انٹرویو ریاض احمد احسان
السلام علیکم معزز قارئین!
میں ہوں رشنا اختر معروف ادبی تنظیم آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کی میزبان اور حاضر ہوں بہترین انٹرویو کے ساتھ ۔ اس بار اپووا کے مہمان ہیں
” محترم ریاض احمد احسان صاحب” جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ جن کا شمار ملک کی مشہور و معروف شخصیات میں ہوتا ہے ۔ تو چلیئے وقت ضائع کیے بغیر بڑھتے ہیں انٹرویو کی جانب
السلام علیکم
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ!
*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
*الحمد للہ! میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ اللہ رب العزت نے مجھے کائنات کی ہر نعمت اور انعام سے نواز رکھا ہے-ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی پھر چھٹی کلاس میں اپنے آبائی قصبے بصیرپور کے ایک معروف ادارے جسے منظور اسلامک اکیڈمی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ویاں داخلہ لیا، ساتویں کلاس میں دوبارہ لاہور آمد ہوئی اور پھر میٹرک سے باقی تعلیم لاہور سے ہی مکمل کی، تعلیمی سلسلہ معاشی عدم استحکام کے سبب رکتا رہا،مجھے ایک حادثے کے نتیجے میں کاروبار سے جڑنا پڑا سو یاد رہے کہ میں نے میٹرک شادی کے بعد کی-زندگی بڑی ہنگامہ خیز رہی ہے، کبھی خواب نہیں دیکھے، ہمیشہ تعبیریں دیکھنے کی کوشش کی اور چھوٹی عمر میں جو چاہا، جو سوچا اور جو جیسا چاہا اللہ رب العزت نے ویسا ہی کردیا- بنیادی اعتبار سے میں ایک درمیانے درجے کا بزنس مین ہوں، سیاست میں نظریے کی بنیاد پر آیا اور ایک موقف و بیانیہ رکھنے کی وجہ سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے بانی اراکین میں شمار ہوتا ہوں،جماعت کی قیادت نے مجھ پر میری صلاحیتوں سے بڑھ کر نوازشات کیں، شفقت کا مظاہرہ کیا اور مجھے اتنا معتبر اور باوقار کیا کہ لاشمار ٹی وی پروگراموں، بڑے بڑے اجتماعات اور یہاں تک کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی و مذیبی جماعتوں کے ساتھ مل کر ہونے والی تکبیر کانفرنس جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اسکی نظامت کی ذمہ داری مجھے سونپی جو میری آنے والی نسلوں تک کے لیے باعث فخر و افتخار ہے-میں نے لمبے عرصے تک مختلف قومی اخبارات میں کالمز لکھے، کالم نگاروں کی عالمی تنظیم ورلڈ کالمسٹ کلب کے پہلے چیف آرگنائزر کے طور پر چار سال تک ذمہ داریاں نبھائیں اور اب بطور جوائنٹ سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور ذمہ داری ادا کر رہا ہوں-پنجاب پولٹری ٹریڈرز ایسوسی ایشن میری مدر آرگنائزیشن ہے سو وہاں بھی بطور نائب صدر اپنے فرائض منصبی ادا کر رہا ہوں-ادب سے بے ادبی بھی کرتا رہتا ہوں سو آپ مجھے خوش نصیب کہہ سکتے ہیں کہ مجھے عزت، شہرت، دولت اور خود سے جُڑے ہوئے لوگوں کا پیار ملا اور خوب ملا بلکہ میرے حق اور طلب سے بڑھ کر ملا-*
*آپ کا بچپن کیسا گزرا ؟
بچپن کا ذکر آتے ہی آبدیدہ سا ہو جاتا ہوں کہ حالات نے چھوٹی عمر میں مجھے ذمہ دار انسان بننے پر مجبور کردیا یا سنجیدہ انسان بنا دیا البتہ میری شرارتیں سنجیدگی کو شکست دینے میں اکثر کامیاب رہی ہیں- میرا ایک شعر یے کہ
جواں رُتوں میں بھی بچپن کی طرح ہر لمحہ
کھلونے دیکھ کے اندر کوئی مچلتا رہا
*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتے ہیں ؟
مجھے آغا شورش کاشمیری نے سب سے زیادہ متاثر کیا البتہ واصف علی واصف،ڈاکٹر اظہر وحید،آفتاب جاوید، شہزاد نئیر،خواجہ جمشید امام، حسین مجروح اور آپا حمیدہ شاہین کو اہتماماً پڑھتا ہوں، یہ ہستیاں ڈپریشن ختم کرنے کی میڈیسن ہیں.
*سیاست سے وابستگی کب ہوئی ؟
*سیاست تو میرے اندر ہی کہیں موجود تھی،مجھے جس ہستی سے عشق ہے وہ سیاست میں نہیں تھی، میں ہر ملاقات میں ان کے روبرو یہ درخواست کرتا کہ آپ کی سماجی خدمات، نظریہ پاکستان کے جام گھول گھول کر پلانے والا گفتار،خدمت انسانیت والا کردار، اسلامیت، انسانیت اور پاکستانیت سے محبت کا پرچار کرنے والا آفاقی نظریہ سیاسی جدجہد کرنے اور قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونے پر اُبھارتا ہے،میرے ہم آواز اس عظیم ہستی کے لاکھوں کارکن بھی تھے سو چار سال پہلے انہوں نے سیاسی جماعت بنائی اور میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت کا کارکن پھر انکی شفقت کی بدولت اہم عہدے پر فائز ہوا سو اب انکی شفقت اور اعتماد کے بھروسے پر خدمت نفس کی بجائے خدمت انسانیت کرنے والی، نظریہ پاکستان کا پرچار کرنے والی اور ارض پاک کو عالمی سازشوں سے بچانے،آئی ایم ایف کے چنگل سے بچانے،قوم کو فتنہ خوارج سے آگاہ کرنے اور تمام پاکستانیوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے والی سیاست کا حصہ ہوں*
*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟
*مجھے کتاب پڑھنا بہت پسند ہے،دوستوں سے ملنا، مہمان یا میزبان بن جانا بھی پسند ہے اور کبھی کبھار تو کچن میں جاکر کوکنگ کرنا بھی اچھا لگتا ہے*
*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
*محبت، خلوص، احترام اور اسی قبیلے سے جڑے جذبات انوسٹ کرتے رہیں، صلے کی تمنا یا توقع دل شکنی کا سبب بنتی ہے سو انسانوں سے توقعات اور صلے کی تمنا کے بغیر تعلقات نبھائیں-دوستوں کو آزمائش کی بھٹی سے گزارنا ایک جرم ہے اور اس جرم سے اجتناب کرتا ہوں-*
*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
*ہمارے چار سو معاشی عدم استحکام ہے بلکہ ہر سو معاشی عدم استحکام ہے، لوگ ہاتھ میں ترازو لیے پھرتے ہیں کہ وہ آپ کا وزن کر لیں بس ہمیں کسی ترازو میں خود نہیں تُلنا کہ خوشیوں، مسرتوں اور آسودگیوں کے تو ہزاروں دوست ہیں لیکن تلخیوں، مصیبتوں اور مشکلوں کے لمحات آپ کو تنہا ہی گزارنے ہیں سو عزم تازہ سے جسم باندھ کر اپنے مرنے تک جینا ترک کر دینا دانش مندی نہیں سمجھتا-ہمیں معتبر، باوقار اور باصلاحیت سماج ملا ہے بس ہمیں اپنے حصے کی شمع جلائے رکھنی ہے*
*سیاسی جلسے سیاحتی اور ذاتی جلسوں میں بدل گئے ہیں ایسا کیوں ؟
*ہماری سیاست کو میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ ایجنٹو کریسی قرار دیتا ہوں، یہاں خوشامدی ہی خوشامدی ہیں، یہ خوشامد دراصل لفظوں کی رشوت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں باصلاحیت لوگ نگلے جاتے ہیں-ہمارے عہد میں سیاسی جماعتوں پر خوشامدیوں اور مفاداتی طبقے کا قبضہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے جبکہ نظریاتی لوگ پہلے اپنی ہی جماعت میں کچلے جاتے ہیں اور بعد ازاں ایسے نظریاتی لوگوں کو مافیاز بھی نشان عبرت بنا کر رکھ دیتے ہیں-مفاداتی لوگ نظریاتی لوگوں کے بارے میں گمراہ کن پراپوگینڈا کرتے،انکے اخلاص کو مشکوک بناتے اور انکی وابستگی کو ختم کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے رہتے ہیں-نالائق لوگ لائق لوگوں سے خوفزدہ رہتے ہیں اور اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے نظریاتی لوگوں کی وابستگی کچی کرنے کا عمل ایک تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہیں-جس سیاست میں نظریہ ہوگا اس سیاست کو تفریحی سیاست قرار نہیں دیا جا سکتا اور ان سیاسی جلسوں میں آنے والے لوگ سیاحت کے لیے نہیں بلکہ قوم، ملک اور سلطنت،دو قومی نظریے، آئین پاکستان کے نفاذ اور پاکستان بنانے کے عظیم مقصد سے جانکاری حاصل کرنے کی تقریبات قرار پائیں گی-*
*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں ؟
*یہ تو یاد نہیں ہے البتہ مختلف سیاسی و سماجی اور مذہبی تنظیموں نے بے پناہ محبت اور شفقت کا اظہار کیا جسے میں اپنی قابلیت سے زیادہ سمجھتا ہوں*
*صف مخالف میں جب اپنے ہوں تو کیا کرنا چاہیئے ؟
*ردعمل دینے سے گریز کرنا چاہیے، عجلت میں ردعمل بالکل نہیں دینا چاہیے،مشکل کیفیت گزر جاتی ہے لیکن عمل یا ردعمل باقی رہتا ہے سو تاریخ صرف انہیں لوگوں کو باقی رکھتی ہے جو برداشت، ایثار اور مہربانی کے جذبوں کا جمالیاتی روپ بنے، استقامت کا مظاہرہ کرنے والے باقی رہتے ہیں سو ردعمل دینے سے گریز ہی بہتر ہے کہ اصل جیت زخم کھا کر مسکرانا ہے*
*موجودہ ڈیجیٹل دور میں ڈیجیٹل شخصی آزادی کسی حد تک وبال جان بن گئی ہے اس کو کیسے کنٹرول کیا جاۓ ؟
*آج کل ہمیں مین اسٹریم میڈیا کے بعد ڈیجیٹل و پرنٹ میڈیا کا بھی سامنا ہے، یہاں پر کسی کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں-ہم نے سماج نہیں بنایا، انسان نہیں بنائے سو ایسے معاشرے میں یہ آزادیاں فقط تخریب کاری ہی کریں گی، یہ آزادیاں انہی معاشروں میں مثبت رویوں کا اظہار اور کارگر ثابت ہوسکتی ہیں جن معاشروں میں برداشت، اخوت، بھائی چارے، تعمیر اور مثبت سوچنے والے لوگوں کی اکثریت ہو بلاشبہ یہ آزادیاں ہمیں اللہ رب العزت نے دی ہیں، تاجدار شعورﷺ نے دی ہیں،آئین پاکستان نے دی ہیں لیکن ان آزادیوں کا درست استعمال کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے اگر ان آزادیوں کا درست استعمال کیا جائے تو ہماری کوششیں تبلیغ کہلائیں گی وگرنہ یہ عمل سوائے تخریب کاری بلکہ فکری تخریب کاری کے کچھ نہیں*
* سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟
*بالکل نہیں* *غیر ضروری سفر پسند نہیں کرتا*
*ایک سیاست دان کی اصل کامیابی کیا ہوتی ہے ؟
*کسی بھی سیاست دان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی پر بلاامتیاز کردار ادا کرے، کامیاب سیاست دان منزل کی طرف اشارہ کرکے یہ نہیں بتاتا کہ دیکھو وہ منزل ہے بلکہ اپنے چاہنے والوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں منزل پر پینچا کر کہتا ہے کہ یہ منزل ہے،ایک کامیاب سیاست دان کامیاب انسان بناتا ہے، قائد بناتا ہے، آئین و قانون اور ضابطوں کو مخلوقات کے لیے مفید بناتا ہے*
*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
*زندگی وہ انعام ہے جس کا حق دار جینے والا بھی ہے، جینے والے سے وابستہ افراد بھی ہیں اور یہ معاشرہ بھی سو اسے ہر حق دار کے لیے جینا ہی زندگی ہے*
*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
*ابھی تک اسی دور کے اثرات میں ہوں،ایک محبوب شخصیت کے بے وقت اس فانی دنیا سے چلے جانا میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا اور ہے، اس سانحے کے میری زندگی پر گہرے اثرات ہیں-ان اثرات کو زائل کرنے کے لیے اس کی قبر کو محبت کا مزار قرار دے کر زندگی آسان کر لی ہے-صاحب مزار نے دنیا میں جو جو چھوڑا اسے اپنا کر اس کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش میں لگا ہوں- بقول راکب مختیار کہ دکھ یہ ہے،میرے یوسف و یعقوب کے خالق* *وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے*
*عمومی خیال ہے کہ سیاست کار خیر کم اور آڑے خیر زیادہ ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟
*میں نے تو ہمیشہ اللہ رب العزت سے یہ دعا کہ یا اللہ مجھے وہ کہنے کی توفیق دینا جس میں میرا عمل سب سے زیادہ ہو سو ہماری سیاست خدمت انسانیت پر مبنی سیاست ہے اگر ہماری سیاست بارے شواہد اکھٹے کرنا ہوں تو اندرون سندھ بلکتی اقلیتی برادری سے ملیے،بلوچستان میں پانی کی بوند کو ترستے حلقوم سے پوچھیئے،زلزلوں، سیلابوں اور قدرتی آفات میں گِھرے دردمندوں سے پوچھیئے-الحمد للہ! ہماری سیاست انسانوں کو ریاست اور انسانوں سے جوڑنے والی ہے سیاست ہے،ہم ریاست پر حملہ کرنے والی سیاست کے قائل نہیں، ہم گالم گلوچ کی سیاست کو دفن کرنے کے لیے آئے ہیں،ہم انسانوں پر انسانیت نچھاور کرنے والی سیاست کے داعی ہیں سو کردار کے ساتھ کھڑے ہیں*.
*ادبی طبقہ معاشی
حوالے سے بہت پیچھے ہے ۔ آپ ادباء کی ترقی کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں ؟
ہمارا علمی و ادبی طبقہ بلاشبہ معاشی بدحالی کا شکار ہے اور ہم نے بھی فقط انہی لوگوں کو شاعر و ادیب ماننے کی نیت باندھ رکھی ہے جن کے بال الجھے ہوئے، عینکیں ٹوٹی ہوئیں،چہروں پر جھریاں،پیٹ کمر سے لگا ہوا اور وجود ٹی بی کے مریضوں ایسا— ہم کسی تن درست،خوش لباس اور دلکش انسان کو شاعر و ادیب ماننے کے لیے تیار ہی نہیں سو پہلے ہمیں ذہنوں سے تخلیق کاروں کی اس تصویر کو ختم کرنا ہوگا پھر انکی زندگی میں انکی خدمات کا اعتراف کرنے کی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی-ہمارے عہد کے تخلیق کار بھوک سے نہیں عدم توجہ سے مر رہے ہیں سو پہلے ان پر توجہ پھول نچھاور کرنے ہوں گے، انہیں قرنطینہ سے نکال کر محفلوں میں لانا ہوگا، انکے کام کو سراہنا اور لوگوں کے سامنے لانا ہوگا تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں . انہیں انکی تخلیقات کا معاوضہ دیا جائے، انہیں بھکاری نہیں باوقار تخلیق کار بنانے کے لیے انکی تخلیقات خریدی جائیں اور مہنگے داموں خریدی جائیں تاکہ یہ معاوضے انہیں اجرت لگیں بھیک نہیں .
*لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
*آپ لکھا کریں ، جتنا لکھ سکتے ہیں – آپ پڑھا کریں ، جتنا پڑھ سکتے ہیں-آپکے زاویہ فکر و نگاہ میں جو حیرتیں ہیں، آفات ہیں اور جو حوادث ہیں انہیں قلمبند کیجیئے تاکہ آئندگاں آپکے عہد میں سسکتی، بلکتی، تڑپتی اور ایڑیاں رگڑتی انسانیت کے پرخچے شمار کر سکیں- آپ سب سے پہلے ان موضوعات پر اساتذہ کی تحریریں اور اساتذہ کا کلام پڑھیں جن سے آپ متاثر ہیں یا جو موضوعات آپ کو متاثر کرتے ہیں-آپ علم حاصل کریں، مطالعہ کریں اور اس مطالعے کو اپنے الفاظ کاروپ دے کر اپنی وال پر سجائیں اس دلکش اور پر مغز عمل سے آپکا ظاہر ہی نہیں باطن بھی سنور جائے گا-آپ واقعات ، حکایات اور حوادث کو کہانی میں ڈھالنے کی کوشش کیا کریں کہ کہانی پڑھنے والے کو بہت متاثر کرتی ھے اور قاری بھی مختلف مجالس میں بیان کر کے لطف اٹھاتا اور داد و تحسین کے پھول سمیٹتا ھے*
*اپنی شاعری جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔
اس قدر وقت اگر لوٹ کے آنے میں لگا
ایک عرصہ تو مجھے رستہ بنانے میں لگا
اتنی مقدار سے بن سکتا تھا تازہ سورج
جس قدر خون چراغوں کو جلانے میں لگا
ایک مدت میں گرفتار غم رزق رہا
اک زمانہ مجھے بےکار زمانے میں لگا
منتظر خواب کی تعبیر کا ھے برسوں سے
بے بصر آنکھ کا پیوند سرہانے میں لگا
زندگی بھر کا سبھی اپنا اثاثہ صاحب
شعر کہنے میں لگا شعر سنانے میں لگا
کھل بھی سکتی ہیں مرے عہد کی آنکھیں احسان
جس قدر زور ھے احساس جگانے میں لگا
——————–
مجھے وہ لفظ لکھنے ہیں
کہ جن لفظوں کے معنی
پہن کر پاؤں میں گھنگھرو
ہمیشہ رقص کرتے ہوں
کسی بلھے کی صورت
چراغاں ایسا کرنا ہے
جہاں مادھو کے مرشد کی
کوئی کافی کوئی دوہا
ورق دل کا امر کر دے
مجھے بیلا بسانا ہے
وہ وارث شاہ کا بیلا
جہاں ونجلی کی سُرتانیں
حقیقت کی گرہ کھولیں
مجھے باہو کی ھُو جیسی
اُسی ھُو کی تمنا ھے
میرا دل جس کی آمد سے
کہ اللہ ھُو پکار اُٹھے
*ادبی تنظیم اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گے ؟
اپوا اپنی دیگر سسٹر آرگنائزیشن سے اس لیے بھی منفرد و ممتاز ہے کہ یہاں طلباء بھی اساتذہ کی سنگت میں بیٹھتے ہیں،ادب پرور احباب بھی جلوہ افروز ہوتے ہیں اور تخلیق کار بھی حکمت و دانش کے موتی لٹاتے ہیں-اپوا علم کدے میں ڈھلتی وہ ادبی تنظیمی ہے جس میں اسلامیت کا وقار مقدم رکھا جاتا ہے، انسانیت کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور پاکستانیت کا پرچار بھی خوب کیا جاتا ہے-اپوا کی تقریبات اس احساس کو تقویت دیتی ہیں کہ یہاں کوئی بڑا اور کوئی چھوٹا نہیں ہے، سب قابل احترام ہیں-مسلم امہ کے مسائل سے بچوں کے ادب تک اپوا نے ہر محاذ پر ایک مضبوط موقف اور بیانیہ پیش کیا ہے،وطن عزیز میں فرقہ واریت کا خاتمہ ہو یا شجر کاری مہم کا آغاز،حرمت رسول ﷺ کا معاملہ ہو نظریاتی سرحدوں کی نگہبانی کا معاملہ اپوا کے سرپرست اعلیٰ عزت مآب زبیر انصاری،بانی صدر برادرم ایم ایم علی اور اپوا کی پوری ٹیم قوم،ملک اور ریاستی اداروں کو توجہ دلاو نوٹس دیتی آئی ہے سو بلاشبہ اپوا اس وقت وطن عزیز میں بلا شرکت غیرے حکمت و شعور اور آگہی کے چراغ جلانے والی تنظیم کے طور پر موجود ہے
معزز قارئین! امید ہے آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ
1,488 total views, 3 views today
























ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت اچھا انٹرویو رہا ۔ بہت مزہ آیا پڑھ کے ماشاءاللہ ۔
ما شا اللّٰہ بہت خوب ریاض بھائی اِس تحریر سے کہیں زیادہ عمدہ انسان ہیں۔
This is a person with a very beautiful introduction.