انٹرویو جاوید انور

اپووا ویب میزبان رشنا اختر حاضر ہے ایک بہترین انٹرویو کے ساتھ ۔ آج ہمارے ساتھ جو مہمان شخصیت موجود ہیں انہیں علمی و ادبی میدان میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔ انہوں نے بہت کم عرصے میں اپنی ادبی پہچان کروائی ہے ۔ محترم محمد جاوید انور صاحب عمدہ شاعر اور بہترین افسانہ نگار ہیں ۔
محترم جاوید انور صاحب 1959 کو سیالکوٹ کے گاؤں بوبک مرالی میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق تعلیم یافتہ اور ادبی گھرانے سے ہے ۔ والد محترم محمد انور انگریزی زبان و ادب کے معلم تھے ۔ ماموں منظور احمد (مرحوم ) اپنے دور کےافسانہ نگار تھے ۔ انہی کے ہمراہ محمد جاوید انور صاحب نے متعدد بار پاک ٹی ہاؤس میں حلقہ اربابِ ذوق سے خوب استفادہ کیا ۔ محترم محمد جاوید انور صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب و لسانیات میں ماسٹرز کیا ۔ 1982 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ۔ 2019 میں وفاقی سیکریٹری/ چیئرمین پاکستان ریلویز ریٹائر ہوئے ۔
محترم جاوید انور صاحب کی اہلیہ ڈاکٹر عفت جاوید پروفیسر ڈاکٹر ہیں ۔ بڑی بیٹی کنزا جاوید اور دو بیٹے اسد جاوید اور سعد جاوید ہیں ۔ کنزا جاوید کو انگریزی ناول نگاری میں مہارت حاصل ہے اور وہ صرف انگریزی میں ہی لکھتی ہیں ۔ انہوں نے انیس سال کی عمر میں انگریزی ناول” Ashes Wine and Dust” لکھا جو نئی دہلی بھارت سے شائع ہوا اور دنیا بھر میں مقبول ہوا ۔
تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے لیجنڈ رائٹر محترم محمد جاوید انور صاحب سے مزید گفت گو کرتے ہیں ۔

السلام علیکم!

وعلیکم السلام! بہت شکریہ آپ نے یاد کیا ۔

* لکھنے کا آغاز کیسے ہوا ؟

لکھنے کا آغاز تو زمانہ طالب علمی سے ہی کیا چونکہ ادبی گھرانہ تھا تو پڑھنے لکھنے کا یہ ادبی سلسلہ جاری رہتا تھا ۔ اپنی تقریریں خود لکھتا تھا ۔

* پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتے ہیں ؟

میرا مطالعہ مخصوص ادبی شخصیات تک محدود نہیں ۔ دُنیا بھر کے ادب میں سے جو پسندیدہ یا اہم میسر آجائے پڑھتا ہُوں ۔

* آپ کی ادبی تصنیفات کے نام ؟

تصنیفات

۱-اگر تُم لوٹنا چاہو (شاعری) ۲۰۱۶(دو ایڈیشن)

۲-برگد(افسانے)۲۰۱۷(دو ایڈیشن )

۳-کئی منظر ادھورے ہیں (شاعری) ۲۰۱۷

۴۔سرکتے راستے(افسانے)۲۰۱۸(دو ایڈیشن)

۵-سُنو اے جاگنے والو(شاعری)۲۰۱۹
۶۔اکتارہ (شاعری) ۲۰۲۱

پاکستان اور بھارت کے بہت سے ادبی رسائل میں افسانے اور شاعری تو اتر سے چھپ رہے ہیں ۔

افسانوی مجموعہ “ برگد” کا ہندی ایڈیشن بھارت میں شائع ہو چُکا ہے ۔

* ترقی یافتہ ممالک میں ادب کے فروغ کے لیے ریلوے اسٹیشن یا میٹرو بس میں بک کارنر بنائے گئے ہیں پاکستان میں ایسی سہولت کیوں نہیں؟

ہمارے یہاں بھی ریلوے اسٹیشنوں پر اور بڑے لاری اڈوں پر بُک سٹال ہوا کرتے تھے ۔ہر بڑے شہر یا قصبے کے ریلوے اسٹیشن پر بُک سٹال لازماً موجود ہوتا تھا ۔پھر کتب ، رسائل پڑھنے کا چلن کم ہوتا گیا ۔ ریلوے اسٹیشنز کے تو ٹی رُوم شہر کے پڑھنے لکھنے والوں کے ملنے کی جگہ ہوتے تھے ۔ مال روڈ لاہور پر کتنی ہی کتابوں کی دکانیں ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے بند ہو گئیں ۔
چیزیں بدل جاتی ہیں ۔ اب دنیا بھر کی کتابیں ، بلکہ لائبریریاں آپ کے سیل فون میں آ براجمان ہوئی ہیں ۔ جب اور جس وقت جی چاہے جیسی جی چاہے کتاب کھول کر بیٹھ جائیں ۔ ای بُکس ، پی ڈی ایف ورژن آ گئے ہیں ۔ کتنے ہی رسائل کاغذ پر چھپنا بند ہو گئے ۔
مطالعہ کے ذرائع ، شکل و صورت بدل گئی ہے ۔ لوگ اب بھی پڑھتے ہیں لیکن طور طریقے بدل گئے ہیں ۔ ایک اردو افسانہ جرمنی میں موجود افسانہ نگار لکھ کر فیس بُک پر ڈالتا ہے اور ساری دنیا میں موجود افسانہ کے قاری اور نقاد اگلے ہی لمحے وہ پڑھنا شروع کر سکتے ہیں ۔حلقوں کے آن لائن اجلاس منعقد ہوتے ہیں ۔ یہ چیزیں یہ ذرائع جدید ہیں ۔ بدلتے حالات میں کچھ نیا آتا ہے تو کچھ پرانا چلا بھی جاتا ہے ۔

* زندگی میں سب سے مہنگی کتاب کون سی خریدی اور کب خریدی ؟

مہنگا سستا ہونا دستیاب سرمائے پر منحصر ہے ۔ ایک زمانے میں ہم لاہور بھر کی کتابوں کی دکانوں ،پرانی کتابوں کی دکانوں اور فٹ پاتھوں پر کتابیں ڈھونڈتے چھانٹتے پھرتے تھے ۔ پھر یہ جنون کم ہو گیا ۔
میری ذاتی چھوٹی سی لائبریری ہے جس میں موجود ہر چھوٹی بڑی اور مہنگی سستی کتاب میرے لئے بہت قیمتی ہے۔ سب کی تاریخ یاد نہیں ۔

* فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟

مجھے باغبانی کا بہت شوق ہے ۔ گھر میں میسر باغیچہ میرے دستیاب وقت کا بہترین مصرف مہیا کرتا ہے ۔ میں نے گھر کے باھر اپنی کالونی کی سڑک پر بھی کافی درخت پودے لگا رکھے ہیں ۔میرا بہترین وقت ان پودوں کی دیکھ بھال ، ان پر پرندوں کا آنا جانا دیکھنے میں صرف ہوتا ہے ۔ پڑھتا ہُوں ۔ ٹیلی وژن شوق سے دیکھتا ہُوں ۔

* زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

جواب :۔ کوئی ایک مخصوص سبق تو میں نہیں سیکھ سکا ۔ زندگی اتنی سیدھی اور محدود نہیں ۔ روز سیکھتے ہیں ۔ یہ مسلسل عمل ہے ۔

* لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

لوگ ہر طرح کے ہیں ۔ موجودہ معاشرہ ویسا ہی ہے جیسے ہم ہیں ۔

* اُردو اور انگریزی ادب میں بنیادی فرق کیا ہے ؟

کوئی فرق نہیں ۔ ادب بس ادب ہے ۔ پنجابی ہو ، اُردو ہو ، انگریزی ہو یا رُوسی ,فرانسیسی ،جاپانی ، چینی ۔موضوعات پر مقامی سیاسی ، معاشی ، معاشرتی عوامل کا اثر ہوتا ہے ۔ بنیادی طور پر ادب تو ادب ہی رہتا ہے ۔

* کیا انگریزی ادب کا بھی کوئی غالب ہے ؟

نہیں۔مرزا اسد اللہ خان غالب ایک ہی تھے جو فارسی اور اُردو میں لکھتے تھے ۔
انگریزی ادب کے اپنے عالی شان شعرا اور ادبا ہیں ۔ بہت بلند پایہ ۔ بے مثل ۔ لازوال ۔
کسی کا کوئی مثل نہیں ہوتا ۔ سب منفرد اور یکتا ہوتے ہیں ۔ تقابل روا نہیں ۔

* انگریزی زبان میں آۓ روز ایک نیا لفظ شامل ہورہا ہے اس سے ادبی اصناف اور لفظی تاریخ پر کیا اثر پڑے گا ؟

ادب ساکن ہے نہ زبان ۔ سب کچھ بدلتا ہے ۔ یہی قدرت کا چلن ہے ۔ زندہ چیزیں متحرک ہوتی ہیں اور زبان اور ادب زندہ چیزیں ہیں ۔
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

* کیا اردو زبان میں بھی انگریزی کی طرح نت نئے الفاظ کا اضافہ ہو رہا ہے بطور ماہر لسانیات آپ کی کیا رائے ہے ؟

جی بے شک ۔ اب تو یہ تبدیلی تیز تر ہو گئی ہے ۔

* اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں ؟

ایک بھی نہیں ۔مجھے یہ شوق ہی نہیں ۔اگر کہیں کبھی نامزدگی ہوئی اور بلایا بھی گیا تو میں نے معذرت چاہی ۔

* سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟

دنیا کے بہت سے مقامات ۔ گنوانا مشکل ہے ۔

* آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی تو بس زندگی ہے

* زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

ایسا کوئی واقعہ کوئی چیز یاد نہیں آ رہی ۔

* ادبی طبقہ معاشی حوالے سے بہت پیچھے ہے ۔ آپ ادباء کی ترقی کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں ؟

کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا ۔
ہمارے ملک میں ادبی طبقے کو ادب ہی پر معاشی انحصار کی بجائے گھر گھر ہستی ، باعزت طریقے سے ، چلانے کے لئے کچھ اور کام دھندہ بھی کرنا ہوگا ۔ یہاں تو ایک آدھ پبلشر کے سوا کوئی لکھنے والے کو رائلٹی تک نہیں دیتا ۔
سوچ لیجئے کہ کتنے ادیب شاعر ہونگے جن کا باورچی خانہ ان کے قلم کی بدولت چلتا ہو گا ۔
ساتھ مزدوری لازم ہے ۔

* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

سلامت رہیے ۔ لکھتے رہیے ۔

* اپنی شاعری جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

ہر پھُول پہ قدغن کہ تری شکل پہ نکلے
ہر زخم پہ لازم کہ ترا دست نگر ہو

مُجھ سے مل کر مکان یُوں رویا
جیسے میری طرح ہی خالی ہو

تُو بشر کب ہے تُو قیامت ہے
کوئی دیکھے تُجھے بپا ہوتے

اے مرے زُود فراموش کسی شام ڈھلے
پھر نکل آؤ کبھی کر کے بہانہ کوئی

کس لئے صید کرے گی کوئی خواہش ہم کو
گر نہ بھائے ہمیں اس دام میں دانہ کوئی

میری پرواز پر ہے پابندی
جانے پھر میرے بال و پر کیوں ہیں

جب کئے ہیں یہ تیری مرضی سے
جُرم پھر سارے میرے سر کیوں ہیں

فریبّ آرزُو سے جان چھُوٹی
نہ دل باقی ہے نہ دلدار باقی

ہم وضع داروں کی ہیں مجبُوریاں
ڈُوبنے کو بھی سفینہ چاہئے

یہ سُن لیا کہ جہاں چار دن کا میلہ ہے
نہ بار بار ڈراؤ، لو ہم نے چھوڑ دیا

اگرچہ رات اندھیری ہے اور طوفاں ہے
جو بُجھ گیا ہے تو کیا اب دِیا دِیا نہ رہا

اُسی کے فیض سے ملتی ہے شعر کی سوغات
وہ ایک شام جو بے آسرا گزرتی ہے

مُجھے مسدُود کر کے رکھ دیا ہے
ہر اک رستہ بنا تیری گلی کیا

اب ملاقات ایک کام ہُوئی
یہ محبت بھی یُوں تمام ہُوئی

اُسے ہے راس یہ دائم مرا رکوع و سجُود
مری رضا سے وُہ بُت خُوب بہرہ مند ہُوا

ایک مدت سے تیرے در پر ہُوں
ایک مدت سے در بدر ہُوں میں

وہاں کچھ راکھ ہے اور دائرے ہیں
جہاں کچھ لوگ کل بیٹھے ہُوئے تھے

بے نیازی ہے ترا وصف مگر اے قادر
بھُول مت ان کو یہ حضرت ترے شہکار بھی ہیں

ہم نے اُس وصل کو جب کاٹ لیا عُجلت میں
فُرصتِ ہجر میں سو طرح کے ارماں سُوجھے

کیوں خواہ مخواہ زیست کو زنداں بیاں کریں
گزری ہے عُمر اپنی تو اک دلربا کے ساتھ

ہم بھی کایاں ہیں نہیں اتنے بھی سادہ یارو
بنتے جاتے ہیں تو وُہ ہم کو بناتے جائیں

تُم نے بھی بس وقت گزارا میں نے بھی بس باتیں کیں
تُم اس کو گر سچ مانو تو میں بھی یہ اقرار کروں

ایک بے سمت سی اداسی ہے
اور بے چین دوڑتے ہیں ہم

اک بلا کُوکتی ہے گلیوں میں
آؤ سارے سمٹ کے بیٹھ رہیں

جو ہُوا ہو چکا مگر اے دل
کوئی اچھا نہیں ہُوا جو ہُوا

وہ بے نیاز ہے گر اپنے گھر سے واجب ہے
میں اپنی فکر کروں ، اپنے گھر کی فکر کروں

مُجھے نہیں تری پروا یہ بتانے کو
ہزار بار مجھے اس کے در پہ جانا پڑا

قہقہوں میں کھنکتی تنہائی
ہائے ہم لوگ کتنے تنہا ہیں

جانا ہے جس نے جائے کہاں روکتے ہیں ہم
لیکن یہ کیا کہ در پہ کھڑے کوستے رہیں

وہ کسی اور ہی جہان سے تھا
ورنہ پھر بھی کہیں ملا ہوتا

وہ کسی اور کی تلاش میں تھا
میں یہ سمجھا مجھے ملا ہے وہ

کتنے لوگوں سے پیار کر لوں گا
اتنی چھوٹی سی زندگی میں بھلا

میں تری کھوج میں نکلتا ہُوں
اپنی ہر سانس کے تعاقب میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معزز قارئین امید ہے کہ یہ بہترین انٹرویو آپ کے ادبی ذوق و شوق میں اضافے کا باعث بنا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ ۔

978 total views, 3 views today

2 Responses to انٹرویو جاوید انور

  1. Sajjad ali bhinder says:

    بہت خوب

  2. غزالہ منصور says:

    ماشاءاللہ ۔۔بہت اچھا انٹرویو رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *