نفسیاتی صحت، ریاکاری اور social media

بد نصیبی یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے غیر سوچے سمجھے زندگی کے خوبصورت پہلوؤں کی تصویر کشی کر کے social media پر share کرتے ہیں جس کی وجہ سے ڈپپسریشن،احساس محرومی،مایوسی، ذہنی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں، خودکشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور psychologicalاور mental صحت پر بہت زیادہ نقصانات ہو رہے ہیں۔ شاید بہت سے لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں وہ کیا کر رہے ہیں۔آپ کو اگر اچھا لگتا ہے کہ آپ اچھے لمحوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تصویر کشی کرتے ہیں تو دوسروں کے ساتھ social mediaپر shareنہ کریں جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔لاشعوری طور پر احساس کمتری کا شکار یا بہت زیادہ سادہ اورخود غرض، ریاکار لوگ اسی حرکات کرتے ہیں ۔ جس میں وہ دوسروں کو اپنی زندگی کے glamorous پہلو social media پر دیکھا رہے ہوتے ہیں۔ حقیقت میں بہت سے اسے گھروں میں لوگ کتؤں اور بلیوں سے بھی زیادہ بدتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔جیسے کھانا کھانے سے پہلے کھانے کی تصویر shareکرنا، گھر جیسے نئی گاڑی خرید لے آئے اس کی تصویر, کسی جگہ پر سیر کے لئے گئے، کہیں اچھے ہوٹل میں کھانا کھایا اس کی تصویر, میری نوکرانی/نوکر کا بنایا ہوا کھانا ہےاس کی تصویر وغیرہ وغیرہ social mediaپر share کرنا۔
زندگی میں سب اچھا اچھا نہیں ہوتا، زندگی میں بہت سے تلخ حقائق بھی ہو تے ہیں ان کو بھی پھر share کرنا چاہئے۔ ورنہ جس معاشرے میں غربت ہو، جہالت ہو، بے روزگاری، کم علمی ہو، نادانی، گھریلو مسائل ہوں، بیماری، افلاس، انایت، نفس پرستی ،ناشکری، ذہنی پریشانیاں ہوں، دین سے دوری ہو اسے معاشرے میں اسطرح کی حرکات سے خودکشی، تشدد اور نفسیاتی امراض کا تناسب بڑھ جاتا ہے ۔مہنگے کھانے، گاڑیاں، سیروتفریح کے دل لوبھا دینے والے منظر social media پر share جو کر رہا ہے ممکن ہے یہ کمائی ظلم، زیادتی، غربیوں کا خون ملا پیسہ کی ہو۔دیکھنے والوں impress ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غربیوں کے خون چوسنے ظلم وزیادتی کی کمائی سے بچا رکھا ہے۔ اور جو لوگ social media پر share کر رہے ہوتے وہ share کرنے پہلے یہ ضررو سوچیں میری share سے کسی کو نفسیاتی اور زہنی تکلیف تو نہیں ہو گی۔اگر شعوری طور یا لاشعوری بےغیر سوچے سمجھے ہر چیز جو لوگوں کے لیے نفسیاتی اور زہنی تکلیف کا سبب ہے social media پر share کر نا چھوڑ دو ۔ ورنہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے انسانوں کے لیے تکلیف کا سبب بنتے ہیں وہ خود بھی خوش نہیں رہ سکتے ۔وہ لوگ جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اور حساب دینا ہے انہیں اور زیادہ احتیاط کرنی چاہیے ۔ہمیں وہ چیزیں social media پر share کرنی چاہیئے جو لوگوں کے لیے useful ہو۔ نہ وہ جس سے دوسروں پر احساسِ برتری دکھانا مقصود ہو ۔قرآن میں ارشاد ربانی ہے جس کا مفہوم یہ ہے۔نہ کسی کے ساتھ ہم بھلا کرتے نہ برا کرتے ہیں۔بھلا کر رہے ہوتے ہیں تو وہ بھی اپنے ساتھ کر رہے ہیں ہوتے اور برا کررہے ہوتے ہیں وہ بھی اپنے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں ۔

1,439 total views, 2 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *