انٹرویو غزالہ منصور
السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشناء نئے انٹرویو کے ساتھ حاضر ہے ۔ اس بار ہماری مہمان ہیں محترمہ غزالہ منصور صاحبہ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔
السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟
وعلیکم السلام!
میں ٹھیک ہوں ۔ بہت شکریہ آپ نے یاد کیا ۔
*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
میرا نام غزالہ منصور ہے ۔ لاہور میری جاۓ رہائش ہے۔ شادی شدہ ہوں۔ ایک بیٹا ہے۔ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز ہوں۔ تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔
*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟
ہر ادبی شخصیت میری پسندیدہ ہے۔ سب سے پہلے نسیم حجازی کو پڑھا۔ ابوالاعلیٰ مودودی سے لیکر نمرہ احمد تک سب کو پڑھا۔ سعادت حسن منٹو۔ ۔غلام عباس۔ ممتاز مفتی ، بانو قدسیہ، مستنصر حسین تارڑ ۔ امجد اسلام امجد پروین شاکر ۔ غرض اپنی سی کوشش کی ہے کہ ادب کے ہر رنگ کو محسوس کروں ۔
*ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟
ادب کے فروغ کے لئے میں سمجھتی ہوں حکومتی سرپرستی پہلا ضروری قدم ہے۔ سب تنظیمیں اور افراد اپنی بساط کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ لیکن حکومتی سرپرستی کی یہاں اتنی ہی ضرورت ہے جتنی دفاع کے شعبے کو ہے۔
دوسرا اہم قدم لکھاریوں کو وطن کے نوجوان کو اپنے ساتھ جوڑنا ہو گا۔ رائٹنگ کلبس ہوں جیسے کرکٹ کلبس ہیں۔ وہاں ماہرین باقاعدہ ادب کی اصناف کی تربیت دیں۔
ہم سب حادثاتی قلمکار اتنے معرکے سر انجام دے چکے ہیں تو تربیت کے بعد مزید کتنے شاندار ہوں گے۔
*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟
فرصت میں قرآن کی جستجو، کھوج ، زیادہ کرتی ہوں اور دوسرا واک۔ جب بھی وقت ملے واک کرتی ہوں۔
*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
میری پہلی ترجیح میری ذات۔ پھر باقی دنیا کا خیال اور اپنے پھول کسی دوسرے کے باغ میں مت لگائیں۔ اپنا باغ اپنی ذات میں تیار کریں۔
*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
لوگ ہمیشہ ہی اچھے ہوتے ہیں ۔ بس ہمیں ان کے ساتھ عفو درگزر کا رویہ اپنانا ہوتا ہے۔ محبت تو بہت ذاتی چیز ہے۔ معاشرے کی تعمیر محبت پر نہیں بلکہ عفو درگزر پر عبارت ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں عفو درگزر کی کمی ہے اعلی سطح سے لے کر نچلی سطح تک ۔باقی سب اچھا ہے۔
*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟
ایک کتاب (میں اور کووڈ 19),
تین کامرس کے سلیبس کی کتابیں شائع ہوئیں۔
العنکبوت کے نام سے ایک کتاب جلد آپ کے سامنے ہو گی انشاء اللہ ۔
*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟
ابھی تو سفر کا آغاز ہے۔ لکھاریوں کی ادبی تنظیم حریم ادب سے کافی سرٹیفیکٹ، اسناد وصول کر چکی ہوں۔ اپوا نے بھی سند سے نوازا۔ میرا اصل اعزاز وہ عزت و محبت ہے جو ادبی دنیا میں ملی۔
*کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟
ادبی محافل کی تعریف بھی بنتی ہے اور کہیں کہیں تنقید بھی۔ مگر ہمیں تعریف ہی کرنی چاہیے کہ حکومتی سرپرستی کے فقدان میں یہ ادب کی شمع روشن کئے ہوے ہیں ۔
*آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟
آج میں اللہ کریم کی عنایتوں اور مہربانیوں کا شکرانہ ادا کرتی ہوئی ، زندگی کے ہر میدان میں خود کو دوبارہ منزل کی جانب رواں دواں دیکھتی ہوں۔
*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟
جی میری والدہ کہتی تھیں اگر تم مرد ہوتیں تو دس سال بعد گھر آتیں۔ ورلڈ ٹور پر نکل جاتیں۔
پاکستان کے بہت سے شہر ۔ شمالی علاقہ جات۔ گھوم چکی ہوں۔ بس کویٹہ دیکھنا ہے۔ انشاء اللہ ۔
*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
زندگی وہ وقت ہے جو اللہ سے عشق کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔
*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
میری کائنات ،میری والدہ کا دار آخر جانا میرے لئے زندگی کا واحد ناقابل تلافی نقصان تھا ۔
موٹیویشن صرف اللہ کی رضا اور تقدیر کو سمجھنا تھا۔ اور زندگی کے ہر نقصان میں اللہ کریم ہی دائمی موٹیویشن ہے۔ باقی سب تو دو دن بعد تھک جاتے ہیں۔ وہی ہے جو سنتا رہتا ہے۔
*اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟
اپوا سے میرا تعارف حریم ادب کی وجہ سے ہوا۔ میں ان کی سالانہ تقریب کی رپورٹنگ کے لئے بھیجی گئی تھی۔ اپوا کو میں نے ایک باعمل، باکردار، بااخلاق تنظیم پایا۔ اپوا جس طرح لکھاریوں کو عزت و تکریم دیتی ہے ان کی فلاح و بہبود کی کاوش کرتی ہے۔ نئے لکھاریوں کو جگہ دیتی ہے۔ قابل تحسین ہے۔ایم ایم علی صاحب کی درخشندہ کاوشیں سب کے سامنے ہیں۔
*لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
میرا پیغام مسلسل جہد اور کوشش ہے۔ کبھی ہمت نہ ہاریں اور اپنا لکھا ہوا دنیا کے سامنے لانے کی بھرپور کوشش کریں۔ قلم اللہ کی امانت ہے ۔ اس میں خیانت نہیں کرنی۔
*اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔
میری ایک نظم آپ کی خدمت میں
تو ہی وجہہ عشق
تو ہی وجہہ زیست ہے !!
تو ہی وجہہ سکون قلب
تو ہی وجہہ پریت ہے!!
تو ہی میرا ہنگامہ بپا
تو ہی وجہہ سکوت ہے!!
تو ہی وجہہ اضطرار قلب
تو ہی وجہہ قرار ہے!!
تو ہی وجہہ زوال من
تو ہی وجہہ عروج ہے!!
تو وجہہ مایوسیاں
تو ہی وجہہ امید ہے!!
تو ہی وجہہ عشق
تو ہی وجہہ زیست ہے!!!!!
معزز قارئین امید ہے کہ آپ کو یہ انٹرویو پسند آیا ہوگا اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ
1,047 total views, 6 views today
























My best friend hmesha se best writer best teacher best mother best wife or kia kia btaun best effort MashaAllah keep it up my prayer always with u
سائل اور مسعول دونوں نے انٹرویو کا حق ادا کیا سوال اگر جاندار تھے تو جوابات اس سے احسن عمدہ اور سشتہ تھے
آپ کے خیالات حالات واقعات کی عمدگی سے تصویر کشی کی گئی ہے
Wao great really very impressive. God bless you ❤️
ایک انتہائی خوبصورت شخصیت کے تعارفی انٹرویو کے لیے رشنا آپی کے مشکور ہیں
جن کی بدولت محترمہ غزالہ منصور آپی کی شخصیت کی خوبیاں معلوم ہوسکیں۔
اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے ۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
ماشاءﷲ بہت خوبصورت انٹرویو بہت اچھا لگتا ہے مزہ اتا غزالہ سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ میری ایک دوست رائٹر ہے اور اتنی اچھی رائٹر اتنا اچھا لکھتی ہے ہماری جب بھی ملاقات ہوتی ہم بس کتابوں پہ ہی باتیں کرتی ہیں غزالہ کے ساتھ جو لمحے گزرتے وہ میرے لیے کافی فائدہ مند ہوتے ہیں بہت ساری باتیں میں ان سے سیکھ رہی ہوں اتنا کہ اردو بولنا بھی میں ان سے سیکھ رہی ہوں کچھ اردو کے ایسے لفظ ہوتے ہیں۔جو میں نہیں بول پاتی وہ میں ان سے سیکھ رہی ہوں بہت بہت شکریہ میری زندگی میں انے کے لیے اور میری اردو ٹھیک کرنے کے لیے اپ جو ہزاروں سال