انٹرویو ارشد منیم (بھارت)

السلام علیکم
1کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟
جواب۔۔۔ وعلیکم السلام۔۔۔ میرا نام محمد ارشد قلمی نام ارشد منیم بھارت کے صوبہ پنجاب کے شہر مالیرکوٹلہ میں چودھری علم دین کے گھر 26 اکتوبر 1978 کو میری پیدائش ہوئی۔۔۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہے سب سے بڑا میں ہوں۔۔ شریک حیات کا شکیلہ پروین ہے ایک بیٹی سعدیہ اور ایک بیٹا ہے جس کا نام صدف ہے
سوال2 آپ کا بچپن کیسا گزرا؟
جواب۔۔۔۔ بچپن بہت اچھا گزرا۔۔ چھوٹے بھائیوں اور دوستوں کا ہر قدم پر بھرپور ساتھ ملا جو کہ آج بھی مل رہا ہے۔۔۔ بچپن میں والدین نے کسی چیز کی کمی نہیں آنے دی میری ہر ایک فرمائش پوری کی
سوال 3 ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے؟
جواب۔۔۔ ادب سے لگاؤ۔۔ اس بارے میں یہ ہی کہوں گا کہ ایک جنون ہے میرے لیے افسانہ تخلیق کرنا جیسے کسی کو نشہ کرنے کی لت لگ جاتی ہے وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا اسی طرح افسانہ تخلیق کرنا میرے لیے نشہ سے کم نہیں-جب کوئی افسانہ دماغ میں پک کر تیار ہو جاتا ہے تو جب تک میں اسے سفید کاغذ کی چھاتی کے سپرد کرکے قارئین کی عدالت میں لے کر حاضر نہیں ہو جاتا مجھے سکون نہیں ملتا_
سوال نمبر 4 قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟ اب تک کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں؟
جواب۔۔۔ میں نے پہلا افسانہ 2000 میں لکھا تھا اب تک میرے تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ میرے تینوں مجموعے ریختہ پر بھی موجود ہیں آپ وہاں پر بھی میرے افسانوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں
سوال نمبر 5 زندگی میں کسی قسم کا کمپیٹیش نہیں ہونا چاہیے؟
جواب۔۔۔ بھئی کمپیٹیش کیوں نہیں ہونا چاہیے کمپیٹیش سے ہی تو انسان کے اندر بہتر سے بہتر کرنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔۔۔
سوال نمبر 6 پہلا افسانہ کب لکھا اور کیسا رسپانس ملا؟
جواب۔۔۔۔ پہلا افسانہ 2000میں بھارت کے صوبہ پنجاب سے شائع ہونے والے اخبار میں شائع ہوا”قربانی ” عنوان سے۔۔ رسپانس تو یہ تھا کہ دوستوں اور گھر نے خوب واہ واہ کی افسانے کی تعریف کرتے ہوئے مجھے مبارکباد دی۔۔۔ مگر آج میں خود جب اس افسانے کو دیکھتا ہوں تو میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے اور میں سوچنے لگتا کہ یہ میں نے کیا لکھا تھا یار۔۔۔۔ کیونکہ وہ لڑکا لڑکی کی محبت کا افسانہ تھا اس کے بعد میں نے پیار محبت پر افسانے نہیں لکھے۔۔ میں معاشرے میں پھیلی برائیوں کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہوں میں احتجاج لکھنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔۔ خیبر وہ میرا پہلا افسانہ تھا اس کے شائع ہونے کے بعد جو خوشی مجھے ہوئی تھی وہ آج بھی میرے اندر کہیں نہ کہیں موجود ہے-
سوال نمبر 7 جدید افسانہ نگاری کے لئے کیا چیز ضروری ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے؟
جواب۔۔۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بھی بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں نئے نئے موضوعات جنم لے رہے ہیں چھوٹی بچیوں کا ریپ ہو رہا۔۔۔۔ رشوت۔۔۔ فرقہ پرستی۔۔۔ مذہبی نفرت بڑھتی وغیرہ وغیرہ بہت کچھ ہو رہا ہے ایک ادیب کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان موضوعات پر قلم اٹھائیں اور ایسا ادب تخلیق کریں جس سے قارئین کو مثبت پیغام ملے
سوال نمبر8 دور حاضر میں نئے لکھنے والوں کو کون کون سے مسائل در پیش ہیں؟
جواب۔۔۔ ہائے ہائے کیا پوچھ لیا آپ نے نئے لکھنے والوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ انھیں کوئی ایسا استاد ادیب نہیں مل پاتا جس سے وہ اپنی تخلیقات کی اصلاح کرا سکیں نئے لکھنے والوں کی راہ نمائی کرنے والے سینئر ادیب بہت کم ہیں۔۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ نئے لکھنے والے اصلاح لینے کو بھی تیار نہیں آجکل نئے لکھنے والے اپنی پہلی تخلیق سے ہی اپنے آپ کو پختہ ہونے کا وہم پال لیتے ہیں۔۔۔۔ ان کے اس وہم کو فیس بک بھی خوب ہوا دے رہی ہے یہ لوگ اپنی غیر معیاری تخلیق پوسٹ کرکے کمنٹس میں اپنے جاننے والوں سے خوب واہ واہ اور مبارکباد کرلیتے ہیں سینٹر ادباء کی گروپ بازی بھی مسئلہ ہے۔۔
سوال نمبر 9سیاحت کے شوقین ہیں؟
جواب۔۔۔ بہت زیادہ
سوال 10پاکستان اور بھارت میں ادبی امن راہداری کے لیے ایک لکھاری کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
جواب۔۔۔ دیکھئے۔۔۔۔۔ دو ملکوں کے درمیان سرحدیں بہت ضروری ہیں مگر یہ سرحدیں یہ دیواریں ہمارے دلوں میں نہیں ہونی چاہیں۔۔۔ دو بھائیوں کے گھروں کے درمیان دیوار ہوتی ہے مگر اس دیوار میں ایک دروازہ بھی رکھ لینا چاہیے تاکہ دونوں بھائی آسانی سے مل سکیں۔۔۔ ادیبوں کو اپنی تخلیقات میں ایسی بات کرنی چاہیے جس سے دونوں سرکاروں کا رویہ نرم ہو ایسے ادبی پروگرام کا انعقاد ہوتے رہنا چاہیے جس میں دونوں ملکوں کے ادباء شامل ہوں ۔۔ ایک ادیب تو بس ایسی ہی ادبی کوشش کر سکتا ہے باقی جو کچھ کرنا ہے وہ تو دونوں ملکوں کی سرکاروں کو کرنا ہے
سوال نمبر 11بعض اوقات کچھ لکھتے وقت انسان کا مزاج ساتھ نہیں دیتا تو کبھی یہ خیال آیا کہ کاش میں لکھاری نہ ہوتا؟
جواب۔۔۔ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مزاج ساتھ نہ دے کیونکہ جب تک میں خود کو ذہنی طور پر لکھنے کے قابل نہیں سمجھتا تب تک میں لکھنے بیٹھتا کسی بھی موضوع پر افسانہ لکھنے سے پہلے میں اس کی گہرائی تک جاتا ہوں اچھے سے مشاہدہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تب جا کر لکھنے بیٹھتا ہوں۔۔۔ رہی بات لکھاری نہ ہونے کا خیال آنے کی تو میرے ذہن میں تو کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ میں لکھاری بنوں گا کیونکہ خیال آنے سے کچھ نہیں ہوتا یہ تو خدا جسے توفیق دے ۔۔ فنکار بنتے نہیں پیدا ہوتے ہیں (مسکراکر) اور ہاں جس کو یہ خیال آئے وہ تبھی اپنی قلم چھوڑ دے وہ لکھاری نہیں رہے گا ۔۔۔۔۔ لکھاری ہونا کون سا سرکاری ڈیوٹی ہے۔۔۔ ۔۔۔۔
سوال نمبر 12 پسندیدہ لکھاری جن کی تحریریں زیادہ پڑھتے ہیں؟
جواب۔۔۔۔ بہت ہیں نام بتاؤں گا تو لمبی لسٹ بن جائے گی
سوال نمبر 13 سیروسیاحت کے شوقین ہیں؟ کبھی پاکستان آئے ہیں؟ اگر پاکستان کے مشاعروں میں شرکت کا موقع ملے تو کیا خیال ہے؟
جواب۔۔۔ جی ہاں مجھے شوق ہے نہیں میں کبھی پاکستان نہیں آیا مگر آنا چاہتا ہوں ایم ایم علی بھائی، فاطمہ خان، صائمہ نور شگفتہ یاسمین اور آپ سے ملاقات کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ دیکھو خدا کو کب منظور ہوتا ہے (مسکراکر) رہی بات مشاعروں میں شرکت کی تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مشاعرہ کروانے والے مجھے کبھی نہیں بلائیں گے اور ہاں اگر کبھی غلطی سے بلا بھی لیا تو میں نہیں آؤں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں شاعر نہیں ہوں
سوال نمبر 14 آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا؟
جواب۔۔۔۔ زندگی موت کا نظر انداز کیا ہوا ایک لمحہ ہے اس لیے اس لمحے کو جی بھر جینا چاہیے
سوال نمبر 15زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا؟
جواب۔۔۔۔ أف۔۔۔۔۔ یہ کیا پوچھ لیا آپ نے میں نے وہ شے تب کھو دی تھی جب میری عمر صرف سات مہینے تھی اس وقت میری ٹانگوں پہ پو لیو کا اٹیک ہوا اور میں اپنی ٹانگوں پر چلنے پھرتے کے قابل نہ رہا آپ سوچ کر دیکھئے جب میں بچپن میں اپنے ہم عمر بچوں کو اپنے سامنے کرکٹ، فٹبال وغیرہ کھیلنے ہوئے دیکھتا تھا تو میرے دل پر کیا گزرتی ہو گی رونا اور صبر کرنا ہی رہ گیا تھا اس وقت میری قسمت میں۔۔ ساتھ ہی میں اللہ کا شکر ادا بھی کرتا رہتا اور آج بھی کرتا ہوں۔۔ رونے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں تھا تو میں نے اپنے آپ کو اندر سے مضبوط کرنا شروع کر دیا آپ یقین کریں میں نے بیٹھے بیٹھے کرکٹ بھی کھیلا بچپن میں۔۔۔۔ کبھی مایوس نہیں ہوا میرے والدین کا ساتھ رہا جوان ہونے کے بعد پتہ نہیں کہاں سے لکھنے کا شوق پیدا ہو گیا کوئی بات نہیں میں کھلاڑی نہیں بن پایا لکھاری تو بن گیا اللہ اگر انسان میں کوئی کمی رکھتا ہے تو اس کے بدلے اس انسان کو کوئی ایسی چیز دے دیتا ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا جیسے میرے ساتھ ہوا اللہ کا شکر ہے آج مجھ سے بھی زیادہ پڑھے لکھے مجھ سے اپنی تخلیقات پر اصلاح لینے کے لیے آجاتے ہیں۔ تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور منہ سے یہ ہی نکلتا ہے “اللہ تیرا شکر ہے۔” میرے بھائی دوست اور بیوی بچے سب میری ٹانگیں بن کر ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔
سوال نمبر 16 کیا کسی ایسے موضوع پر لکھا ہے جسے بے حد تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو؟
جواب۔۔۔۔ میں تنقید سے نہیں ڈراتا کیونکہ تنقید سے تخلیق میں نکھار آتا ہے تخلیق کا کمزور پہلو سامنے آتا ہے ہم نے تو اپنے یہاں افسانہ کلب میں سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ افسانہ نگار اپنا افسانہ پڑھ کر سناتا ہے اور اس نشست میں حاضرین افسانہ سننے کے بعد افسانے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں افسانے کی کمی یا خوبی کو سامنے لایا جاتا ہے۔۔۔لکھاری کو سیکھنے کو ملتا ہے اس لیے میں اکثر کہتا ہوں کہ تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے
سوال نمبر 17: بھارت میں ادیبوں کے لیے سرکار کی طرف سے کیا اقدامات ہیں ؟ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فلم انڈسٹری میں سیاسی دباؤ پر کہانیاں تبدیل کی جاتی ہیں؟
جواب۔۔۔ ہماری سرکار دوسری زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے فروغ کے لئے کام کر رہی ادیبوں کو مالی تعاون دیا جاتا ہے کتابیں شائع کروانے کے لئے ۔ ۔۔ اس کے علاوہ صوبہ سرکاریں شائع شدہ کتابوں پر انعام دیتی ہیں جو 10ہزار روپے سے لے کر 50ہزار روپے تک ہوتا ہے۔۔ ادیبوں کو ایوارڈ دئیے جاتے ہیں جن کی قیمت 31ہزار روپے سے لے کر دس لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔۔۔ بزرگ ادیبوں کو پینشن دی جاتی ہے۔۔۔ اس کے علاوہ ریڈیو ٹی وی پر افسانے کا پروگرام اور مشاعرے ہوتے رہتے ہیں جن میں شامل ہونے والے ادیبوں کو روپے دئیے جاتے ہیں مختلف موضوعات پر سیمینار ہوتے رہتے ہیں۔۔ جو آپ نے تحقیق کی بات کی مجھے نہیں پتہ یہ کس نے کی۔۔ مجھے نہیں لگتا ایسی کوئی بات ہے
سوال نمبر 18نئے لکھاریوں کے لئے کوئی پیغام؟
جواب۔۔۔۔ میں تو ابھی خود کو افسانے کا طالب علم سمجھتا ہوں میں اس قابل تو نہیں کہ کوئی پیغام دوں پھر بھی نئے لکھنے والوں کو یہ ہی بات کہنا چاہتا ہوں کہ مطالعہ کریں خاص طور پر سینٹرز کی تخلیقات کریں کچھ تخلیق کرنے سے پہلے مشاہدہ بہت ضروری ہے زندگی میں کبھی اپنے آپ کو مکمل نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ جب ایک فن کار اپنے فن ست مطمئن ہو جاتا ہے تو فنکار اور اس کے فن کی موت ہو جاتی ہے
سوال نمبر 19 اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟
جواب۔۔۔۔ اپووا لکھاریوں کی ایک بہترین تنظیم ہےمیں فیس بک پر تنظیم کی سرگرمیاں دیکھتا رہتا ہوں تنظیم پورا سال اردو ادب کے فروغ کے کام کرتی ہے اس کے لئے میں تنظیم کے بانی ایم ایم علی بھائی اور پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں- میں تقریبا پچھلے چھ سال سے اپووا کے ساتھ ہوں مجھے تنظیم کی طرف سے چیف کو آڈینیٹر آف بھارت عہدہ بھی دیا گیا ہے ایوارڈ بھی دیا گیا ہے مجھے اہووا کی طرف سے کروانے گئے افسانوں کے دو مقابلوں میں بھی حصہ لیا ہے اور دونوں مقابلوں میں میرے افسانوں نے پہلا مقام حاصل کیا ہے اس کے لئے میں تنظیم کا شکر گزار ہوں۔ سچ جانئے زندگی میں اپووا کی پوری ٹیم سے ملنے کی چاہت ہے
سوال نمبر 20افسانہ کلب اردو افسانے کے فروغ کے لئے کیا کام کر رہا ہے
جواب۔۔۔۔۔ افسانہ کلب رجسٹرڈ پنجاب بھارت شمالی ہند کی واحد افسانوی انجمن ہے جو اردو افسانے کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہے افسانہ کلب 2000میں وجود میں آئی پروفیسر صاحبان اور دوسرے کئی سینٹر ادیب اس کے ممبر ہیں افسانہ کلب کی طرف سے ہر مہینے افسانوی نشست کا انعقاد ہوتا ہے اس کے علاوہ ہر سال قومی سطح کے شام افسانہ۔۔ صبح افسانہ اور قومی سطح کے سیمیناروں کا انعقاد کلب کی طرف سے کیا جاتا ہے جن میں ملک بھر ھ کے نامور ادباء شامل ہوتے ہیں قومی سطح کے پروگرام میں سرکار کی طرف سے مالی تعاون بھی ہمیں دیا جاتا ہے تقریباً پچھلے چھ سال سے میں افسانہ کلب کا صدر ہوں
معزز قارئین امید ہے آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک اجازت دیجیئے ۔ دعاؤں میں یاد رکھئیے گا ۔

954 total views, 3 views today

One Response to انٹرویو ارشد منیم (بھارت)

  1. Samina Tahir Butt says:

    ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہترین انٹرویو ۔ منیم صاحب کی اچھی کھری باتیں بہت اچھی لگیں۔ خوش رہیں سلامت رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *