ماۓ نی میں کنوں آکھاں

ماں کائنات کا سب سے عظیم رشتہ ہے اور رب کی عطا کردہ وہ نعمت اور رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے،ماں وہ ہستی ہے کہ جس کے قدموں تلے جنت ہے،ماں ایک ٹھنڈی چھاؤں اور دل کا ارمان ہے کہ جس کی موجودگی اور تمازت دل کو سکون اور ٹھنڈک پہنچاتی ہے یہ ماں ہی ہوتی ہے جو اپنے بچوں کے لیے سب کچھ ہوتی ہے وہ اپنی زندگی کا ہر پل اپنے بچوں کے لیے وار دیتی ہے اپنا سکون اپنا چین اپنا سب کچھ صرف اور صرف اپنے بچوں کے لیے وقف کر دیتی ہے ماں ہی اپنے بچوں کے لیے سایہ اور سائبان ہوتی ہے،
دنیا کی جتنی بھی الجھنیں ہوں جتنے بھی دکھ ہوں غم ہوں ماں کے ہوتے ہوئے سب دور ہو جاتے ہیں کیونکہ ماں اپنے بچوں پر انے والی ہر مصیبت ہر الجھن ہر دکھ اپنے اپ پر لے لیتی ہے ماں قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے کہ جس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہو سکتا،یہ ماں ہی ہوتی ہے جو اپنے بچوں کی زندگی میں روشنی بن کر جگمگاتی ہے اور ان کی زندگی میں اندھیرا نہیں انے دیتی،دنیا میں جتنی بھی رونقیں اور بہاریں ہیں وہ سب ماں ہی کی وجہ سے ہیں ماں نہ ہو تو زندگی میں اندھیرا ہو جاتا ہے سب خوشیاں رونقیں اور بہاریں روٹھ جاتی ہیں،ماں کے بغیر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے خوشیاں اور بہاریں پاس ہوتے ہوئے بھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ساری خوشیاں ماں کے بغیر ادھوری لگتی ہیں،ماں سرمایہ زندگی ہے،ماں ہو تو ہر ہر دن عید اور ہر رات شب رات کی طرح ہوتی ہے اور اگر زندگی میں ماں جیسی نعمت نہ ہو تو ہر خوشی ہر عید ہر شب رات پھیکی سی لگتی ہے ہر خوشی کے موقع پر ماں کی یاد اتی ہے ،ماں کے بغیر زندگی میں کچھ بھی نہیں رہتا ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کائنات ماں کے ساتھ ہی چل رہی تھی اور اس کے جاتے ہی جیسے رک سی گئی ہے،ماں کا زندگی سے جانا ایسا ہوتا ہے جیسے سب کچھ اس کے ساتھ ہی چلا گیا زندگی کی ساری رونقیں خوشیاں بہاریں سب روٹھ جاتی ہیں،ماں کے بغیر مقدس رشتوں اور بہن بھائیوں میں بھی وہ پہلے جیسا پیار اور خلوص نہیں رہتا ماں کے ہوتے ہوئے گھر کی رونق اور میکہ اباد رہتا ہے جبکہ ماں چلی جائے تو میکے کی رونقیں رشتوں کا پیار میکہ سب ختم ہو جاتا ہے،ماں قدرت الہی کا ایک عظیم رشتہ ہے جس کے جدا ہوتے ہی دنیا بدلی بدلی سی لگتی ہے رشتے بدل جاتے ہیں پیار بدل جاتا ہے،ماں کی جدائی وہ المناک اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے کہ انسان اندر ہی اندر ٹوٹ اور بکھر سا جاتا ہے اور پھر سمیٹنے والا کوئی نہیں ہوتا
!!!! اور سب سے بڑی اور اہم بات کہ ایسے دکھ اور تکلیف میں پھر کوئی غم گسار اور درد بانٹنے والا بھی نہیں ہوتا،ہمدردی کے دو بول بول کر گلے لگا کر اور انسو پونچنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا،ماں کا رشتہ بے لوث محبت کرنے والا رشتہ ہوتا ہے جس کا کوئی بھی رشتہ نعم البدل نہیں ہو سکتا،جب ماں چھوڑ جائے تو ایسے میں بے اختیار منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں
مائیں نی میں کنوں اکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
اللہ پاک سب کی ماؤں کو سلامت رکھے اور جن کی مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے( امین ثم امین)

لکھاریہ

زاہدہ پروین سحر

10,173 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *