انٹرویو زعیمہ روشن
السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشناء اختر حاضر ہے ایک اور انٹرویو کے ساتھ ۔ اس بار ہماری مہمان لکھاریہ ہیں محترمہ زعیمہ روشن صاحبہ ۔ تو چلیئے گفت گو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔
السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟
وعلیکم السلام! میں ٹھیک ہوں.
*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے۔
جی میرا نام زعیمہ روشن ہے، میرا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔
الحمد اللہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی ہے اور پچھلے دو سال سے تنظیم المدارس کے امتحانات کے سالانہ مراکز میں ناظمہ اعلی کے فرائض بھی انجام دے رہی ہوں۔ میٹرک سے لکھنا شروع کیا اور اب تک اللہ پاک کا شکر ہے لکھنا ترک نہیں کیا۔2017 میں میرا پہلا آرٹیکل ”یہ وقت بھی گزر جائے گا“ ماہنامہ حجاب میں پبلش ہوا۔
اور پھر آفلائن بذریعہ ڈاک ہی کافی میگزین اخبارات میں لکھتی رہی، نوائے وقت اور سما میں بھی کافی تحریریں پبلش ہوتی رہیں اور آنلائن یعنی بذریعہ موبائل میں لکھنا 2023 میں شروع کیا، اور آج تیسرا سال ہے الحمد اللہ کثیرا کثیرا کہ اللہ نے بہت کامیابیوں سے نوازا ہے۔اب رشدوہدایت میگزین اور راہ نما نیوز پیپر میں بطور انتظامیہ کام کرتی ہوں۔
* پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں؟
علامہ اقبال، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، اقراء صغیر احمد، فرحت اشتیاق، نمرہ و عمیرہ احمد، نازیہ کنول نازی سمیرا شریف طوراور اگر شاعری کی بات کی جائے تو نئے لکھنے والوں شاعرہ ماہم حامد، اور فائمہ خان، ان دونوں کی شاعری شوق سے پڑھتی ہوں ۔
* ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟
ایک لکھاری کے لیے اگر کہا جائے تو اسے سب سے پہلے مطالعہ کی طرف رجحان زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ دیکھا جا رہا ہے کہ جیسے موبائل ورک آگیا ہے تو اب کتابی مطالعہ بہت کم کیا جا رہا ہے، علاوہ ازیں بات کی جائے تو یہ کہ نئے لکھنے والے صرف مخصوص جگہوں پر ہی لکھ رہے ہیں، بڑے اخبارات یا شمارے انہیں چانسز نہیں دے رہے، حالانکہ کہ ان میں سے اکثر لکھنے والے بہت میعاری ہیں۔ کچھ ایسا ہونا چاہیے جس سے انہیں بڑے اداروں کے لیے لکھنے کا بھی موقع ملے کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ نئے لکھنے والے وسائل کی کمی کی وجہ سے آنلائن مخصوص اخبارات اور شماروں تک محدود ہیں جنہیں چلانے کے لیے انہیں خود پے کرنا پڑتا ہے۔
* فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں؟
فرصت ویسے تو کم ملتی ہے میرا تعلق جس فیلڈ سے ہے وہاں میں کافی گروپس میں موجود ہوں تو بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ میں فری ہوں، پھر بھی جب وقت ملتا ہے تو مطالعہ کرتی ہوں اور ہمارا میگزین ہے رشد و ہدایت جس میں ایز اے منیجمنٹ ہیڈ اور نگران مجلس کام کرتی ہوں، تو وہاں جو چینل ہے اس میں فری اوقات میں کچھ نہ کچھ موٹیویشنل لکھ کر سینڈ کرتی رہتی ہوں، اس کے علاوہ کافی آنلائن کورسز کروانے ہوتے ہیں، تکمیل ایمان (ختم نبوت) کورس کروانا اور اس پر لگایا گیا وقت میرے لیے بہت خوشی اور سعادت کا باعث ہوتا ہے، آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس اور دفاع ختم نبوت کے لیے کوشاں رہنا ہی تکمیل ایمان ہے، جز ایمان ہے۔
*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو؟
ایک چیز جو ہم نے اپنی زندگی میں سیکھی وہ یہ ہے کہ مشکل وقت پر صبر سے کام لیا جائے تو وہ صبر آپ کے لیے ایک خوب صورت انعام کی صورت میں واپس آتا یے، تو کچھ چھن جائے، کوئی زندگی سے چلا جائے، کوئی آپ کو غلط سمجھے، تو اس پر پریشان ہونے کے یا رونے کے بجائے، صبر کریں اور اپنا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط کریں، عشق حقیقی میں خود کو ڈھال کر دیکھیں دنیا کی ہر چیز، آسائش مانند پڑتی نظر آئے گی، اور اس مشکل وقت میں کیا گیا صبر آپ کی طاقت بن کر آپ کے سامنے آئے گا، اور آپ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہیں تو آپ خود کو بہتر سے بہترین کے سفر پر گامزن نظر آئیں گے۔
*وگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے؟
سب سے پہلے تو اکثر کہا جانے والا جملہ کہ زمانہ یا معاشرہ برا آرہا ہے تو، معاشرہ برا نہیں ہوتا نہ ہی اچھا ہوتا، معاشرے میں پائے جانے والے لوگ اچھے یا برتے ہوتے اور ان کے ہی دم سے اچھا، برا معاشرہ تکمیل پاتا ہے۔
لوگوں کے بارے رائے یہ ہی ہے کہ اگر اس دنیا میں برے لوگ پائے جاتے ہیں تو یہ بھی سوچیں کہ اچھے لوگوں سے بھی دنیا بھری ہے، آپ کی زندگی میں ایسے ایسے لوگ بھی آتے ہیں جنھیں صرف آپ سے اپنائیت، محبت ہوتی ہے، اور خلوص دل سے آپ کا اچھا چاہتے ہیں، تو ان کے بارے میں سوچیں جو اچھے ہیں اور جو غلط ہیں ان کے لیے بھی دعا گو رہیں کہ ایسے لوگوں کو بھی اللہ ہدایت کا راستہ دکھائے، آمین ثم آمین! کیونکہ ان کا آپ کی زندگی میں آنا بھی ایک سبق ہی ہوتا ہے وہ آپ کی زندگی میں نہ آئیں تو آپ کو کبھی اچھے، برے مخلص، منافق، دوست، دشمن میں پہچان ہی نہ ہو۔
*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام؟
میں نے تقریباً 15 انتھولوجیز میں لکھا ہے، جن میں کئی انڈین انتھولوجیز بھی ہیں اور اپووا کی دوسری انتھولوجی میں بطور مصنفہ شریک ہوں الحمد اللہ کثیرا۔
اپنی کتاب پر ورک جاری ہے ان شاءاللہ 2025میں ضرور منظر عام پر لاؤں گی۔
*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟
انتھولوجیز میں کافی ایوارڈ مل چکے ہیں الحمد اللہ۔۔۔۔اور باقاعدہ کسی ایوارڈ تقریب میں جانا اور ایوارڈ وصول کرنا میرا اپوا کے ساتھ 2024 میں آٹھویں سالانہ ورک شاپ میں پہلا ایکسپیرینس رہا ہےاور آگے بھی خواہش ہے اپوا کے ساتھ منسلک رہوں ان شاءاللہ۔
*کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں؟
دیکھیں! اس بارے میں یہ کہوں گی تمام ادبی محافل تو یہ تقاضے پورے نہیں کر رہیں لیکن پہلے سے کافی بہتری آرہی ہے، اس بار اپوا ایوارڈ میں شرکت کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ ملک کے اعلی پائے کے قلمکار اور معروف شخصیات کو اپنے درمیان پایا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ میرے خیال سے اپوا کی طرح اور ادبی تنظیموں کو بھی اس طرح کی تقریبات اور سیمینار کروانے چاہئیں، ایسے ہی ادب کے تقاضے پورے ہوں گے جب تمام ادبی تنظیمیں ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں گی، کیونکہ حالات حاضرہ میں جہاں لکھنا پڑھنا آنلائن ہو رہا ہے وہاں پر اب ادبی محفل آنلائن ہی رکھی جاتی ہیں، وہ بھی ٹھیک ہے لیکن آفلائن تقریبات بھی ہونی چاہییں۔
* آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟
مجھے لگتا ہے جیسے میرا لکھنےکا سیکھنے کا سمجھنے کا اور آگے علم پھیلانے کا سفر ابھی شروع ہوا ہے،
کیونکہ ایک سیکھنا ہی ایسا عمل ہے جو زندگی میں کبھی ترک نہیں کرنا چاہیے، میں اگر سیکھاتی بھی ہوں تو بھی کہیں نہ کہیں یہ نیت لازمی ہوتی ہے کہ اس میں بھی سیکھ رہی ہوں۔
میرے ساتھ میری فیملی کی دعائیں ان کا ساتھ رہا ہے ہمیشہ سے.تمام ادبی دوستوں کا ساتھ رہا ہے ان کی سپورٹ ان کی تعریف، تنقید سے بہت ہمت ملتی ہے.
*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟
بہت کم.مجھے گھومنا پھرنا اتنا پسند نہیں ہے، میرا بس چلے تو میں کبھی ضرورت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلوں مگرر مجھے زبردستی گھمایا ضرور جاتا ہے۔میں کافی جگہوں پر جا چکی ہوں۔کشمیر کے باسی ہوں تو اس کے علاؤہ بات کی جائے جانے کی تو ۔۔۔ اسلام آباد تقریبا سارا ہی دیکھ چکی ہوں۔مشکپوری، گوجرانولہ، کوئٹہ، اور بھی کافی مقبول جگہیں دیکھ چکی ہوں۔سعودی عرب، ترکی اور فلسطین جانا ہے اپنی ایک دوست کے ہمراہ
* آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
زندگی اللہ کی دی ہوئی امانت ہے، جو ہمیں ایک دن لوٹانی ہے۔
*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
جی بالکل زندگی میں ایسا دور بھی آیا کہ ہمیں لگا کہ زندگی رک گئی ہے، یا پھر زندگی کبھی آگے بڑھ پائے گی نہیں، کیونکہ کوئی ایسے خوبصورت رشتے بھی ہوتے ہیں آپ کی لائف میں کہ ان کو دیکھتے ہوئے آپ کی صبح اور ان سے ہی آپ کی زندگی کی شام ہوتی ہو اور جن کے دور جانے کی سوچ بھی آپ کو دکھی کردیتی ہے پھر سچ میں وہ عظیم رشتے آپ کی آنکھوں کے سامنے دور ہو جائیں اور آپ اس معاملے میں خود کو بےبس محسوس کریں تو اس سے بڑی بےبسی، اذیت تکلیف شاید دنیا میں کوئی نہیں۔مگرر ایک چیز جو اس وقت تو آپ کو سمجھ نہیں آتی مگرر اگے جا کر آپ کو موٹیویٹ کرتی ہے اور وہ یہ کہ:”کل نفس ذائقۃ الموت”یہ صرف قرآنی کہ ایک آیت نہیں ہے یہ اس وقت آپ کو صبر بن کر ملتی ہے کیونکہ اس وقت یہ ڈر نہیں ہوتا کہ ہم مر جائیں گے؟ بلکہ یہ دکھ ہوتا ہے کہ ہم کیوں زندہ ہیں؟اور یہ آیت پھر سب مفہوم سمجھا دیتی ہےکہ دنیا تو عارضی ٹھکانہ ہے، اور ایک دن سب نے اصلی زندگی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
*اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟
جی ہاں! سب سے پہلے تو اپوا کی ساری ٹیم کی تہہ دل سے مشکور ہوں کہ ہمیں اتنی عزت بخشی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا۔
اپوا کے ساتھ متعارف ایک دوست(عنیزہ عزیر)
نے کروایا ان کے توسط سے ہی ہم باقی دوست احباب نے اپوا کی انتھولوجی میں حصہ لیا الحمد اللہ کثیرا۔۔
اپووا کا شکریہ کہ اپوا کی ہی بدولت ایک آفلائن دوست(عفراء خان) سے براہ راست ملاقات ہوئی۔ان شاء اللہ آگے بھی سب قلمی دوست کہیں نہ کہیں ضرور ایک دوسرے سے ملیں گے۔
اور اپووا کی جانب سے ملنے والی حوصلہ افزائی، ایوارڈ کی صورت میں ان کے لکھے کو سہرانا یہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہوتا ایک لکھاری کے لیے جب اس کے لکھے گئے لفظوں پر اسے سراہا جائے، اس سے لوگ موٹیویٹ ہوں، اپوا کو اللہ دن رات دگنی چوگنی ترقیاں نصیب کرے اور ایسے ہی تمام لکھاریوں کے لیے اردو ادب کو فروغ دینے کے لیے کوشاں رہے آمین ثم آمین!
* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
کبھی کبھی ہمارے قلم سے نکلے الفاظ دوسرے کے لیے ایک دوا کی طرح بہت مفید ثابت ہوتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ایسا لکھا کریں کہ، اس سے دوسرے سیکھ سیکھیں، موٹیویٹ ہو سکیں، زندگی کی تلخیوں سے باہر آسکیں، جینے کی وجوہات کو پاسکیں،کوشش کریں کہ کہانی، یا افسانہ لکھیں تو اس میں بھی اسلامک اور سنجیدہ موضوعات کا انتخاب کریں،
صرف انتھولوجی میں نام ہونا یا تحریریں پبلش ہونا ہی رائٹر نہیں کہلاتا جب تک کہ آپ کے الفاظ سے کوئی مستفید نہ ہو رہا ہو، تو کوشش کریں کہ ایسا لکھیں کہ اس میں نیو لکھنے والوں اور تمام پڑھنے والوں کے لیے ایک پیغام ہو کیونکہ:جو بھی لکھیں یہ سوچ سمجھ کر لکھیں کہ ہم نہیں ہوں گے مگررر ہمارے الفاظ موجود ہوں گے تو ایسے الفاظ کا انتخاب کر جائیں کہ وہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنیں نا کہ گناہ جاریہ۔
*اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں۔
جی! ویسے تو میں شاعری بہت کم کرتی ہوں شاعری سے میرا لگاؤ کم ہے، مگرر میں نثری شاعری کرتی ہوں اور میری دو نثری نظم جو کہ مجھے بہت پسند ہیں وہ میں آپ سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہوں گی۔
میری پہلی نظم جو کہ ماں کے لیے لکھی :
*(نظم)*
*”ماں“*
میں نے آج سڑک کے بیچ
دھوپ میں پسینے میں
ڈوبی ماں دیکھی،
اس کے چہرے پر اولاد
کی فکر عیاں دیکھی
ہاں! میں نے ایک ماں دیکھی
میں ماں کو محبتوں کی
کتاب لکھوں، تو اس میں
محبتوں کا ہر عنوان اس
کی کل اولاد لکھوں
میں چاہ کر بھی بیاں نہ
کر پاؤں اس محبت کو
جس کے قدموں کے نیچے
خدا نے جنت رکھی
دنیا چاہے مجھ کو دیوانی
ہی کیوں نہ سمجھ بیٹھے
میں ہر روز ماں پر
ایک پورا دیوان لکھوں۔
مجھے میرا لکھا یہ نعتیہ کلام بھی بہت پسند ہے
*”ہم داعیہ رشد و ہدایت ہیں“*
ہم داعیہ رشد و ہدایت ہیں
ہمیں ہدایت کی روشنی جلانی ہے
ہم بنات امت محمد ﷺ ہیں
ہمیں اسلام کا پہرہ لگانا ہے
ہم امت محمد مصطفی ﷺ ہیں
ہمیں اللہ اور رسول کی اطاعت کرنی ہے
ہم اماں عائشہ کی بیٹیاں ہیں
علم سیکھا ہے تو سیکھانا بھی ہے
ہم محافظہ ختم نبوت ہیں
ہمیں درس ختم نبوت پھیلانا ہے
ہم داعیہ رشد و ہدایت ہیں
دیا ہدایت کا سارے جہاں
میں جلانا ہے
ہم فاطمہ الزھراء کی کنیزیں ہیں
ہمیں صبر، محنت، عبادت
کا سبق دوہرانا ہے
اور کبھی اس زیست میں آزمائش
ان پڑے تو الحمد اللہ پڑھ کر
استقامت کو گلے لگانا ہے
*بقلم:*
*داعیہ رشد و ہدایت “*
معزز قارئین امید ہے کہ آپ کو یہ انٹرویو پسند آیا ہوگا اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ا۔ للّٰہ حافظ
516 total views, 3 views today
























Leave a Reply