انٹرویو نمرہ ملک
السلام علیکم معزز قارئین میں ہوں رشنا اختر معروف ادبی تنظیم اپووا کی ویب سائٹ ہوسٹ اور حاضر ہوں ایک بہترین انٹرویو کے ساتھ آج ہماری مہمان شخصیت ہیں
” نمرہ ملک صاحبہ”
تو چلئیے بغیر وقت ضائع کیے انٹرویو شروع کرتے ہیں ۔
السلام علیکم
وعلیکم السلام
.کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
میرا نام نمرہ ملک (RS) ہے۔نک نیم جیا ہے۔23جون کو پیدا ہوئی اور سٹار کینسر ہے جس کی ساری خوبیاں مجھ میں موجود ہیں۔میں اپنے ضلع چکوال اب ضلع تلہ گنگ کی پہلی خاتون ورکنگ نیشنل جرنلسٹ ہوں اور راولپنڈی ڈویژن میں پہلی خاتون عہدے دار صحافی ہوں۔تحصیل پریس کلب کی میں چیئرپرسن بھی ہوں۔میں انٹر پریٹر ہوں، کالمنسٹ،افسانہ و ناول نگار،کانٹینٹ رائٹر ہوں۔ملٹی لینگویجز شاعرہ ہوں۔شاعری میں پندرہ مختلف زبانوں کا استعمال کر چکی ہوں۔میری پانچ مختلف زبانوں میں پندرہ کتب آچکی ہیں۔سفر نامہ نگار بھی ہوں۔اس کے علاوہ کمپئیر بھی ہوں۔میرے کالمز پہ سوموٹو ہو چکے ہیں۔میرے علاقے تلہ گنگ کے کئی ناممکن پراجیکٹس میرے کریڈٹس پہ ہیں۔ان میں بائی پاس پہ سو موٹو اور اپنے گاؤں کی طویل سڑک بالخصوص قابل زکر ہیں۔الحمد للہ۔
مجھے تمام بڑے قومی چینلز اور اداروں کے ساتھ جرنلزم کا اعزاز حاصل ہے۔اس وقت میں پریس فورم میڈیا گروپ تلہ گنگ کی ایڈمن بھی ہوں۔کئی ادبی،و سماجی تنظیموں سے وابستگی ہے۔قلمکاروں کی فلاح کے لیے بنی ایلاف قلم کی صدر ہوں۔
میرا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ میں آن لائن تفسیر پڑھاتی ہوں اور حافظہ کے ساتھ عالمہ بھی ہوں۔الحمدللہ
.اب تک کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ؟
میں پندرہ کتب کی مصنفہ ہوں۔
میری پانچ مختلف زبانوں میں کتب ا چکی ہیں۔
میری کتابوں کی تفصیل ۔
مینڈی روح دے یوسف۔(پنجابی شاعری)
شاہ سائیں(ناول)
دریچہ (کالمز)
کہیں تھل میں سسی روتی ہے(ملٹی لینگویجز نظمیں)
بہ نوکِ خار می رقصم(فارسی کلام)
مرحبا یا سیدی(عربی کلام)
کتاب زیست(ناول)
عشق کی تال تا تھیا!!(ناول)
آؤ خواب خواب کھیلیں(اردو غزل)
ah my dreams!!(انگلش )
مائے نی (پنجابی ماہیا،)
6.(افسانے)
مرشد خانہ (سفر نامہ)
میں کملی دا ڈھولا(اردو ،پنجابی ناولٹ،افسانے)
پیمانہ بدہ(فارسی کلام)
من محرم کہ رب محرم(ناول۔۔۔زیرتکمیل)
جیا عالم ہے (زیر تکمیل مجموعہ افسانے)
. بچپن کیسا گزرا ؟
میرا بچپن بہت خوبصورت دور تھا۔والد صاحب چونکہ پاکستان آرمی سے منسلک رہے ہیں اس لیے ان کے ساتھ دنیا دیکھنے کا خوب موقع ملتا رہا۔یہ میرے بچپن کی سب سے خوبصورت یادیں ہیں۔میں بہت معصوم اور بھولی بھالی ہوا کرتی تھی جس وجہ سے مجھے “بھولی” کہہ کر بلایا جاتا تھا۔اج کل کی طرح ہمارے والدین برگر نہ تھے بلکہ انہوں نے ہمیشہ کھلاؤ سونے کا نوالہ،دیکھو شیر کی نگاہ کا فارمولہ ہمیشہ اپنائے رکھا۔میری دادی جنت مکانی بہت بڑی مدرس تھیں۔ ان کے درس میں سیکنڑوں طلباء قرآن پاک پڑھتے تھے،اس لیے گھر کا ماحول ہمیشہ مذہبی رہا۔حلال ہمیشہ گھٹی میں رہا اور کھوٹ،جھوٹ،بد دیانتی وغیرہ سے ہمیشہ ڈر رہا۔مرشد والد صاحب میرے بہترین دوست رہے اور آج بھی ہیں ۔اللہ کریم والدین کا سایہ سلامت رکھے آمین
. ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے ؟
جس لڑکی نے خاندان سے بغاوت کر کے چھپ چھپ کے پڑھا ہو،اس سے زیادہ ادب کی کسے قدر ہو گی!۔میری ذاتی لائبریری میں اس وقت بھی بیس ہزار سے زیادہ کتب موجود ہیں۔اور ان میں ہر ہفتے اضافی ہوتا ہے۔تبصرہ کے لیے کتب آتی رہتی ہیں۔
.قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟
میری پہلی کہانی کلاس ہفتم میں “پھول” رسالے میں شائع ہوئی تھی جس پہ بہت ڈانٹ بھی پڑی۔کیونکہ ہمارے یہاں لڑکیوں کےلکھنے پڑھنے کا بالکل رواج نہیں تھا۔اس کے بعد چھپ چھپ کر اور نام بدل کر شوق پورا کرتی رہی۔تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے سرپرست اعلیٰ طارق ملک کا اس سفر میں سب سے شاندار کردار رہا ہے۔میں آج جو کچھ بھی ہوں،اس ایک شخص کی وجہ سے ہوں۔
تھوڑا سا اپنی یونیورسٹی لائف کے بارے میں بتائیے.
میں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماس کمیونکیشنز کیا ہے ۔ماسٹرز ان اردو بھی وہیں سے کیا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ۔بی ایڈ بھی کیا۔
اس کے علاوہ پاک فورسز کے تھرو میڈیکل کورسز بھی کیے اور سیلاب کے دوران بحثیت ایک میڈیکل آفیسر خدمات بھی سر انجام دیں۔جس پہ مجھے پرائڈ آف پرفارمنس دیا گیا۔
. پہلی کہانی کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا ؟
ڈان سے لے کر اب 92 تک مجھے ہر بڑے ادارے کے ساتھ لکھنے اور کام کا موقع ملا۔لیکن بچوں کے معروف رسالے “پھول” میں پہلی کہانی “میں شہزادی ہوں” لکھی تھی جس پہ خوب ڈانٹ پڑی اور دنوں میں گھر والوں سے چھپتی رہی۔ اس وقت سب سے بڑا خواب یہ ہی ہوتا تھا کہ بہت سا پڑھوں،لکھا کروں اور جب مر جاؤں تو میرے کتبے پہ بھی میرے گاؤں کا نام پہلے اور قلم گا نام بعد میں لکھا ہو ۔بہت منت سماجت اور بھوک ہڑتال کے بعد ہائی سکول تلہ گنگ داخلہ ہوا اور پھر وہیں سے میٹرک کیا،اس دوران بزم ادب کی بلا مقابلہ جنرل سیکریٹری رہی اور ڈرامے وغیرہ خوب لکھے،تقریریں اور بے وزن شاعری بھی کرتی تھی۔اور یہ شعر لکھنا ہمارے ہاں سب سے بڑا گناہ تھا۔اس پہ بڑا کچھ دیکھنے اور سننے کو ملتا تھا۔لیکن فنکار کے جسم و جان پہ یہ سب تمغے تو سجتے ہی ہیں۔سو میں نے لکھا اور خوب ہی لکھا۔ہر طرح کی صنف میں آزمائی کی اور ہر طرح سے کامیابی نے قدم چومے۔
. فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟
گھر میں میرے والدین اور فیملی ،میرا بلبل میری سب سے بڑی مصروفیت ہوتے ہیں جن کے معاملے میں مجھے کوتاہی بالکل برداشت نہیں ہوتئ ۔ریڈنگ،مصوری اور کچھ نہ کچھ لکھ کر وقت گزارتی ہوں۔عموما کتب پہ تبصرہ ہی لکھتی ہوں فرصت کے اوقات اب کم ہی ملتے ہیں۔۔اس کے علاؤہ گھر ہوں تو ککنگ اور سلائی میرے دو بڑے مشاغل ہوتے ہیں ۔مجھے رنگوں سے کھیلنا اچھا لگتاہے۔میری بڑی خواہش ہے کہ میں مصور منیر ڈھرنال کی شاگردی کروں۔اور الحمرا میں میری پینٹنگز کی نمائش ہو۔
. زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آپ کو اپنے مرے بغیر جنت نہیں ملا کرتی۔اپ جب تک خود قدم نہ بڑھائیں گے،دنیا اپکو تسلیم نہیں کرتی۔ہاں آپ تحمل،خاموشی اور ارد گرد کے بھونکتے کتوں پہ بنا پتھر اٹھائے چلتے رہیں تو منزل ضرور آپ کے قدم چومتی ہے۔
.لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟
آپ تب تک اچھے ہیں جب تک آپ کا وقت اچھا ہے۔اور لوگ تب تک اچھے ہیں جب تک آپ اچھے ہیں۔یہ دنیا ہے اور یہاں اچھے برے ہر طرح کے لوگ ملیں گے۔اپ پہ ڈیپینڈ کرتا ہے کہ آپ ان کی لایعنی باتوں کو مثبت لیتے ہیں یا منفی۔۔۔الحمد للہ مجھے کامیابی کی ہر سیڑھی پہ اچھے لوگوں کا ساتھ ملا۔میں نے ہمیشہ عزت دینا سیکھی اور جوابا عزت پائی۔کہیں مجھے حاسد اور مفاد پرست ملے تب بھی میں نے ان کو جوابا احترام ہی دیا ۔یہ ان کا ظرف وہ کیا دیں اور یہ میرا ظرف ہے کہ میں اپنی خاندانی تربیت کا کیسے مان رکھتی ہوں۔سچ پوچھیں تو مجھے ان سطور کے زریعے ان کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ نہ وہ مجھے ہٹ کرتے اور نہ میں مزید آگے بڑھنے کی دھن لے کر دوڑتی۔الحمد للہ مجھے طارق ملک،مصور منیر ڈھرنال،سردار امتیاز خان،ریاض انجم ،جعفر ماجد،زبیر انصاری ،ایم ایم علی،ڈاکٹر صائمہ جبین ،محمد بن اکبر جیسے ہیرے لوگ ملے جنہوں نے گھٹنوں کے بل رینگتی جیا کوہاتھ سے پکڑ کر چلنا سکھایا اور بین الاقوامی سطح پہ نمرہ ملک بنا دیا۔ڈاکٹر صائمہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ خدا وندی ہے جو ہمیشہ مجھ سے دھونس دے کر کام کروا لیتی ہے۔میتی کئی کتب مجھ سے پہلے صائمہ کی محبتوں کی مقروض ہیں۔
موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
معاشرہ برا نہیں ہوتا۔ہم برے ہوتے ہیں۔ہم معاشرے بناتے ہیں۔معاشرتی طور پہ ہم بہت جلدی کسی بھی حساس مسلے پہ گھر باہر لٹا دیتے ہیں ۔جیسے زلزلے،سیلاب وغیرہ قدرتی آفات اور حادثات میں ہم جیسا کوئی درد مند نہیں ۔دوسری طرف اپنے حقوق کی جنگ اور معاشرتی سطح پہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بے انتہا بے حسی کا شکار ہیں۔ہم نے پاکستان بننے سے اب تک انتہائی بے حسی سے اپنے حقوق کا استحصال کیا ہے اور مہنگائی کے بحران سے لے کر سیاست کی بد اعمالیوں تک بہت مردہ قومیت کا مظاہرہ کیا ہے۔اس کے علاؤہ اخلاقی بے راہ روی اور بچوں کے جنسی استحصال کی بڑی مثالیں روز ملتی ہیں جس پہ اک حساس انسان کڑھتا ہی ہے۔
.کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری نہ ہوتیں تو کیا ہوتیں ؟
میں نے میڈیکل پڑھا ہے۔میں آرمی آفیسر ہوتی اور اس وقت جنرل شاہدہ ملک کی طرح ایشیاء کی شان بڑھا رہی ہوتی۔(ہاہاہاہا) مجھے یونیفارم پرسنز سے عشق ہے۔اور یہ عشق مجھے قبلہ والد صاحب جنہیں میں مرشد کہتی ہوں،سے گھٹی میں ملا ہے۔اس عشق میں میں نے بڑی تکلیفیں دیکھی ہیں۔بڑے دھوکے کھائے ہیں۔پاک آرمی گواہ ہے کہ میرا عشق آج بھی زندہ یے۔
اس کے علاوہ میں نے اسلامیہ کالج میں پڑھایا بھی ہے۔لکھنے کے ساتھ ساتھ پڑھانے کا یہ سفر تقریباً تیرہ سال تک رہا۔ یا پھر مجھے آرٹ سے گہری دلچسپی ہے سو میں فنون آرٹ کے ہی کسی شعبے میں ہوتی
.اب تک کتنے ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں ؟
قومی،صوبائی اور علاقائی ایوارڈز یافتہ ہوں۔
پرائڈ آف پرفارمنس ہوں
انٹرنیشنل حجاب ایوارڈ یافتہ ہوں
ریڈیو ،ٹی وی اور مختلف چینلز سے لاتعداد شیلڈز،ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس مل چکے ہیں جن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے۔حالیہ ملٹی لیگنوہجز نظمیہ کتاب “کہیں تھل میں سسی روتی ہے”کو گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جب کہ ملک بھر میں اس پہ چار گولڈ میڈلز،اٹھارہ پزیرائیاں اور سترہ شیلڈز مل چکی ہیں۔اس کتاب کی رونمائی معروف لکھاری مستنصر حسین تارڑ کے ہاتھوں ہو چکی ہے۔
شاہ سائیں” ناول کو پاکستان کا 2020ء کا بیسٹ رائٹر ایوارڈ مل چکا ہے۔
پنجابی مجموعہ “مہنڈی روح دے یوسف بولیں ناں”کو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ سراہا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ بیسٹ ٹیچر ایوارڈز، بیت بازی،تقریری مقابلوں میں بیسٹ پرفارمنس ایوارڈز،تلہ گنگ ایوارڈز،پنجاب اچیومنٹ ایوارڈ،ادب اطفال کی جانب سے چکوال کی بہترین ادیبہ کا تین بار مسلسل ایوارڈ،قومی سوہنا پاکستان ایوارڈ،تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی ایوارڈز،پھول ایوارڈز،،اس طرح کئی نیشنل ایوارڈز میرے نام پہ ہیں۔الحمدللہ۔جب کہ پروفیشنل شیلڈز،سرٹیفیکٹس اور ٹرافیز کی ایک بڑی تعداد میرے پاس ہے۔اب تو میرے پاس کتب اور شیلڈز رکھنے کی جگہ بھی نہیں ہے۔میں سوچ رہی ہوں کہ علاقے میں لائبریری کا قیام عمل میں لاؤں اور اس میں اپنا سرمایہ قلم رکھوں۔انشاء اللہ جلد اس بارے کوئی گڈ نیوز ملے گی۔
.مختلف زبانوں میں لکھنے کا خیال کیسے آیا ؟ اس فن میں کن اساتذہ نے مدد کی ؟
مجھے شروع سے ہی مختلف کام کرنے کا شوق رہا ہے۔پڑھائی پہلی سیڑھی تھی جو میں نے بغاوت کر کے اور چھپ کر اپنائی۔اس کے بعد مختلف رہنے کا شوق خود بہ خود پورا ہوتا رہا کیونکہ پاپا جی آرمی میں ایک حساس پوسٹ پہ تھے اور ان کے لیے مختلف زبان و ادب سیکھنا بے حد ضروری اور ان کی جاب کا حصہ تھا۔وہ جس زبان کا کورس شروع کرتے،میں وہ ضرور ہی دیکھتی۔پشتو لینگویج کورس میں نے مرشد پاپا جی سے کیا۔فارسی،عربی اردو،انگلش تو مرشد کی بدولت گھر میں بھی بولی جاتیں پھر بھائی جان کی عربی میری اردو سے بھی اچھی ہے،رشین میں نے معروف انٹر پریٹر اور شاعر پروفیسر اقبال حسین شاہ سے سیکھی مگر اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا۔پاکستانی زبانیں پھر اپنے شوق سے سیکھتی رہی۔خود بہ خود اضافہ ہوتا چلا گیا۔ملائی میں نے اپنی اک غیر ملکی دوست عروہ سبین آفریدی سے سیکھی۔میں پانچویں کلاس سے پاپا جی کو خط لکھا کرتی تھی۔پڑھائی کا جنون کی حد تک شوق تھا اس لیے صابن کے ریپرز،اخباری لفافے تک حفظ کرنے کی حد تک بار بار پڑھا کرتی۔ہاں پنجابی میں نے پنجابی میوزک سن سن کر بہتر کی۔اردو باوجود قومی زبان کے ،میری کبھی اچھی نہیں رہی تھی سو اس کے لیے میں نے باقاعدہ اردو میں ایم اے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل لیا۔لیکن کوئی یہ کہہ نہیں سکتا کہ اسے کسی بھی زبان پہ عبور ہے۔ہر زبان اپنے اندر وسیع دنیا رکھتی ہے۔
.ایک لکھاری معاشرے میں کیسے مثبت تبدیلی لا سکتا ہے خصوصاً موجودہ صورت حال میں جب ہر طرف AI کا راج ہے ؟
لکھاری معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے اور وہ تب کسی لولے لنگڑے کی لاٹھی بنتا ہے جب رائٹ وے چن لیتا ہے۔میں نے جب خبریں کے ساتھ کالمز لکھنا شروع کیے تو خبریں کے ضیاء شاہد مجھے کہا کرتے تھے کہ آپ کے کالمز ہمارے اخبار کی پالیسی سے ٹکراتے ہیں مگر ان میں وہ سچ ہوتا ہے کہ کالم شائع کیے بنا ہمارا منگل نہیں گزرتا۔جب آپ سچ لکھتے ہیں،حق لکھتے ہیں اور معاشرتی برائیوں کی نشان دہی پوری ایمانداری سے کرتے ہیں تو پھر آپ کو کوئی مانے یا نہیں،اپ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔قلم کی کسی بھی شاخ میں آپ جڑے رہیں بس مقصد لے کر لکھیں۔میرا ناول “من محرم کہ رب محرم” حلال و حرام کے فلسفے پہ ہے جس پہ کئی بڑے رائٹرز نے مجھے بانو قدسیہ ثانی بھی کہا۔تو یہ ایک لکھاری کی معاشرے کو بدلنے کی کامیاب کوشش ہوتی ہے کہ اس کے لکھے کو تسلیم بھی کیا جائے۔ہاں قلم کے اس عشق نے میرا بالخصوص علاقائی سطح پہ خوب ہی امتحان لیا،جرنلزم میں بہت رگڑے لگے اور اس وقت بھی کچھ پابندیوں کی زد میں ہوں لیکن یہ چیزیں اک سچے اور پکے قلمکار کے لیے انرجی ٹانک ہوتی ہیں جن کے بل پہ وہ آگے چل کر نئی سیڑھی پہ قدم رکھتا ہے۔
. سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟
میں نے دنیا دیکھی ہے۔بہت سے شوق تو مرشد پاپا جان کی وجہ سے خود ہی پورے ہوتے رہے۔پھر میرے قلم کی فیلڈ نے مجھے پاکستان بھر میں سفر کروائے۔میں شائد اپنے ہم عصر لکھاریوں میں سب سے زیادہ سفر کرنے والی رائٹر ہوں ۔الحمد للہ باقاعدہ پروٹوکول سے بلایا جاتا ہے ۔میری زندگی کا سب سے یادگار سفر سیلاب کے دوران ضیاء الامت فاؤنڈیشن،الکرم، ،پھر یو این او کے ساتھ سیلاب زدگان کے لیے بلا معاوضہ میڈیکل اور دوسری سروسز تھیں ۔اس سفر نے میری میں کو مار دیا اور ایک نئی تحمل مزاج نمرہ ملک کو جنم دیا۔اس سے پہلے میں بہت چوزی،انا پرست اور ہر بات پہ ہنگامہ برپا کرنے والی سخت مزاج لڑکی تھی۔ ایون مجھے علاقے بھر میں ڈان اور تھانیدارنی کہا جاتا تھا۔
.آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
زندگی ایک طنز ہے ،ایک لطیفہ ہے۔سنجیدہ لوگوں کے لیے یہ طنز دل میں اترتا ہے اور من موجیوں کے لیے قہقہے کا سامان بنتا ہے۔
. زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
2016ء میں ہمارا گھر جل گیا تھا۔پینے کے لیے پانی کا کٹورا تک نہیں بچا تھا اور سب سے بڑا نقصان میری سات ہزار کے قریب کتب اور اس کے ساتھ میری تخلیقات وغیرہ ۔۔۔لیکن میں نے جنون کی حد تک محنت کی ۔اور اج میرے پاس ہر وہ چیز ہے جس کی تمنا کوئی کر سکتا ہے اس کے علاوہ تین سال میں پہلے میری چودہ سالہ بھتجی،پھر دوسری بھتیجی اور پھر ایک طویل تکلیف دہ بیماری کے بعد بھابھی کی وفات میرے لیے اک بڑا سانحہ ہے۔اس کے علاؤہ اک بے حد قریبی دوست مارخور شہید ہوئے جس نے مجھے ہلا کے رکھ دیا۔میرے بڑے پیارے بھائی راجا فہیم کی وفات میرے لیے بہت بڑا دکھ ہے جو شائد کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔لیکن انسان کو جینا پڑتا ہے۔زندگی امتحان لیتی ہے تو اللہ کریم سنبھلنے کا موقع بھی دے دیتے ہیں۔کئی لوگوں نے بھی مجھے ایسے دھچکے دئیے جو تاعمر بھلانے والے نہیں ۔پروفیشنل لائف میں تو خیر ایسے سینکڑوں مقام آئے جب تھکن روح میں اتری ،زخمی پاؤں چلنے سے انکاری ہو گئے مگر دل نے ماننے سے انکار کیا اور مسلسل اپنے گول پہ نگاہ رکھے رکھی۔مجھے فخر ہے کہ میں نے ہمیشہ حق لکھا،حق کہا اور حق کے ساتھ کھڑی ہوں۔
.اپنی پسندیدہ شاعری جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔
تخلیق اولاد ہوتی ہے اور ماں کو تو اپنی ساری اولاد بہت پیاری ہوتی ہے۔مجھے اپنے لکھے ہر لفظ سے پیار ہے۔البتہ میرا کچھ کلام زبان زدعام ہے۔وہ سنا دیتی ہوں۔۔۔۔
ہم سے دنیا میں کہاں ضبط کے خو گر آئے
ورنہ آنکھوں کے کنارے بڑے بھر بھر آئے
دل عجب ہے کہ ہر اک بار جو تم پر آئے
ورنہ اس در پہ مری جان قلندر آئے
جی میں آتا ہے کہ اس شخص کو اک سانپ ڈسے
اور وہ تریاق کی خاطر مرے در پر آئے
چند بوندوں پہ قناعت بھی نہیں کر سکتی
اور مٹھی میں بھی ممکن نہیں ساگر آئے
وہ ہمارے نہ ہوئے قلق ہے لیکن نمرہ!!!
اس بہانے سے ہمیں خواب تو بہتر آئے
بے لوث محبت مت کرنا
بے درد کی قربت مت کرنا
یہ دور ہے جاناں سازش کا
تم سچ کی حکایت مت کرنا
یہ ھجر قیامت جیسا ہے
تم پھر سے قیامت مت کرنا
دلدار پراۓ لوگوں میں
آنکھوں سے شرارت مت کرنا
اس بار محبت کر لینا
اس بار حکومت مت کرنا
مل جاؤں کہیں جو رستے میں
اغیار کی صورت مت کرنا
انداز سخن ہو جیسا بھی
لفظوں کی تجارت مت کرنا
جل چھوڑ جیا افسانے کو
بیکار کی وحشت مت کرنا
چشمانم به هیچکس آسیبی نرسانده است،
فقط آنها به یارم نگاه کرده اند!!!!!!!!!!
(میری آنکھوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا،بس وہ یارم کو دیکھنے کی گناہگار ہوئی ہیں)
بہ_نوک_خار_می_رقصم
لا تسأل عن الحب
عشق کا تم حال مت پوچھو
هو الرب الذي يدعو إلى بابه
وہ رب ہے جو اپنے در پہ خود بلاتا ہے
و نحن
اور ہم
وحتى في السجود يبدأون بطلب الصديق
سجدے میں بھی یار کو مانگنے لگ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
فقط العيون التي أخذت الحبيب إلى داخله
بس جن آنکھوں نے محبوب کو اپنے اندر بسا لیا
ثم يواصلون ضرب رؤوسهم
پھر وہ لاکھ سر پٹختی رہیں،۔۔۔
غير قادرة على إخراج صديقها
یار کو اندر سے باہر نہیں کر پاتیں
ولا تستطيع أمواج البحر أن تقاوم العين التي عاشت برموش عاشق.
سمندر کی موجیں اس آنکھ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں جس نے کسی دلبر کو سر مژگاں اٹھائے زندگی بسر کی ہو
.حال ہی میں آپ نے اپووا خواتین کانفرنس میں شرکت کی آپ کا تجربہ کیسا رہا ؟
الحمدللہ 2020 ء سے اپوا سے منسلک ہوں کئی کھٹی میٹھی یادیں ہیں۔ہر بار ایک نیا اور یادگار تجربہ ہوتا ہے۔میں اپوا کے عہدے داروں میں سے ہوں۔اس وقت میں چیف کوآرڈینیٹر پاکستان اپوا ہوں۔اور مجھے خوشی ہے کہ میں ایک ایسی تنظیم کا حصہ ہوں جو ملکی اور غیر ملکی سطح پہ لکھاریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔اپوا کا یہ اعزاز ہے کہ یہ ہر بار آپ جو زندگی کے نئے تجربے سے روشناس کرواتی ہے۔
. نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
آپ لکھیں مگر پہلے اس کی تحقیق کریں۔اپ اپنے ہر لفظ کی تخلیق پہ اس کے زمہ دار ہوتے ہیں۔یہ یاد رکھیں کہ جو آپ تخلیق کر رہے ہیں وہ تاریخ ہے اس لیے اپنی تاریخ کو ایسے لکھیں کہ وہ آپ پہ ناز کرے،اپنی ہر تحریر کو ایک قاری کی حیثیت سے پڑھیں اور مثبت تنقید سے سیکھیں۔اپنے سنئیرز کا احترام ہر حال میں لازم ہے تا کہ آپ کے جونیئرز بھی آپ کو عزت دیں۔
.اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی ؟
اپوا۔۔۔اپنا ہے۔۔۔اپوا۔۔۔بڑی آپا کی طرح آپ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور زندگی کی کچی پینسل کو گھڑ کر اس کی نوک پلک سنوار کر آپ کو لکھنے کا شعور دیتی ہے۔اپوا کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ آپ کے اندر چھپے ٹیلنٹ کو چار لوگوں میں متعارف کرواتی ہے۔مجھے خوشی ہے میں اس تنظیم کا ایک حصہ ہوں ۔اس سے بھی بڑی اور فخریہ بات ہم سب ٹیم کے لیے یہ ہے کہ ہمیں زبیر انصاری جیسا سالار قافلہ ملا اور ایم ایم علی جیسا ڈانٹنے والا بڑا بھائی۔۔۔میں گارنٹی سے یہ کہتی ہوں کہ جس گھر اور ادارے میں بڑے بھائیوں کی سخت آنکھ ہوتی ہے وہاں تخلیقات بہترین اور معاشرتی حدیں بہت خوبصورت مقام بنا لیتی ہیں۔یہاں میں زبیر انصاری کے بارے میں یہ ضرور کہوں گی کہ مرشد کے بعد وہ واحد انسان ہیں جن سے مجھے مرشد جیسی ہی محبت ہے کیونکہ ان سے باپ جیسی شفقت اور بڑے بھائی جیسا پیار ملا ہے۔اگر میں کہوں کہ اہوا قلمکاروں کا ایک گھر ہے اور ہم سب فیملی ممبرز۔۔تو بے جا نہ ہوگا۔اللہ اس گلدستے کو بہاروں سے نوازے رکھے اور خزاؤں سے بچائے۔امین
اس چینل کے زریعے میں رشنا اختر اور اپوا ٹیم کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے خود سے ملانے کے لیے وقت نکالا۔سلامت رہیے
1,785 total views, 3 views today
























💯❤️💯
بہت بہت بہت ہی زبردست انٹرویؤ ہے اور ماشاء اللہ ، ماشاء اللہ نمرہ جی آپ کی اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی بڑی بڑی کامیابیاں ۔۔۔۔ یقیناً اللہ پاک بھی اُن کی مدد فرماتے ہیں جو عشق اور جنون کے ساتھ منزل کی طرف چلتے ہیں بہت زیادہ لطف آیا اللہ پاک مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور اپوّا کا تو کیا کہنا ؟ چلو اپنے انٹرویؤ میں کہوں گی ہا ہا ہا
ایک بات نمرہ کہ ابو آپ کے آرمی میں تھے تو پھر آپ کے لکھنے پڑھنے پر پابندی کیوں تھی ؟