غزہ جنگ بندی معاہدے پر اسرائیلی کابینہ میں ووٹنگ متوقع، فضائی کارروائی میں مزید 32 فلسطینی ہلاک
ویب ڈیسک — اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی کابینہ جمعرات کو غزہ جنگ بندی معاہدے کا جائزہ لے گی اور اس پر ووٹنگ متوقع ہے۔
امریکہ اور قطر نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت تین مراحل میں جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
اسرائیلی کابینہ نے اگر جنگ بندی معاہدے کی حتمی منظوری دے دی تو اتوار کو معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔
دوسری جانب غزہ کے صحت کے حکام کے مطابق اسرائیل نے بدھ کی شب غزہ سٹی سمیت دیگر علاقوں میں شدید بمباری کی ہے جس میں 21 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں رفح، نصیرات اور شمالی غزہ میں جمعرات کی علی الصباح تک جاری رہیں جس کے نتیجے میں متعدد گھر بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق اسرائیل کی یہ کارروائیاں بدھ کو غزہ جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد کی گئی ہیں۔
غزہ میں فضائی کارروائی سے متعلق رپورٹس پر اسرائیلی فوج نے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی حماس کی جانب سے کسی جوابی کارروائی کی اطلاعات ہیں۔
فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کرانے والے ثالثوں سے رابطے میں رہنے والے فلسیطنی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ثالث فریقین کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد سے پہلے دشمنی ختم کریں۔
واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے پر 19 جنوری سے عمل درآمد ہو گا جس کے تحت فریقین کے درمیان تین مختلف مراحل میں جنگ بندی ہو گی۔
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں نے غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر دہشت گرد حملے کے بعد ہوا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور تقریباً ڈھائی سو کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
حماس کے حملے کے جواب میں شروع کی گئی اسرائیل کی کارروائیوں میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق چھیالیس ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی معاہدہ کیا ہے؟
جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس اتوار کو 33 یرغمالوں کو رہا کرے گی جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور زخمی شامل ہیں۔ اس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید ایک ہزار فلسطینی آزاد کر دیے جائیں گے۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے میں چھ ہفتوں کی جنگ بندی ہوگی جس میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا ہوگا۔ اسی عرصے کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ پہنچنے والی امداد کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے گا۔
تیسرے مرحلے میں مستقل جنگ بندی کے لیے مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جو معاملات زیرِ بحث آئیں گے ان میں غزہ کی تعمیرِ نو اور وہاں حکومت کے قیام پر بات ہو گی۔
اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ معاملات طے ہونا ابھی باقی ہیں جن میں ان فلسطینی قیدیوں کی تفصیلات کا تبادلہ شامل ہے جنہیں اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔
249 total views, 3 views today
























Leave a Reply