قائد اعظم کا پاکستان اور آج کی حقیقت

پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا۔ آج پاکستان کو بنے 77 سال ہوگئے ہیں جس میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ آج کے پاکستان میں اور قائداعظم کے پاکستان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہر قوم و ملک تب تک ترقی نہیں کر سکتی ہے جب تک وہ اپنے اصول و ضوابط، اپنے ایمان، نیک نیتی، سچ، دیانت داری اور محنت کو بروئے کار لا کر اس پر سچے دل سے عمل پیرا نہیں ہوتے۔
قائد اعظم نے پاکستان کو سچی لگن، محنت، جذبے، مثبت سوچ اور دین اسلام کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سب باتوں پر عمل کیا اور بے شمار مشکلات کے باوجود دن رات کی انتھک محنت اور کاوشوں کی بدولت پاکستان کو وجود میں لائے تھے۔ اس کا ایک نام ایک پہچان بنائی اور بہت حوصلے، ہمت، جذبے اور لگن کے ساتھ پاکستان کی ریاست بڑی کامیابی سے چلائی تھی۔ اتنی محنت کی اور اتنا بہترین ملک چلایا کہ آج تک اس جیسا پاکستان دوبارہ نہیں چل سکا۔ ان کا ایک ہی پیغام رہا اتحاد، تنظیم اور ایمان۔ کام، کام اور بس کام محنت اور ایمانداری سے کرتے رہنا۔ قائد اعظم نے اپنے ساتھ ہمیشہ ان نیک لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی جو اس کے اہل تھے۔ قائد اعظم نے ان کو یہی بات کہی کہ اگر آپ مل کر سچی لگن اور اس جذبے سے کام کریں گے تو ہر فرد چاہے وہ جس بھی جماعت، فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کا کوئی بھی رنگ، برادری یا عقیدہ ہو وہ برابری کے حقوق، فرائض کے ساتھ پاکستان کا پہلا، دوسرا اور آخری شہری بھی ہے تو اس ترقی کی کوئی بھی حد نہ ہوگی جو آپ حاصل کر سکتے ہیں۔ قائد اعظم انصاف اور اصول پسند تھے۔ انہوں نے اپنے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا: کسی تعصب، بغض یا جانبداری اور ترجیح کے بغیر میرا رہنما اصول سب کے ساتھ انصاف اور مکمل غیر جانبداری رہے گا۔ جیسے کہ قرآنی طریق حکومت بھی انصاف ہے
ترجمعہ! “اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔”

آج کے پاکستان کی تلخ حقیقت اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں کسی میں بھی نیک نیتی، سچی لگن، محنت، سچ، ایمانداری، حسن سلوک، بھائی چارہ نہیں ہے۔ کوئی بھی ان باتوں اور اصولوں کو مدِنظر نہیں رکھتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے معاشی حالات بد سے بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ جب تک لوگوں میں سے کینہ، حسد، بغض، جھوٹ، فریب، دھوکے بازی ختم نہیں ہوگی یہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ کسی کو کوئی سہولیات میسر نہیں ہو سکیں گی۔ کوئی بھی اس نظام کو بہتر طریقے سے نہیں چلا سکے گا۔ اس قوم کو مالی مشکلات کا سامنا ہمیشہ کرنا پڑے گا۔ اگر یہاں آج بھی اسلام کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے سب کاموں کو بخوبی نبھایا جائے، سب کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اور سب کے حقوق کو پورا کیا جائے تو اس معاشرے میں بھی امن، محبت اور خوشحالی آ سکے گی۔ ہر انسان عزت، سکون سے رہ سکے گا۔ آج کا پاکستان بھی پر امن بن سکے گا جیسے قائد اعظم کا پاکستان تھا۔
آج کے پاکستان میں بدلنی ہے تو صرف سوچ، ارادہ، سچی لگن، محنت، ایمانداری اور دیانداری پھر ہر کام میں اللہ برکت ڈالے گا اور بہترین خوشحال اور روشن پاکستان بنے گا جو سب کے لیے مثالی ہوگا۔ مسلمانوں نے پاکستان الگ ملک کا مطالبہ ہی اس لیے کیا تھا کہ یہاں آزادی سے رہ سکیں گے، اپنی روایات کے مطابق ہر معاملات چلا سکیں گے کتنی محنت اور خون پسینہ بہانے کے بعد مسلمان پاکستان کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن آج کی حقیقت یہی ہے کہ آج بھی ہم انہی مشکلات میں اگر گھرے ہوئے ہیں اور بدترین حالات سے گزر رہیں ہیں تو یہ ہمارے لیے افسوس ناک بات ہے۔ جو ہم اپنے آزاد ملک پاکستان میں رہنے کے باوجود ایک بدتر زندگی گزار رہیں ہیں۔ جس کو دیکھنے، سمجھنے والا کوئی ہے ہی نہیں اور یہاں جس کا جیسے دل کر رہا پاکستان کو اس سمت پر لے کر چلتا جا رہا ہے۔ عوام اس مہنگائی اور حالات سے اس حد تک مجبور ہوگئے ہیں کہ ہر دوسرا انسان فاقوں اور بے روزگاری پر آگیا ہے۔ بے شمار لوگ امداد، دوائیاں، علاج نہ ملنے کی وجہ سے اپنی جان گنوا رہے ہیں۔ لاتعداد نوجوان نسل تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے ان کے وسائل ہی نہیں کہ وہ تعلیم حاصل کر سیکں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنی آنی والی نسلوں کی بھی احسن طریقے سے پرورش کر سکیں۔ ان کو علم کی آگاہی دے کر اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔ کتنے لوگ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی بےروزگار ہیں ان کو روزگار کی سہولیات میسر نہیں کی جا رہیں۔
یہ ہے اتنا فرق آج کے پاکستان کی حقیقت میں اور قائداعظم کے پاکستان میں۔
نمرہ امین ( لاہور)

13,017 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *