پاڑہ چنار کی صورتحال کے خلاف کراچی میں 13 مقامات پر دھرنے: ’پاڑہ چنار کے عوام دھرنے ختم کردے تو ہم بھی کردیں گے‘
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز کراچی میں 13 مقامات پر پاڑہ چنار کے شہریوں کے ساتھ اظہارِ یکہجتی کے لیے احتجاجی دھرنے جاری ہیں جس سے شہر میں معمولات زندگی اور کاوباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے حالات کشیدہ ہیں جس کی وجہ سے علاقے کا باقی ملک سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔
کرم میں راستوں کی بندش کے خلاف پاڑہ چنار سمیت ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج جاری ہے۔
کراچی میں ان دھرنوں کا آغاز جمعرات کی شام کو ہوا جس کے بعد سے شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ نمائش چورنگی کے مقام پر بند ہے۔ دونوں اطراف کی ٹریفک کو متبادل راستوں سے گذارا جارہا ہے۔
ایم اے جناح روڈ پر کراچی کی ہول سیل مارکیٹس، الیکٹرانک مارکیٹس اور گاڑیوں کی اسپیئر پارٹس مارکٹس واقع ہیں جبکہ نصف درجن نجی اور سرکاری ہسپتال بھی اس سے ملحقہ سڑکوں پر موجود ہیں۔
جس مقام پر دھرنا دیا گیا ہے اسی مقام پر بی آر ٹی گرین لائن کا آخری اسٹاپ بھی موجود ہے۔
نمائش چورنگی کے علاوہ کامران چورنگی، جوہر موڑ، گلستان جوہر بلاک 19 اور 20، صفورہ چورنگی، ابو الحسن اصفہانی روڈ، فائیو اسٹار چورنگی، یونیورسٹی روڈ بقام میٹرو شاپنگ سینٹر، شمس الدین عظیمی روڈ ، انچولی شاہراہ پاکستان، نواب صدیق علی خان روڈ چورنگی ناظم آباد نمبر1، پاور ہاؤس چورنگی، عائشہ منزل چورنگی شاہراہ پاکستان پر دھرنے جاری ہیں جبکہ قومی شاہراہ پر ملیر پندہ کے مقام پر ٹرئفک کو کھول دیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور احتجاجی مظاہروں والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔
گزشتہ روز مجلس و حدت مسلمین کے رہنما علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا تھا کہ اگر پاڑہ چنار کی عوام دھرنے ختم کردے تو ہم بھی کردیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی پارٹی کا دھرنا نہیں مظلوموں کا دھرنا ہے۔
علامہ حسن ظفر نقوی نے دعویٰ کیا کہ شہر کے مختلف مقامات پر دیے گئے دھرنوں میں شرکا روڈ کے ایک طرف بیٹھے ہیں اور ایک طرف کا راستہ کھلا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارا چنار میں بنیادی صحولیات کا فقدان ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا پانچ لاکھ کی آبادی کو ایک ہیلی کاپٹر سے غذا فراہم کی جاسکتی ہے؟
دوسری جانب سندھ حکومت اور صوبے میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کراچی میں جاری دھرنوں پر تحظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے پاڑہ چنار کی صورتحال پر وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاق اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں نے پاڑہ چنار کی عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ یہ دھرنے کراچی کے بجائے خیبر پختونخواہ میں دینے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ ان دھرنوں کا مقصد معمولات زندگی کو مفلوج کرنا اور کاروبار کو متاثر کرنا ہے جسے روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر کا دعویٰ ہے کہ ان دھرنوں کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دھرنے والوں نے ڈبل روڈ کی ایک سڑک کھولی ہے لیکن دوسری سڑک بند ہے جس سے آمدرفت متاثر ہو رہی ہے۔
عتیق میر کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس معاملے میں بالکل متحرک نظر نہیں آتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے والے لوگ مقامی ہیں کہیں باہر سے نہیں آئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ان سے مذاکرات کر کے ان مسائل حل کرنے چاہیئیں۔
324 total views, 3 views today
























Leave a Reply