انٹرویو سجاد علی بھنڈر

السلام علیکم معزز قارئین!

میزبان رشناء اختر حاضر ہے ایک اور انٹرویو کے ساتھ ۔ اج کی ہماری مہمان شخصیت ہیں محترم سجاد علی بھنڈر صاحب جو ریونیو جرنلسٹ اور کالم نگار ہیں ۔ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفت گو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم! کیسے ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام! میں ٹھیک ہوں ۔

*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ؟

میں 22 فروری 1973 کو لاہور میں پیدا ہوا اور میرا ستارہ حوت ہے کسی شاعر نے کہا ہے کہ
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
لیکن میں اسے ناامیدی میں شمار کرتا ہوں کیونکہ میں نے ہمیشہ علامہ محمد اقبال کی شاعری کو پسند کیا ہے جس میں ہمیشہ امید کی کرن دکھائی گئی ہے اور الحمدللہ میں نےکامیابی کے یقین کے ساتھ زندگی جہد مسلسل کی طرح کاٹی ہے اور نتائج کا یقین پروردگار کی خوشنودی پر چھوڑ دیا ہے ۔

*جرنلزم کا انتخاب کیوں شوق یا کوئی اور وجہ ؟

بی اے میں جرنلزم پڑھتے ہوئے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ میں کبھی جرنلسٹ بھی بنوں گا ۔ میرا اپنا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھا اور سرکاری نوکری کو میں نے کبھی ترجیح بھی نہیں دی تھی ۔میں حق حلال کا نوالہ کھانا چاہتا تھا اور آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتا تھا. ایک دن قسمت نے پلٹا مارا اور میں امیری سے فقیری کا شکار ہو گیا ۔ تمام کاروبار والد محترم کے حوالے کیا اور خالی ہاتھ علیحدہ ہو گیا ۔
مجھے پیسے کے ساتھ پیسہ کمانا تو آتا تھا لیکن بغیر پیسے کے کمائی کرنا نہیں آتا تھا یعنی ہنرمند نہیں تھا ۔لہذٰا میں نے بڑی خوشی کے ساتھ مشقت کے کاموں کو قبول کیا اور پڑھا لکھا ہونے کے باوجود رکشہ ڈرائیور ۔ پلمبر ۔ ترکھان ۔ گھڑی ساز ۔ سیلز مین اور ڈرائیور بنتے بنتے ایک بار پھر بغیر ڈگری کے انجینئر بن گیا ۔ ایک دوست کے ساتھ مل کر مینوفیکچرر ایکسپورٹر کا کاروبار اور فرنیچر آئٹم کی ایکسپورٹ شروع کر دیا ۔پھر ایک دن وہ کام بھی چھوٹ گیا ۔دوبارہ پلمبر کے کام پر لگ گیا اور کنسٹرکشن کے کاروبار میں ایک دوست کے ساتھ شراکت داری شروع کر دی ۔ بس پھر ایک دن ایک مشہور صحافی بزرگ ہستی ممتاز شفیع صاحب مرحوم کے گھر سینیٹری کا کام کرنے گیا ۔ ممتاز شفیع صاحب ایک صاحب نظر استاد تھے خوش قسمتی سے مجھے شفقت حاصل ہو گئی اور انھوں نے مجھے چائے کی دعوت دی ۔ وہ مجھے اپنے ساتھ پریس کلب کے الیکشنز میں لے جاتے ۔ پریس کلب کی کینٹین میں کھانا کھلاتے اور اپنے صحافی دوستوں سے بھی ملواتے ۔ انھوں نے کبھی اظہار بھی نہیں کیا اور مجھے کبھی اندازہ بھی نہیں ہوا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کیسے کیسے میری آبیاری کر رہے تھے ۔رات بھر چائے کے ڈھابے پر بیٹھ کر کوئی قصہ کہانی یا کوئی واقعہ سناتے سناتے وہ میری نثر نگاری درست کر رہے تھے ۔آداب تحریر سے آشنا کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ ایمانداری ۔ محنت ۔ غریب پروری اور سخاوت پر ثابت قدم رہنے کے لیے نصیحت کر رہے تھے ۔اسی دوران ایک سینئر صحافی روزنامہ پاکستان کے ریونیو رپورٹر عامر بٹ صاحب کے آفس میں بطور ویب چینل انچارج 3 سال تربیت حاصل کی اور 2 سال چھوٹے بھائی گلفام علی بھنڈر ایڈووکیٹ کے ساتھ بطور کلرک کونسل رہا ۔
2020 میں کرونا وائرس نے جہاں ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا وہیں میری زندگی میں بھی ایک نیا موڑ آیا اور میں نے انفرادی حیثیت میں استاد کے فرمائے ہوئے اصولوں پر کار بند رہتے ہوئے مثبت حکمت عملی کے تحت فیس بک پر تحاریر لکھنے کا آغاز کیا ۔جس سے بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی اور پھر ایک دوست نے صدائے وطن اخبار کے ایڈیٹر چوہدری شفقت محسن اور ڈپٹی ایڈیٹر سمیر انور صاحب سے تعارف کروا دیا اور یوں میں صحافی اور کالم نگار بھی بن گیا ۔محترم شہباز اکمل جندران صاحب کی کتاب رپورٹنگ ۔ ایثار رانا صاحب کی زندگی پر لکھی کتاب اخبار فروشی سے اخبار نویسی کا سفرنامہ , علی احمد ڈھلوں صاحب کے کالمز کا مجموعہ ۔ چوہدری شہباز آرائیں صاحب اور اصغر بھٹی صاحب کے کالمز اور نعیم مصطفیٰ صاحب جیسے مدبر اساتذہ کرام کی شفقت حاصل ہونا میرے لیے باعث اعزاز ہے ۔

* پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتے ہیں ؟
ویسے تو ماضی کی سبھی ادبی شخصیات قابلِ احترام ہیں اور جہاں بھی کوئی اچھی بات ملے سبق حاصل کر لیتا ہوں لیکن میں ماضی کی نسبت حال میں موجود زندہ ادبی شخصیات کی صحبت سے فیضیاب ہونے کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں ۔ جیسے کہ پی ٹی وی کے صبح کے پروگرام کے چاچا جی یعنی مستنصر حسین تارڑ صاحب ۔ طارق عزیز مرحوم ۔ دلدار حسین بھٹی مرحوم وغیرہ ۔
میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے استاد نصرت فتح علی خان اور طارق عزیز مرحوم کے پاس بیٹھنے اور گفتگو کرنے کا موقع ملا ۔ گفتگو نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع ملا ۔
علامہ محمد اقبال کی پر امید شاعری سے رغبت کے ساتھ ساتھ حبیب جالب اور ناصر بشیر صاحب بہت پسند ہیں ۔

* موجودہ ملکی حالات نے ادبی محافل کو کس حد تک متاثر کیا ہے ؟

ملکی حالات تو ہمیشہ سے ایسے ہی رہے ہیں ۔صرف آبادی ہی بڑھی ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ثمرات جابجا نظر آتے ہیں ۔ہسپتالوں میں چلے جائیں تو ایسا لگتا ہے ساری دنیا نے ہسپتالوں کا رخ ہی کر لیا ہے ۔ اسی طرح تھانے ۔ کچہری ۔ باغات ۔ میلے یا پھر کسی بھی ہجوم والے مقام پر دیکھا جائے تو لوگوں کا سمندر ہی سمندر نظر آتا ہے ۔بلکل اسی طرح ادبی محافل میں بھی ذوق و شوق رکھنے والے افراد تسکینِ دل کے لیے دور دراز سے غول کے غول امنڈ آتے ہیں ۔

*پاکستان میں مطالبہ منوانے کے لیے احتجاج ضروری کیوں ؟

دراصل احتجاج ایک ضد کا نام ہے اور اچھی ہو یا بری ضد ، ضد ہی ہوتی ہے ۔ضدی لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی ضد پوری نہ ہوئی تو نہ جانے کیا ہو جائے گا ۔اللّٰہ تعالیٰ غریقِ رحمت فرمائے میری والدہ کو انھوں نے ہمیشہ کسی بھی قسم کی ضد کرنے سے منع ہی سکھایا ہے ۔انسان اپنی ترجیحات کو اسباب کے مطابق ڈھال لے تو ضد کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ۔یعنی احتجاج کی ۔کم از کم میں تو کبھی بھی احتجاج کے حق میں نہیں رہا اس لیے اسے پاکستان میں تو کیا کہیں بھی ضروری نہیں سمجھتا ۔بےشک مشیعت الٰہی میں راضی رہنے سے صبر اور شکر کی توفیق حاصل ہوتی ہے .

* فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟

الحمدللّٰہ ! میری چھوٹی سی جملہ فیملی میں ایک عدد صابر و شاکر علم تدریس سے وابستہ عالمہ ۔ قاریہ اور معلمہ بیگم صاحبہ صائمہ سجاد اور ایک ہونہار 12 سالہ بیٹا علی حیدر بھنڈر ہے۔باغ میں سیر و تفریح اور کھیل کود کے ساتھ ساتھ ہم دونوں مل کر بیٹے کی تربیت میں ہی مصروف رہتے ہیں ۔اس کے ساتھ مل کر نظم ۔ نثر ۔ خطابت ۔ کتابت ۔ ریاضت ۔ قرآت اور صحافت سے متعلق مواد سے آگاہی کے لئے اخبار ۔ کتاب اور موبائل سے لیکچرز وغیرہ کے پروگرام دکھا کر شوق پیدا کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ ماشاءاللہ علی حیدر پانچویں کلاس میں ہے اور اس نے پلے گروپ سے ہی فرسٹ پوزیشن کی شیلڈ اور ٹرافی اپنے نام کی ہے ۔

* زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

الحمدللّٰہ ! اللّٰہ تعالیٰ سے ہمیشہ رحم ۔ کرم اور فضل مانگنے اور صبر و شکر کرنے سے کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔

* لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

فردوس کو بھی آنکھ اٹھا دیکھتے نہیں
کس درجہ سیر چشم ہیں کوئے بتاں کے لوگ
لکیر کے فقیر معاشرے کے بارے میں آخر کیا کہا جائے ؟
لوگ اپنے ساتھ تو نیکی کا معاملہ چاہتے ہیں اور ترغیب بھی دیتے ہیں لیکن جب خود کسی دوسرے کے لیے کچھ کرنے کا موقع آئے تو کلیہ بدل لیتے ہیں ۔

* آپ کی اپنی کوئی کتاب شائع ہوئی؟

فی الحال تو میں ایک کالم نگار ہوں اور الحمدللہ اتنے کالم تو ہو ہی گئے ہیں کہ انھیں ایک مجموعہ کی شکل دی جا سکے اگر زندگی نے موقع دیا تو انشاء اللّٰہ اس کے لیے بھی ضرور کچھ کریں گے ۔

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں ؟

الحمدللہ بطور ریونیو جرنلسٹ ڈپٹی کمشنر آفس لاہور کی اسٹاف ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرنے پر ضلع لاہور کا پہلا صحافی ہوں جسے ڈپٹی کمشنر لاہور محترمہ رافعہ حیدر سے اعزازی شیلڈ حاصل ہوئی ہے ۔

* ادب کے فروع کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

میرے خیال میں ادبی کتب اور ادبی محافل کے ساتھ ساتھ سینہ بسینہ ادب کی منتقلی بہت ضروری ہے ۔جو استاد ہیں انھیں شاگرد بنانے چاہئیں اور جو شاگرد ہیں انھیں کوئی نہ کوئی استاد تلاش کر کے سیکھنا چاہیے ۔

* اصل جرنلزم کیا ہے ؟آج ہر دوسرا بندہ بنا تحقیق کے جرنلسٹ بنا ہوا ہے ۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ؟

میرے کالم کے عنوان کے ساتھ بریکٹ میں (میری تحقیق) لکھا ہوتا ہےیعنی میں جو بھی کچھ لکھ رہا ہوں وہ میرے مطابق ایسا ہے ۔ایک کالم لکھنے کے لیے کئی کئی دن سوچنا ۔ گھومنا اور متعلقہ افراد سے ملنا پڑتا ہے ۔دوسری جانب لکھنے والے کی نیت بھی اثر انداز ہوتی ہے ۔ذاتی مفادات ۔ معاشی مفادات اور معاشرتی مفادات آخر لکھنے والے کی نیت کیا ہے ؟ذاتی مفادات والی لکھاوٹ صرف متعلقہ طور پر اثر انداز ہوتی ہے اور بہت جلد ذائل ہو جاتی ہے ۔معاشی مفادات والی تحریر بھی مفادات کے حصول کے بعد بےکار ہو جاتی ہے لیکن اصلاحی معاشرے کی تشکیل کے لئے لکھی جانے والی تحریر اپنے اندر ایک تحریک کو جنم دیتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے ۔ویسے تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ آج کل تحریکی تحاریر کا فقدان پایا جاتا ہے ۔جس کا منہ بولتا ثبوت آج کل کے حالات اور افسوسناک صورتحال ہیں ۔

*سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟

1990 میں میٹرک کرتے ہی والد صاحب کے پاس بنگلہ دیش چلا گیا ۔ وہاں کے بیشتر سیاحتی مقامات کی سیر کی جیسے کہ ڈھاکہ ۔ چٹاگام ۔ ساحل سمندر پتنگا ۔ کپتائی ۔ رانگا ماٹی اور فیضلیک جھیل وغیرہ . کراچی 2 سال رہا وہاں اکثر ساحل سمندر پر ابھرتے اور ڈوبتے ہوئے سورج کا نظارہ بہت پسند تھا ۔
اسلام آباد ۔ مری ۔ کاغان وغیرہ اور کمرشل ڈرائیونگ کے دوران تقریباً سارا پنجاب.

*کیا کالم نگاری میں جھوٹ کا تڑکہ لازمی ہے ؟

میرا یقین ہے کہ جس بات میں جھوٹ شامل ہو وہ اپنی تاثیر سے محروم ہو جاتی ہے وقتی نتائج تو شاید حاصل ہو بھی جائیں لیکن جھوٹ ۔ جھوٹ ہی ہوتا ہے آج نہیں تو کل پول کھل ہی جاتی ہے ۔سچائی کا اصول دیرپا اور صدا بہار ہوتا ہے .

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

الحمدللّٰہ ! یااللّٰہ پاک تیرا شکر ہے.

*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

والد صاحب کاروبار کے سلسلے میں بیرونِ ممالک رہے اور آج بھی بنگلہ دیش میں ہی ہیں ۔2 بڑی بہنو کے بعد سب سے بڑا بیٹا ہوں پانچ چھوٹے بہن بھائیوں اور والدہ کا سہارا بننے کے لیے میرا اپنا بچپن کہیں کھو گیا ۔بچوں کو بچپن میں درپیش تمام خوف۔ خطرات اور خدشات کبھی بھی میری کمزوری نہیں بنے ۔بس حالات کے ساتھ یہ جنگ ہی میری موٹیویشن رہی ہے ۔

* مشہور اخبارات و چینلز پر مخصوص جرنلسٹ کا قبضہ کیوں ؟

یہ سب اپنے اپنے تحفظات ۔ تعلقات اور مفادات کے پیروکار ہیں ۔
کوئی بکتا ہے تو کوئی خریدتا ہے ۔اس اجارہ داری کو صحافت کی بجائے بہترین تجارت کا نام دیا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔تم اپنی مسجد کو جاؤ میں اپنی مسجد جاتا ہوں ۔اس لیے مجھے کبھی بھی ان باتوں پر حیرانگی نہیں ہوئی ۔

* آپ نے حال ہی میں اپووا تربیتی ورکشاپ میں شرکت کی اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گے؟

زبیر احمد انصاری ۔ ایم ایم علی اور دیگر قابل احترام بہن بھائی آپ سب لوگوں کو سوشل میڈیا پر دیکھتے ۔ پڑھتے اور سنتے سنتے میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش کبھی میں بھی ان بڑے بڑے نامی گرامی ۔ عالمی شہرت یافتہ شعراء کرام ۔ لکھاری ۔ محقق ۔ کالم نگار اور نثر نگار ہستیوں میں پہچانا جاؤں ۔اللّٰہ تعالیٰ نے ایم ایم علی بھائی کو وسیلہ بنایا اور اس طرح میں نے اور علی حیدر بھنڈر نے شرکت کی ۔اتنی خوبصورت محفل کہ جس کا بیان لفظوں میں شاید ناممکن ہو ۔
اس قدر خلوص ۔ احترام اور عقیدت کہ نہ تو کوئی افراتفری اور نہ ہی کوئی نفسا نفسی ۔ہر ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی کا پیغام بن کر پیش ہو رہا تھا ۔میری عملی زندگی میں تو اس کے اثرات مجھے واضح نظر آ رہے ہیں انشاء اللّٰہ علی حیدر بھنڈر کی شخصیت میں بھی نکھار پیدا ہو گا ۔جس کے لیے میں خصوصی طور پر اپووا کی پوری ٹیم میں شامل ہر ایک فرد کا دلی طور پر ممنون ہوں ۔اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کو صحت وتندرستی کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے اور ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور اپووا یعنی آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے ۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیں اور لوگوں کے لیے آسانیاں تقسیم کریں ۔ان شاء اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ آپ کی زندگی میں بھی آسانیاں پیدا فرما دے گا .

*اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

علامہ محمد اقبال نے شکوہ ۔ جواب شکوہ لکھا ۔
میں نے بھی غالبًا 30 سال قبل “شکوہ عاشق ”
لکھا تھا ۔ اسی کے چند بے وزن اشعار پیش خدمت ہیں ۔

گر ترے عشق کا پیمانہ رکھنا تھا وسیع
عمر کا کیوں مری تنگ پیمانہ رکھا
گر میری راہوں میں کھلانے تھے پھول کاغذ کے
مہک کا کیوں مرے سامنے افسانہ رکھا
گر ہر چیز سے پردہ تو ہٹا دیتا ہے اے خدا
کیوں حسین چہروں پہ لازم
پردے کا گرانا رکھا
گر عشق برائی ہے تو مجھ کو یہ بتا
پھر کیوں تو نے اپنے لیے اس عشق کا پیمانہ رکھا
گر ہر برائی کی سحر اس عشق سے ہوا کرتی ہے
پھر کیوں اس عشق کو درمیان زمانہ رکھا

آخری شعر میرے تخلص (ساغر) کے ساتھ

میں تو اس عشق سے تنگ آ گیا ہوں ساغر
جس نے بندے کے لیے خدا کو خدا نہ رکھا

معزز قارئین امید ہے کہ آپ کو یہ انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

1,104 total views, 3 views today

One Response to انٹرویو سجاد علی بھنڈر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *