ہفتے میں 4 روز کام، 3 دن چھٹی، ملازمین کی موجیں لگ گئیں

برطانیہ کی 200 کمپنیوں نے مستقل طور پر ایک ہفتے کے دوران 4 روز کام اور 3 دن چھٹی کرنے کی حامی بھرلی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی دو سو کمپنیاں اپنے تمام ملازمین کے لیے تنخواہ میں کسی قسم کی کمی کے بغیر مستقل طور پر چار دن کے ورکنگ ڈیز اور 3دن کی چھٹی کی حمایت کے لیے دستخط کر چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں قائم کردہ 4 ڈے ویک فانڈیشن کے زیر اہتمام 4 روزہ کام کی مہم میں ملک بھر کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 200 کمپنیوں نے شمولیت اختیار کرلی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی دو سو کمپنیاں اپنے تمام ملازمین کے لیے تنخواہ میں کسی قسم کی کمی کے بغیر مستقل طور پر چار دن کے ورکنگ ڈیز اور 3دن کی چھٹی کی حمایت کے لیے دستخط کر چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں قائم کردہ 4 ڈے ویک فانڈیشن کے زیر اہتمام 4 روزہ کام کی مہم میں ملک بھر کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 200 کمپنیوں نے شمولیت اختیار کرلی ہے۔
چار دن کے ورکنگ ویک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پانچ دن کا کام کا طریقہ کار پرانے معاشی دور کی باقیات ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بیلجیئم سال 2022 میں 4 دن کے ورک ویک کی قانون سازی کرنے والا پہلا یورپی ملک تھا۔ جن ممالک میں کسی نہ کسی حد تک ہفتے میں 4 دن کام ہوتا ہے یعنی 3 دن چھٹی ہوتی ہے ان میں آسٹریلیا، آسٹریا، امریکا، بیلجیئم، برطانیہ، برازیل، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، آئس لینڈ، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، پرتگال، اسکاٹ لینڈ، جنوبی افریقہ، اسپین، سوئیڈن، سوئٹزر لینڈ، نیوزی لینڈ، آئس لینڈ، لتھوانیا، جاپان اور یو اے ای شامل ہیں۔

225 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *