انٹرویو نرجس سید

السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشناء اختر حاضر ہوئے ایک اور انٹرویو کے ساتھ ۔ اس بار ہماری مہمان شخصیت ہیں محترمہ نرجس سید صاحبہ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفت گو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم!

و علیکم سلام! بہت شکریہ آپ نے یاد کیا ۔

*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

12 فروری 1984
کو لاہور شہر میں میری پیدائش ہوئ۔ کیتھیڈرل اسکول ہال روڈ لاہور سے 1998 میں میڑک کیا۔ 2003 میں لاہور گرائمر کالج سے بی-اے کیا۔ جبکہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن سے بی۔ایڈ کا امتحان پاس کیا۔ ایف اے میں میرے اہم مضامین اُردو ادب اور ایجوکیشن تھے اور بی۔اے میں انگریزی ادب اور صحافت تھے۔
میرے والد سید قلب عباس جو کہ پروفیشنلی تو ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر رہے مگر اس کے ساتھ ساتھ شاعر اور نثر نگار بھی تھے. لٰہذا لکھنے اور پڑھنے کا شوق خون میں شامل ہے۔
بچپن میں بچوں کے میگزین تعلیم و تربیت اور پھول باقاعدگی سے پڑھتی تھی۔ شعبہ صحافت کا آغاز صحافت اخبار میں انٹرن شپ سے کیا جس کے بعد سٹی42 نیوز چینل میں بطور نیوز ریسرچر اپنی خدمات سر انجام دیں۔
شادی کے بعد گھریلو اور بچوں کی مصروفیات کو ترجیح دی جس کے باعث نوکری چھوڑ دی۔ 2019 میں سر ظفر عمران کا اسکرپٹ رائٹنگ کورس کیا جس کے بعد دوبارہ سے اپنے کیرئیر پر فوکس کرنے اور ادبی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔
آجکل بطور فری لینسر کانٹینٹ کریئٹر ہوں۔ مختلف یو ٹیوب چینلز کے لیے اسکرپٹ ، ہم سب ویب سایٹ پر بلاگز لکھتی ہوں اور اپوا کی سوشل میڈیا ٹیم کا بھی حصہ ہوں۔

*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟

ادبی شخصیات تو بہت سی پسند ہیں۔ لیکن زیادہ پسندیدہ محسن نقوی اور مستنصر حسین تارڈ۔ جین آسٹن اور الف شفق ہیں۔

*ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

ادب کے فروغ کے لیے مطالعہ کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ قاری کا کتاب سے تعلق کم ہوتا دکھائ دے رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ورلڈ اور سوشل میڈیا پر بھی ادبی کانفرنس کا رجحان قائم کیا جائے تاکہ انٹرنیشل بنیاد پر تمام ادبی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم ہر اکھٹا کیا جا سکے۔

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

فرصت کے لمحات میں میری ترجیح میرے بچے ہوتے ہیں ان کے ساتھ کوئ گیم کھیلنا یا مووی دیکھنا۔ اس کے علاوہ کتاب پڑھنا یا آرٹیکل لکھنا۔

*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
خدا کے علاوہ کسی سے توقعات نہ رکھیں۔ کیونکہ لوگ ہمیں دکھ نہیں دیتے ان سے جڑی توقعات پوری نہ ہونا ہمیں پریشان کرتا ہے۔

* لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

موجودہ پاکستانی معاشرہ تحفظ کے لحاظ سے عوام خصوصاًخواتین اور بچوں کے لیے بہتر نہیں ہے۔ معاشرہ ایسا ہونا چاہیے جہاں گھر سے باہر جاتے ہوئے خوف محسوس نہ ہو۔ اس کے لیے قانونی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟

ابھی تک اپنی کوئ کتاب شائع نہیں ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں ابھی خود کو قاری کی فہرست میں سمجھتی ہوں۔

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟

اب تک دو ایوارڈ حاصل کر چکی ہوں۔

*کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟

ادبی محافل کچھ حد تک تو تقاضے پورے کر رہی ہیں لیکن میرے خیال سے مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

* آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟

کیرئیر کے لحاظ سے دیکھوں تو ابھی بہت کچھ باقی ہے کرنے کو لیکن آج اس مقام پر میں خود کو پُر سکون دیکھتی ہوں کیونکہ جب انسان اپنی شناخت حاصل کر لیتا ہے تو اسے سکون حاصل ہو جاتا ہے جبکہ کچھ لوگ تو تمام عمر خود کی شناخت کے لیے بھٹکتے دکھائ دیتے ہیں۔ اس لیے خود کی معرفت ہی انسان کی اصل پہچان اور مقام ہے۔

*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

بیرون ملک شام، ایران اور عراق زیارات کے لیے متعدد بار جا چکی ہوں۔جبکہ پاکستان کے شمالی علاقہ میں جات ناران کاغان، ہنزہ، گلگت، کالام، شوگران، مری، نتھیا گلی،
وغیرہ شامل ہیں۔

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی ایک مسلسل جدو جہد کا نام ہے، اس جدو جہد میں تھک کر ہار مان جانے والا ناکام ہے۔

*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

زندگی میں اپنے پیاروں کو کھویا خاص کر اپنے والد کے انتقال کے بعد زندگی کو ایک نئے انداز سے دیکھنا شروع کیا۔ جیسا کہ ایک مالا ٹوٹ جائے اور اسے دوبارہ پرویا جائے۔ زندگی بھی کئ بار ایسی ہو جاتی ہے۔

*اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟

اپوا ایک بہترین تنظیم ہے جو کہ نہ صرف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائ کرتی ہے بلکہ سینئر ادب اور آرٹ سے جڑی شخصیات کی عزت افزائی بھی کرنا جانتی ہے۔
اپوا کی پوری ٹیم انتہائ محنتی اور خوش اخلاق ہے۔ تمام لوگ ایک فیملی کی طرح کام کرتے ہیں اور ان کی تنظیم سے جڑنے کے بعد آپ کو اپنایت کا یہی احساس ملتا ہے۔

*لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
آپ کا قلم صرف آپ کے جذبات اور سوچ کے اظہار کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح اور ذہنی صحت کی ذمہ داری کا بھی ضامن ہے۔ اس لیے اپنے قلم سے صرف اپنے ذاتی خیالات نہ لکھیں بلکہ معاشرے کی ضروریات کو بھی اس قلم کے ذریعے اُجاگر کریں۔

*اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

اقتباس “بیٹی پرائی ہوتی ہے”

“بیٹیاں اگر پرائ ہی کرنی ہوں تو ہم انہیں اتنا مضبوط کیوں نہیں بناتے کہ وہ ہر مشکل کا سامنا اکیلے کر سکیں؟ انہیں کیوں طوفانوں میں ایک ٹوٹی کشتی کی طرح بہا دیا جاتا ہے؟ ہم آج بھی زمانہ جہالیت میں ہیں جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج ہے ہم آج بھی بیٹیوں کو سرخ جوڑوں میں دفن کر دیتے ہیں اور پھر ان کے جنازوں کو بوجھ سمجھ کر کاندھا دینا تو دور فاتحہ پڑھنا گوارا نہیں کرتے۔ سسرال اور میکے دونوں گھروں میں ہی یہ جنازہ پرایا سمجھا جاتا ہے۔”

معزز قارئین! امید ہے کہ آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

1,193 total views, 9 views today

One Response to انٹرویو نرجس سید

  1. فائزہ شہزاد says:

    بہت خوب ” روشنا” ایک اور بہت خوبصورت کاوش اسی بہانے نرجس صاحبہ کے بارے میں جاننے کو ملا مگر کچھ تشنگی رہ گئی کچھ اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں ۔۔ بچوں کے ہسبنڈ کے بارے میں ۔۔۔ قاری کو بہت شوق ہوتا ہے کہ وہ رائٹرز اور سلیبریٹیز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانیں ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *