٹی

تم مرے باپ کو کاما نہیں مزدور کہو
کیونکہ محنت سے ہس اس نے کمائی روٹی

بس اسی دن سے مجھے بھوک نہیں لگتی ہے
جب ماں نے نہیں ہاتھوں سے کھلائی روٹی

چھٹی مل جائے کسی روز مجھے بھی شاید
ان خیالوں میں کئی بار جلائی روٹی

میں نے بچے سے کہا چاند بناکر دکھلا
اس نے گرتے ہوئے اشکوں سے بنائی روٹی

میرے جینے کا بھی سامان ملا میکے سے
بعد مرنے کے بھی میکے سے ہی آئی روٹی

لوگ کہتے رہے اے چور چھپایا کیا ہے ؟
چور کہتا رہا بس ایک چھپائی روٹی

معزز قارئین امید ہے کہ آپ کو آج کا انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

816 total views, 3 views today

One Response to انٹرویو نرگس نور

  1. سجاد علی بھنڈر says:

    اللّٰہ تعالیٰ ہماری بہن کے والدین کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
    اور ہمیشہ شاد و آباد رکھے ۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *