انٹرویو تسنیم جعفری
السلام علیکم معزز قارئین!
ایک بار پھر حاضر ہیں ایک بہترین انٹرویو کے ساتھ اور میں ہوں رشنا اختر معروف ادبی تنظیم آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ادبی ویب سائٹ کی ہوسٹ ۔ آج ہماری مہمان شخصیت زیادہ تر سائنس فکشن لکھتی ہیں اور یہی منفرد لکھنے کا انداز ان کی وجہ شہرت بنا تو جناب آج کی ہماری مہمان شخصیت ہیں محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ تو چلیئے وقت ضائع کیے بغیر بڑھتے ہیں انٹرویو کی جانب ۔
*السلام علیکم
وعلیکم السلام، بہت شکریہ کہ آپ نے یاد کیا۔
*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
میرا تعلق بچوں کے ادب سے ہے ،سائنس فکشن لکھتی ہوں ، سائنسی اور ماحولیاتی حوالے سے زیادہ لکھتی ہوں جس کی ہمارے معاشرے کو بہت ضرورت ہے ۔
*آپ کا بچپن کیسا گزرا ؟
بچپن بہت اچھا گزرا الحمد للہ، لیکن عام بچوں سے ذرا مختلف، ذرا سنجیدہ سا۔
*ادب سے لگاؤ کی وجہ ؟
گھر میں ماحول بہت پڑھا لکھا تھا ، کتابیں بہت پڑھی جاتی تھیں ۔ لیکن یہ چیز تو کسی بھی آرٹ کی طرح فطرت میں ہی ہوتی ہے کسی کے کہنے سے پیدانہیں ہوتی، پالش ضرور ہوجاتی ہے۔
*قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟
شاید سکول کے زمانے سے ہی ، کیونکہ میں انگلش کہانیوں کے ترجمے کرلیا کرتی تھی، پھر معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر بھئ لکھنے کو دل کرتا رہتا تھا۔ باقائدہ طبع زاد کہانی 2003 میں لکھی جو سائنس فکشن تھی اور فورا ہی پھول میگزین میں شائع ہوگئی ، اور کئئ میگزینز نے کہا کہ اسطرح کی کہانی ہمارے لیے بھی لکھیں۔ تبھی سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔
*پہلی سائنس فکشن کہانی کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا ؟
پہلی ہی کہانی سائنس فکشن تھی جو اسی وقت پھول میگزین میں شائع ہوگئی تھی ، اس وقت اختر عباس صاحب پھول کے ایڈیٹر تھے ،انہوں نے مجھے فون کیاکہ آپکی کہانی اشاعت کے لیے منتخب کرلی گئی ہے، بہت اچھی سائنس فکشن ہے ایسی ہی کہانیاں مزیدلکھیں کیوںکہ انکی بہت ضرورت ہے۔
*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟
لکھنے پڑھنے کے لیے استعمال کرتی ہوں، کیونکہ لکھنے کے لیے پڑھنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے، اسکے علاوہ مختلف لکھاریوں کی بھی بہت سی کتب معالعے اور تبصرے کے لیے موجود ہوتی ہیں ۔ یا پھر واک کرتی ہوں۔
*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
زندگی کا دیا ہوا ایسا کوئی خاص سبق یاد نہیں ، کیونکہ جو لوگ استاد کے بتائیے ہوئے سبق کو اور والدین کی دی ہوئی تربیت کو یاد رکھتے ہیں زمانہ انہیں کوئی نقصان یا تکلیف نہیں پہنچا سکتا بلکہ عزت دیتا ہے ۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔
*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔ ان کے بارے میں کیا سوچنا۔ البتہ معاشرے کے حوالے سے پریشانی ہوتی ہے کہ وہ منفی سمت میں چل پڑا ہے جس کو صحیح سمت میں لے جانے کے لیے ہر فرد کو کوشش کرنا ہوگی ،صرف حکومت یا ادارے کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ اگر حکومت سدھارنے پر آگئی تو ایسے سخت قوانین وضع کرنے پڑیں گے کہ عوام چیخ اٹھے گی ، بہتر ہے کہ خود ہی سدھر جائے۔ جب آپ اپنے ملک سے باہر نکل کر دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ الحمد للہ ہم بہت مزے میں ہیں ، لاقانونیت، خود سری اور من مانی میں پاکستانی قوم کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
*سائنس فکشن ہی کیوں کوئی اور صنف کیوں نہیں ؟
فی زمانہ اس کی بہت ضرورت ہے۔ سائنسی ادب کی ترویج کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا ، ترقی تو دور کی بات ہے ماحولیاتی تبدیلیوں سے بھی خود کو نہیں بچا سکتا۔جیسے آج کل فضائی آلودگی اسقدر بڑھ گئی ہے کہ اس نے صحت کے ساتھ ساتھ انسانی ذہنوں پر بھی اثر کرنا شروع کردیا ہے جو خطرناک بات ہے ، آگہی کی سخت ضروری ہے۔
*آپ کی اب تک کتنی کتب شائع ہوچکی ہیں،اور کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟
اب میری 24 کتب شائع ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں میرا چین کا سفر نامہ شائع ہوا ہے جو بہت پسند کیا جارہا ہے۔
30 کے قریب مختلف ایوارڈز اور شیلڈز مل چکی ہیں ،جن میں سب سے اہم یو بی ایل ایوارڈ 2022، پہلا ڈاکٹر جمیل جالبی ایوارڈ 2023 ، نیشنل بک فاؤنڈیشن صدارتی ایوارڈ 2024۔ اس کے علاوہ اخوت ایوارڈ، ابابیل ایوارڈ، پریس فار پیس ایوارڈ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایوارڈ، ڈپٹی نذیر احمد ایوارڈ، پروفیسر دلشاد کلانچوی ایوارڈ، معمار وطن ایوارڈ وغیرہ
*موجودہ دور سائنس کی ایجادات سے بھرپور ہے ایسے میں ادبی محافل اور ذوق پر کیا اثر مرتب ہوا ہے ؟
دیکھیئےسائنسی ایجادات انسانوں کی آسانی کے لیے ہوتی ہیں اور ادیب بھی انسان ہوتا ہے۔ سائنسی ایجادات کے ساتھ معاشرہ اور اس کے طور طریقے بھی تو ڈیجیٹلائز ہوئے ہیں نا ، اب ادبی محافل بھی آن لائن ہوتی ہیں ، ادیبوں کو بھی یہ سائنسی سہولت اچھی لگتی ہے کہ باقائدہ تقریب میں جانے کا وقت کسی کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ ان سائنسی سہولیات سے سبھی فائدہ اٹھا رہے ہیں ، فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں ملاقات ہوجاتی ہے سب ادیبوں کی۔ آپ میرا یہ انٹرویو بھی آن لائن لے رہی ہیں جسے میں یونی کوڈ میں لکھ کر آپکو کاپی پیسٹ کردونگی۔ کیا اسکا تصور دس بارہ سال پہلے تک تھاکہیں۔۔؟لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب اتنے عادی ہوگئے کہ اب کوئی ایڈیٹر ہاتھ کی لکھی تحریر منظور نہیں کرتا سب ان پیج اور یونی کوڈ مانگتے ہیں، اور میں بھی پچھلے بیس سال سے ان پیج پر ہی لکھ رہی ہوں اپنا تمام میٹر۔
تو جناب اب تو ادب اور ادیب بھی ڈیجیٹلائز ہوگئے ہیں شکایت کیسئ ۔ اسی میں ترقی کا راز ہے۔
*سائنسی گیجیٹس نے کتب بینی کی راہ میں کس حد تک خلل ڈالا ہے اور یہ خلا کیسے پر کیا جاۓ ؟
بالکل بھی خلل نہیں ڈالا، جو کتب بینی کے شوقین ہیں وہ اب مطالعہ کے لیے یہی گیجٹس استعمال کرتے ہیں جن کی مدد سے کتب تک رسائی آسان ہوگئی ہے ، اب آپ کو کتاب حاصل کرنے کے لیے لائبریری یا بک اسٹور تک نہیں جانا پڑتا نہ ہی اس کے لیے کسی کے پاس وقت ہے۔ لہذا گیجٹس سے آسانی ہی ہوئی ہے ۔ مثبت سوچیں تو ہم ترقی کر رہے ہیں۔ جب قرآن آپ آن لائن پڑھنے لگے ہیں تو کتاب کیوں نہیں۔۔؟
*اہل ادب اندرون لاہور کو بہت پسند کرتے ہیں ایسا کیوں جبکہ لاہور کے چپے چپے میں تاریخ رچی بسی ہوئی ہے؟
مجھے تو نیا لاہور زیادہ پسند ہے ، باقیوں کا پتہ نہیں۔دراصل ادب اطفال سے تعلق رکھنے والوں کا مزاج دیگر شاعروں ادیبوں سے مختلف ہوتا ہے۔
*زمانہ طالب علمی میں خود کو کہاں دیکھتی تھیں اور آج اپنے آپ کو کہاں دیکھتی ہیں ؟
جب طالب علم تھی تو خود کو ڈاکٹر دیکھتی تھی ، لکھاری بننے کا دور دور کوئی تصور نہیں تھا۔
*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
“زندگی ایک نعمت ہے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ”
*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
دو سال پہلے والدہ کا انتقال ہوا ہے ، زندگی کا مقصد ہی کھو گیا ہے ، ابھی تک خود کو موٹیویٹ نہیں کرپائی ، جینے کا مقصد نہیں مل رہا۔
*خواتین کو سپورٹ کرنا کس حد تک ضروری ہے جبکہ ہمارا معاشرہ زیادہ مرد پرور ہے۔؟
آج کل تو خواتین اتنی سپورٹ کی جا رہی ہیں کہ مردوں سے آگے نکل چکی ہیں۔
بحر حال کہیں کسی کو ضرورت ہو تو سپورٹ کرنا ہی چاہئے۔
*اس سائنسی دور نے اکیلے پن کو پروان چڑھایا ہے خصوصاً نئی نسل مزاجاً کوئی اور ہی مخلوق بن گئی ہے ایسا کیا کیا جاۓ کہ انسان انسانیت سے نہ گرے ؟
سب کچھ والدین کے ہاتھ میں ہے ، جس طرح سے بھی بن پڑے اپنی اولاد کی بہتر تربیت کریں۔ بچپن سے ہی انہیں خصوصی توجہ دیں تنہا ہونے سے بچائیں۔ چھ ماہ کے بچے کے ہاتھ میں مصروفیت کے لیے گیجٹس دیئے جائیں گے تو بڑا ہوکر وہ کتاب کیسےپڑھے گا ، اب تو ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ 14 سال سے کم عمر بچے کے لیے موبائل کا استعمال انتہائی خطرناک ہے ۔
جتنا آپ اپنی اولاد کو جانتے اور سمجھتے ہیں کوئی اور نہیں سمجھ سکتا ۔ اولاد خراب ہوجائے تو نقصان بالآخر والدین کا ہی ہوتا ہے۔۔۔بس یہی سوچ سامنے رکھ کر تربیت کریں گے تو بہتر نتائج ملیں گے
*آپ نے اپووا کانفرنسز میں بھی شرکت کی ہے ۔ اپووا تنظیم کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی ؟
اپووا ایک بہترین ادارہ ہے جو ادیبوں کی ویلفئیر کے لیے کام کر رہا ہے۔ اپووا کا ٹیم ورک بہت اچھا ہے، خصوصا ایم ایم علی علی بھائی ،حافظ زاہد بھائی اور سرپرست زبیرانصاری صاحب بہترین انسان ہیں اور ادب کے لیے انکی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔
*نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام؟
بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے لیکن نئے لکھاری بہت اچھا کام کر رہے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ادب کا مستقبل روشن ہے ، اسی طرح محنت اور لگن سے کام کرتے رہیں۔
آپ کا اور اپووا کی پوری ٹیم کا بے حد شکریہ کہ آپ نے مجھے اظہار خیال کا موقع دیا ۔ خوش رہیں .
معزز قارئین یہ تھا ہمارا آج کا انٹرویو امید ہے آپ کو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ
666 total views, 3 views today
























اپووا ٹیم کا بہت شکریہ جو ادیبوں کی ویلفئیر کے بہت لگن سے کام کر رہے ہیں۔