انٹرویو شہزاد خان

السلام علیکم ،میں ہوں رشنا اختر ۔۔۔معروف ادبی تنظیم آپ پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام چلنے والی معروف ویب سائیٹ کی ہوسٹ ۔۔ تو چلئیے بغیر وقت ضائع کیے انٹرویو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں ۔

1: کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرا بچپن تین بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ سندھ کے ایک شہر میں کھیلتے ہوئے بے فکری والاگزارا،پھر پرائمری سے یونیورسٹی کا سفر کیسے گزرا یہ ایک لمبی کہانی ہے لیکن الحمدا للہ میں گریجویٹ ہونے کے ساتھ بہت سے ڈپلومے اور سرٹیفیکٹس بھی لے چکا ہوں،کافی عرصہ جرنلزم کے شعبہ سے بھی منسلک رہا ہوں، میری والدہ ایک مشہور ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھیں اور والد صاحب کا شہر میں اپنا کاروبار تھا، والدہ کو بچپن سے ہی درویش صفت خاتون پایا اس کاثبوت یہ تھا کہ ان کے ہاتھ میں ہر وقت تسبیح اور زبان پر حمدوثناء جاری رہتی تھی، ان کے پاس آنے والے بہت سے مریضوںمیں زیادہ تر تعداد ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ہوتی تھی جو انہیں ان کی خوش اخلاقی اور رحم دلی کی وجہ سے پوجنے کی حد تک چاہتی تھیں، والدہ کو ہمیشہ غریب اور نادار مریضوں کا مفت علاج کرتے ہی پایا ۔گردشِ حالات کے تحت سندھ کے حالات فرقہ وارانہ تعصبات کی بھینٹ چڑھنے سے ہم ہجرت کرکے سندھ سے پنجاب منتقل ہوگئے اور اپنا آبائی گھر اونے پونے داموں فروخت کرکے پنجاب کی بڑی تحصیل صاد ق آباد میں سکونت اختیار کرلی ، یہاں بھی والدہ نے اپنے تین کلینکس بنائے اور سندھ کی طرح یہاں بھی اپنا علاج معالجہ کا سلسلہ شروع کردیا اور پھر وقت نے وفا نہ کی اور والدین ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے، بڑی بہن کی شادی والدین اپنی زندگی میں ہی کرچکے تھے باقی دو بہنوں اور اپنے سمیت بھائی کی شادی کے بعد مجھے ایک بہت بڑی فرٹیلائزر کمپنی میں مستقل جاب مل گئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا نوازا کہ میں اس کا جتنا بھی شکر گزارہوں وہ کم ہے۔پھر اولاد جیسی نعمت ، نیک سیرت ، سگھڑ اور امورِ خانہ داری میں ماہر وفادار بیوی کے ساتھ منزلیں آسان ہوتی چلی گئیں اور راستوں کی مشکلات خود بخود سلجھتی چلی گئیں اور پتہ ہی نہ چلا کہ زندگی کی کتنی بہاریں آکر چلی گئیں۔اللہ پاک کے فضل وکرم سے آج اولاد بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگئی ہے اور میں پنے اہل خانہ کے ساتھ ایک پرآسائش اور آسودہ زندگی گزاررہا ہوں۔

2: بچپن کیسا گزرا ؟

ظاہر ہے میرا بچپن بھی دوسرے بچوں کی طرح شرارتوں میں ہی گزرا، پڑوس میں کبھی گھروں کی بیل بجاکر، کبھی کسی کو خوامخواہ مارکر بھاگ جانا، کبھی کسی دوست سے چیزیں چھین کر کھاجانا، کبھی کلاس میں نئے داخل ہونے والے بچوں کی پٹائی کرنا وغیرہ وغیرہ اسی لیے تو شیطان نے بھی بچوں سے پناہ مانگی ہے۔بچپن کی یادیں کبھی کبھار بہت یادآتی ہیں تو شدت سے دل سے یہ خواہش نکلتی ہے “یادِ ماضی عذاب ہے یارب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا”۔اس سے انکار نہیں کہ ماضی انسان کی رگ رگ میں بستا ہے۔

3: قلمی سفر کا آغاز کب ہوا ؟ پہلی کہانی کون سی لکھی اور کیسا رسپانس ملا ؟

1985 میں میری پہلی کہانی “ٹارزن موت کی وادی میں “کے نام سے نوائے وقت اخبار کے سنڈے ایڈیشن پھول اور کلیاں میں شائع ہوئی تھی اس کے بعد “عمروعیار” اور” شیخ چلی “کے کرداروں پر بھی بہت سی کہانیاں لکھیں جو اس دور کے مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی رہیں جو بچوں میں بہت مقبولیت حاصل کرتی رہیں۔ریسپانس بہت اچھا ملا دوستوں اور عزیزواقارب میں میری تحریروں کو اتنا پسند کیا گیا کہ انہوں نے کافی عرصہ تک وہ اخبارات اور رسائل خرید کر سنبھال لیے تھے جن میں میری تحریریں شائع ہوئی تھیں۔اور وہ بڑے فخر سے سکولوں میں میری تحریروں والے رسائل دکھاکر کہتے تھے کہ جس نے یہ تحریر لکھی ہے وہ میرا کزن ہے۔ پھرمیرا یہ قلمی سفر ابھی تک جاری ہے اور اب میری تحریریں باقاعدگی سے ملک کے بڑے ڈائجسٹوں میں شائع ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان ڈائجسٹوں کے سرورق بھی بنارہاہوں۔

4: ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے ؟

ہر دور کا ادب اس دور کی تہذیب کا آئینہ ہوتا ہے،اردونے ہمیشہ ایک احساس اور روشن خیال زبان ہونے کا ثبوت دیا ہے،جدید اور جدید ترین ادبی رویوں کا معاملہ ہو یا تاثیریت کی بات ہو یا اظہاریت کا رجحان ہو اردو کے گزشتہ نصف صدی کے ادب میں ان تمام رجحانات کی نشاندہی باآسانی کی جاسکتی ہے، دورجدید میں بہت سے ایسے بڑے بڑے ارددان گزرے ہیں جنہوں نے ادب کے فروغ میں ناقابلِ بیان نمایاں کردار ادا کئے ہیں، ادب میں ان کی لازوال خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،ادب کیا ہے ؟ اس کا وجود دنیا میں کیسے ظہور پذیر ہوا ؟ انسانی زندگی میں اس کا کتنا عمل دخل ہے ؟ اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں جو اکثر بہت سے لوگوں کے ذہنوںمیں گردش کرتے رہتے ہیں۔ادب انسان کے جذبات وخیالات کا ترجمان ہے اور انسان کے جذبات و خیالات اس کے تابع ہوتےہیں جیسا دور اور جیسی معاشرت ہوگی ویسے ہی اس کے خیالات وجذبات ہونگے اور پھر ویسا ہی ادب ہوگا، ادب کے مختلف شعبہ جات ہیں اور ادب سے لگاؤ رکھنے والے اپنی اپنی پسند کے شعبہ کو منتخب کرکے اس کے مطابق اپنے خیالات اور احساسات کو صفحہ قرطاس پر بکھیرتے ہیں ، مجھے چونکہ بچپن سے ہی خوفناک ، جاسوسی اور ایڈونچرسے بھرپور کہانیاں پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق تھا شاید یہی وجہ رہی کہ میں نے خود بھی ادب میں اسی صنف کو منتخب کیا اور اب تک اسی موضوع پر سینکڑوں کہانیاں لکھنے کے علاوہ چھ عدد ہاررفکشن ناولوں کو مصنف بھی ہوں اور مزید ناولوں کی اشاعت ابھی باقی ہے۔
5: صرف خوفناک کہانیاں ہی کیوں کبھی کوئی معاشرتی ناول کیوں نہیں؟

چونکہ مجھے خود بھی خوفناک اور ایڈونچر کہانیاں پڑھنابہت پسند تھا شاید یہی وجہ رہی کہ ایسی کہانیاں پڑھنے سے ہی خوفناک اور ایڈونچر سے بھرپور واقعات پر لکھنے کے شوق کوتقویت ملی اور پھرمیں اسی موضوع پر لکھتا چلا گیا، معاشرتی کہانیاں لکھنا مشکل نہیں ہے کیونکہ ایسی کہانیوں میں قلمبند کئے جانے والے حالات وواقعات روزانہ ہمارے سامنے رونما ہوتے ہیں اور اکثر معاشرے میں رہتے ہوئے ہمیں ان معاشرتی کہانیوں کے کرداروں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔چونکہ ایسی کہانیوں کے جیتے جاگتے کردار اپنی اچھائی یا برائی سمیت ہمارے سامنے موجود ہوتے ہیں اس لیے ایسے کرداروں کی سچائی کو صرف قلمبند کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ کسی ایسی کہانی سے کہیں زیادہ آسان ہوتی ہے جس کا پلاٹ خود سے اپنے تخیل یا ذہن میں ترتیب دینے کے بعد لکھی جاتی ہے۔ کیونکہ اپنے ذہن سے ترتیب دی ہوئی کسی کہانی کو احاطہ تحریر میں لانا ذرا مشکل کام ہوتا ہےہر کردار کے ساتھ پورا پورا انصاف کرنا، پھر کہانی کی تھیم کو لے کرچلنا اور پھر اس کہانی کو کلائمیکس تک لے جاکر اختتام تک پہنچانا کہ کہیں پڑھنے والے کو اس کہانی میں کوئی جھول محسوس نہ ہوایک اچھا خاصا مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔اور ویسے بھی میرا زیادہ تر رجحان ہاررفکشن تک ہی محدود رہا ہے اس لیے میں نے خود بھی کبھی معاشرتی یا رومانوی کہانی لکھنے کے بارے میں غور نہیں کیا۔ ہاں اگر کبھی کسی نے فرمائش کی تو ان شاء اللہ ان موضوعات پر بھی ضرور لکھ پاؤں گا ویسے بھی وہ رائٹر ہی کیا جو ہر موضوع پر نہ لکھ پائے۔

6:پاکستان میں لکھاریوں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے اکثر اخبارات یا میگزین چاہتے ہیں کہ لکھاری فی سبیل اللّٰہ کام کرے ۔ ایسا کیوں ؟

موجودہ دور میں ادب کی کسی بھی صنف سے تعلق رکھنے والے افراد اس وقت بہت پرسان حال زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، چاہے وہ خواتین ہوں یا مرد حضرات سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں شاید اب ادب کے قدردان نہیں رہے یا ادب کی قدروقیمت کا اندازہ کسی کو نہیں ہو پارہا ؟َ جن لوگوں کا ذریعہ معاش قلم سے منسلک ہے وہ حقیقت میں بہت پریشان اور خستہ حالی کا شکار ہیں ، اخبارات اور رسائل و جرائد سے منسلک ایسے افراد وجود میں آچکے ہیں جو صرف سستی شہرت حاصل کرنے یا پھر اپنے کسی مالی و ذاتی مفاد کے لیے ادب کا سہارا لیتے ہیں چونکہ ایسےلوگوں کا ادب سے دور دور تک واسطہ نہیں ہوتا اسی لیے انہیں ادب کی اہمیت کا بھی قطعی اندازہ نہیں ہوتا ، انہیں ادبی لوگوں کی کاوشوں کا احساس ہو تو انہیں ان رائٹرزکے لکھے کی اہمیت کا اندازہ ہوپائے، یہی وجہ ہےکہ وہ رائٹرز حضرات کو یا تو معاوضہ دیتے نہیں ہیں یا پھر اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق اتنا کم دیتے ہیں کہ وہ ادبی لوگوں کی اناء کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہوتا ہے۔فی البدیہ ادب سے منسلک رائٹرزافراد وہی رہ گئے ہیں جو لکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا ادبی شوق پورا کرنے کے علاوہ کوئی اور کاروبار بھی ساتھ ساتھ کررہے ہیں تاکہ اس کی وجہ سے ان کے گھریلو اخراجات بھی پورے ہوتے رہیں ورنہ ادب سے ناآشنا افرادنے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ادب اور اس سے منسلک لوگوں کے شوق اور ضرورتوں کی دھجیاں اڑاکر رکھ دی ہیں۔اب تومخلص اور بے لوث ادبی لوگوں کی بجائے بے ضمیراور قلم فروش قسم کے گھوسٹ رائٹرز جنم لے چکے ہیں جو اپنے کالے کرتوتوں سے ادب کا حشر نشر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے شر سے ادب اور ادب سے وابستہ سچے اور مخلص لوگوں کو ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین

7: آپ کی کہانیوں میں ایڈونچر بہت ہوتا ہے ۔ اب تک کتنے ایڈونچر ہو چکے کوئی ایک یادگار ایڈونچر ؟

چونکہ میں پہلے ہی بتاچکا ہوں کہ بچپن سے پڑھی جانے والی خوفناک ، جاسوسی اور ایڈونچرواقعات پر مشتمل کہانیاں پڑھنے سے ہی مجھے بھی ایسی کہانیاں لکھنے کا شوق پیدا ہوا جو کہ آج تک قائم ہے، باقی زندگی میں بہت سے چھوٹے بڑےایڈونچرز سے واسطہ پڑتا رہا ہے ایک قابل ِ ذکر ایڈونچر کا ذکر میں نے اپنی ایک کہانی “پینک اٹیک ” میں بھی کیا تھا جو ماہنامہ ڈر ڈائجسٹ کراچی میں شائع ہوئی تھی۔تفصیل جاننے کے لیے وہ کہانی پڑھی جاسکتی ہے۔یا میرے یوٹیوب چینل “شہزادخان ہاررسٹوریز” پر محترمہ رشنا اختر صاحبہ کی دلکش آواز میں آڈیوز کی صورت میں سنی جاسکتی ہے۔

8: ڈیجیٹل دور میں خلوص کے زوال کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے ؟

ڈیجیٹل دور میں ہرطرح کا خلوص اور پیارو محبت بھی ڈیجیٹل ہی ہوکر رہ گئی ہے، ایک دور ہوتا تھا کہ جب کسی کے ہاں مہمان بن کرجاتے تھے تو اس گھر کے مکین خوشی سے ساری ساری رات سوتے نہیں تھے اور مہمان کے گرد گھیراڈالے اس سے دلچسپ باتیں اور کہانیاں سنا کرتے تھے۔اب لوگ سیانے ہوگئے ہیں بلکہ پریکٹیکل ہوگئے ہیں اور ڈیجیٹلی رابطے رہ گئے ہیں ایک دور تھا کہ جب کسی کی شادی کا سندیسہ دینے کے لیے میلوں سفر کرکے خودجاکر شادی میں شرکت کی دعوت دی جاتی تھی اب ڈیجیٹل دور آگیا ہے لوگ میسج اور واٹس ایپ پر انویٹیشن بھیج کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ٹیکنالوجی نے ہمیں ترقی یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ رشتوں میں مٹھاس اور محبت کی چاشنی ختم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔موبائل کے وجود نے رہی سہی کثر پوری کردی ہے جس گھر میں بھی جائیں وہاں سب سے پہلے موبائل کا چارجر پوچھا جاتا ہے اور آنے والے سمیت اس کے پیچھے رہ جانے والے گھر کے افراد کی خیریت پوچھنا گوارہ نہیں کرتے۔سچ پوچھیں تو جدید ٹیکنالوجی نے ہماری اقدار کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اور شاید آنے والا دور اس سے بھی کہیں بدسے بدترین ہی ہو۔ واللہ عالم

9: جب انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے تو درد شاعری کی صورت میں بیان ہوتا ہے . یہ بات کس حد تک درست ہے ؟ کبھی محبت ہوئی ؟

شاعری اور لکھنا یہ تو عطیہ خداوندی ہوتا ہے جو ہر کسی کے بس کا کام نہیں ہے،یہ سچ نہیں ہے کہ ہر شاعر یا شاعرہ کسی نہ کسی کے پیار میں مبتلا ہوکر یا کسی کی بے وفائی کی وجہ سے شاعری کرتا ہے یا کرتی ہے یہ تو اس کے اندر کا ایک لطیف احساس ہوتا ہے جو اپنے اردگرد رہنے والےلوگوں کی حالت زار یا ماحول کو دیکھ کر اجاگر ہوتا ہے اور وہ اسے شاعری کی دلفریب زبان میں ڈھال کر لفظوںمیں پرو دیتے ہیں ۔ شاعریا لکھاری بہت احساس ہوتے ہیں الفاظ کے سمندر میں ڈوب کر نہ جانے کیسے کیسے لفظوں کے نگینے نکال لاتے ہیں۔باقی محبت تو ہرانسان کو کسی نہ کسی سے ہوہی جاتی ہے چاہے وہ کسی بھی رشتے سے منسوب ہو ، چاہے بیٹے کی ماں سے، شوہر کی بیوی سے، بہن کی بھائی سے، بھائی کی بھائی سے، وغیرہ وغیرہ۔ایک انسان ہونے کے ناطے ہر کوئی اس پروسس سے ضرور گزرا ہوگایا گزررہا ہوتا ہےلیکن موجودہ دور میں سچی اور مخلص محبت ناپید ہوچکی ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر کوئی ایسی محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ سراسر غلط بیانی کرتا ہے یا کرتی ہے۔کیونکہ اس نفسانفسی کے دور میں ہر کوئی اپنے مطلب کی خاطر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے جب تک اسے مطلب رہتا ہے وہ آپ کا دم بھرتا ہے جب اس کا مطلب نکل چکا ہوتا ہے تو وہ اجنبیت دکھانے میں دیر نہیں کرتا ہے۔اور یہ ایک حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا ۔

10: زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ کسی اور کے کندھے پر ڈال دینا اور اس سے کسی فائدے کی امید لگائے رکھنا بہت بڑی بیوقوفی ہے اس لیے جو کام بھی کرنا ہو خود اپنے بل بوتے پر کرنا ہی بہتر رہتا ہے۔اس لیے میں نے زندگی سے یہی سبق سیکھا ہے کہ جو کام بھی کرنا ہو بغیر کسی سہارے کے خود ہی کرنا فائدہ مند اور اطمینان بخش رہتا ہے۔

11: لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

لوگ اب پہلے جیسے نہیں رہے ہیں ہر کوئی ایک دوسرے سے صرف اپنی غرض یا مطلب سے ہی ملتا ہے۔ ورنہ سالوں سال بیت جاتے ہیں اور بغیر کسی کام یا مطلب کے کوئی کسی کو یاد تک نہیں کرتا ہے۔موجودہ معاشرہ انتہائی بے حس ہوچکا ہے کسی کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں رہی۔ کسی مرتے ہوئے انسان کو بچانے کی بجائے یہ بے حس اور سفاک لوگ موبائل پر وڈیوز بنارہے ہوتے ہیں، غرض لوگوں میں انسانی ہمدردی بالکل ناپید ہوچکی ہے۔موجودہ معاشرہ نہایت بے رحم اور سفاک ہے۔ہر بندہ اپنی غرض سے ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ بغیر مطلب کے کوئی کسی سے واسطہ نہیں رکھتا۔ ہر کسی کو یہی کہتے سنتے ہیں کہ جب ہمیں اس سے کوئی کام ہی نہیں تو ہم کیوں اس سے ملیں ؟ موجودہ معاشرہ اس وقت جنگلی جانوروں سے بھی کہیں زیادہ خونخوار اور وحشی ہوچکا ہے جس میں کسی کی عزت اور جان و مال بالکل محفوظ نہیں رہی۔

12: کبھی فلاحی تنظیم بنانے کا سوچا ؟ آپ کے خیال میں دور حاضر کے نوجوانوں کو کیسی امداد کی ضرورت ہے جو انہیں منزل کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہو ؟

فلاحی تنظیم بنانے کا خیال تو نہیں آیا البتہ بہت سی ایسی فلاحی تنظیموں سے وابستگی ضرور رہی ہے اور رہتی ہے جو انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے بہت سے فلاحی اور تعمیری کاموں کو سرانجام دے رہی ہیں۔اور اللہ پاک کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اس قابل بنایا ہے کہ میں بھی حتی الوسع کوشش کرتا ہوں کہ ان کے فلاحی کاموں میں کچھ حصہ ڈال سکوں۔موجودہ دور میں نوجوانوں میں مایوسی پھیل چکی ہے ہر پڑھا لکھا اور سمجھدار انسان خصوصاً ہمارے معاشرے کے ٹین ایجرز ملکی حالات کی وجہ سے بہت پریشان اور نالاں دکھائی دیتے ہیں ہر کوئی اس ملک سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے، ہر کسی کو اپنا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے، ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اس نوجوان نسل میں پھیلی بے چینی کو دور کرنے کے لیے ملک میں صنعتیں ، فیکڑیاں لگائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے مواقعے میسر آسکیں، مناسب روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں پھیلتی ہوئی دہشت گردی، راہ زنی، چوری چکاری، فراڈ اور لوٹ مار بھی اسی بے روزگاری کا نتیجہ ہے، حکومت میٹروبس جیسے منصوبوں پر اربوں خرچ کرنے کی بجائے ہر ضلع میں چھوٹے چھوٹے پیمانے پر مصنوعات بنانے والی فیکڑیاں لگائے تاکہ وہاں کے مقامی پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد اپنا جائز روزگار حاصل کرسکیں اور ملک میں امن و امان کی فضا قائم ہوسکے۔اس وقت ہمارے پیارے وطن میں پڑھے لکھے ڈاکوؤں کی تعداد زیادہ ہے اور یہ خوشی کی بات نہیں بلکہ اس حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اور اس کے سدباب کے لیے حکمرانوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

13: ترقی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ پیسہ ، ٹیلنٹ یا چانس ؟ کیونکہ موجود دور سٹیٹس کا ہے تو اس بارے میں کیا کہیں گے ؟

موجودہ دور میں ٹیلنٹ کی کوئی اہمیت نہیں رہی، اور بغیر سفارش کسی بھی کام میں چانس بھی ناممکن ہی ہے، باقی رہا پیسہ تو یہ اس وقت ان دونوں کاموں پر فوقیت حاصل کرچکا ہے، جس کے پاس جتنا پیسہ ہوگا اس کا سٹیٹس اتنا ہی اونچااور معتبر ہوگا، چاہے اس نے وہ پیسہ کسی ناجائز یا حرام کام سے ہی کیوںنہ حاصل کیا ہو؟ وی ایٹ گاڑی میں گھومنے والا چاہے ذات کا خاکروب ہی کیوں نہ ہو لیکن لوگ اس کی گاڑی دیکھ کر اسے سیلوٹ کرتےہیں اس لیے میں یہ کہنا بجا سمجھتا ہوں کہ “باپ بڑا نہ بھیا۔۔سب سے بڑا روپیہ”۔

14: زندگی ایک جہد مسلسل ہے کوئی ایسی خواہش جو پوری ہونی باقی ہو ؟

اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری تقریباً ہر جائز خواہش پوری ہوچکی ہے مزید جو رہ گئی ہیں وہ بھی ان شاءاللہ زندگی رہی تو ضرور پوری ہوجائیں گی اور یہ میرا پختہ ایمان ہے، باقی یہ تو سب کو ہی پتہ ہے کہ ” ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے”۔کچھ بے جا خواہشیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پورا ہوتے ہوتے انسان خود اس دنیا سے کوچ کرجاتا ہے۔ اس لیے کوشش یہی کرنا چاہیے کہ جتنی چادر پاس ہو اتنے ہی پاؤں پھیلانا چاہیں۔تاکہ بعد میں کسی بھی قسم کے پچھتاوے کی گنجائش نہ رہے۔

15:انسان کے اندر جو ڈر ہوتا ہے وہ کبھی کبھی نفسیاتی الجھن کا باعث بنتا ہے آپ کو کبھی ایسا لگا کہ مسلسل ہارر لکھتے ہوئے طبعیت پر گراں گزر رہا ہے ۔ ڈر انسان کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہے ؟

جی بالکل۔۔ڈر ہر انسان کے اندر ہوتا ہے چاہے وہ کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہو،ڈر کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جن میں سے ہر ایک قسم کاتقریباً ہر انسان سامنا کرچکا ہوتا ہے یا کررہا ہوتا ہے۔میرے لئے ڈر کبھی بھی کسی بھی کام میں کسی رکاوٹ کا باعث نہیں بنا ہے، ہر رائٹر کے لکھنے کی اپنی ایک فیلڈ ہوتی ہے، میں نے تقریباً تمام رائٹرز کی تحاریر کو پڑھا سمجھا لیکن ان میں بہت کم ایسے رائٹرز تھے جنہوں نے ہاررفکشن پر زیادہ لکھا ہو، یہی دیکھ کر مجھے ہارراور ایڈونچر پر لکھنے کا شوق پیدا ہوا پھر میں نے اسی موضوع کو چنا اور شروع سے لے کر آخر تک اسی تھیم کو ابھی تک اپنائے ہوئے ہوں اور اللہ کا شکر ہے کہ لوگ میری ہاررفکشن کہانیوں کو دل سے پڑھتے ہیں اور سراہتے ہیں جن کا اظہار وہ اکثر اپنے پیغامات میں کرتے رہتے ہیں۔

16: کبھی کسی فلم انڈسٹری سے آفر آئی ؟ مسقبل میں اگر کوئی ہارر فلم یا ڈرامہ کی آفر ملے تو کیا خیال ہے ؟

بہت عرصہ پہلے میری ایک خوفناک کہانی “جادونگری” ماہنامہ خوفناک ڈائجسٹ لاہور میں شائع ہوئی تھی جو قارئین میں کافی مقبول ہوئی تھی، چونکہ یہ ڈائجسٹ ملک بھر کے علاوہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی جاتا رہا ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب شہزادہ عالمگیر صاحب کے زیراہتمام ماہنامہ خوفناک ڈائجسٹ لاہور کے علاوہ دیگر اور بھی رسائل وغیرہ شائع ہوتے تھے، میری کہانی “جادونگری” کو پڑھ کر بھارت کے ایک پروڈیوسر نے مجھ سے بذریعہ ای میل رابطہ کرکے اپنی فلم پروڈکشن کے لیے ایک خوفناک کہانی لکھنے کے لیے کہا لیکن میں نے صاف انکار کردیا تھا۔مجھے ملنے والی اس آفر کی خبر مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھی۔ اور میرے انکار پر ملک بھر میں پھیلے ہوئے میرے قارئین نے کافی سراہا تھا۔
17: پاکستان میں ہارر موویز بہت کم بنتی ہیں ایسا کیوں ؟
پاکستانی فلم انڈسٹری میں خوفناک فلمیں نہ بننے کی سب سے بڑی وجہ ہارفلموں کے لیے استعمال ہونے والے کاسٹیوم کا نہ ہونا ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں اب بھی بہت سی خوفناک فلمیں بن رہی ہیں جن میں ان کی مناسبت سے استعمال ہونے والا کاسٹیوم استعمال ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہاں آئے دن کوئی نہ کوئی ہاررمووی بن کر ٹاپ بزنس کررہی ہوتی ہے اور پاکستانی فلم انڈسٹری میں سالوں میں کہیں ایک آدھ ہارر مووی بنتی ہے لیکن باکس آفس پر ہی فلاپ ہوجاتی ہے، کیونکہ اس میں استعمال ہونے والا کاسٹیوم اس لیول کا نہیں ہوتا جو اس مووی کی تھیم کے لحاظ سے اس کی کامیابی کی ضمانت بن سکے۔جس طرح دیگر مصنوعات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہوتا جارہا ہے اسی طرح ہاررموویز میں استعمال ہونے والے کاسٹیوم میں بھی جدت آچکی ہے اس لیے فلم انڈسٹری کے بااثرافراد کو چاہیے کہ وہ بھی اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستان میں بھی بالی وڈ اور ہالی وڈ کے لیول کی ہاررفکشن اور سائنسی فلمیں بناکر فلم بینوں کی دیرینہ خواہش کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔پاکستان میں اب بھی ایسے فلم بین موجود ہیں جو ایسی ہارر موویز دیکھنے کے خواہاں ہیں۔
18: آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
زندگی بناء بندگی بے کار ہے۔
19: کوئی ایسا ادھار جو لیا ہو اور آج تک واپس کرنے کا موقع نہ ملا ہو ؟
الحمد اللہ مجھے کبھی ضرورت تو نہیں پڑی کہ کسی سے بہت زیادہ ادھار لیا ہو اور اس کے سامنے جانے سے شرمندگی اٹھانا پڑی ہو۔ میں نے بوقت ضرورت اگرایمرجنسی میں تھوڑا بہت ادھار لیا بھی ہے تو اس کے مانگنے سے پہلے ہی شکریہ کے ساتھ واپس کردیا ہے۔ اور اب بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ کبھی دوبارہ ایسی نوبت نہ آنے پائے کہ مجھے سوائے اپنے رب کے کسی اور کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلانے پڑیں۔
20: زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے خوف محسوس ہوتا ہو؟
سردیوں کی دن تھے میں اس وقت نہم کلاس کا سٹوڈنٹ تھا ، ایک روز میں اپنی امی جان کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کے ہاں بہاولپور گیا ہوا تھا۔رات کے کھانے سےفراغت کے بعد جنوں اور بھوتوں کی کہانیوں کا سلسلہ چل نکلا۔باتوں باتوں میں ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ان کے گھر سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بڑی نہر ہے جس کا تقریباً چالیس فٹ چوڑاپاٹ ہے، انہوں نے اکثرچاندنی راتوںمیں نہر کے دوسرے کنارے ایک سرکٹے کو گھومتے دیکھا ہے جو شاید اب بھی انہی راتوںمیں وہاں چہل قدمی کرتا ہے، اس کی بات سن کر مجھے تجسس ہوا کہ کیا واقعی کوئی ایسا سرکٹا وہاں موجود ہے ؟ میرے استفسار پر اس رشتہ دار نے مزید بتایا کہ جب وہ سرکٹا نہر کے کنارے چہل قدمی کررہا ہوتا ہے تو اس کے قریب سے مسافر بھی گزر رہے ہوتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ انہیں کچھ نہیں کہتا ہے، اس کی بات سن کر دیگر دوستوں نے بھی اس کی بات کی تائید کی اور سب نے یہی کہا کہ انہوں نے بھی یہی سنا ہے لیکن گھر والوں نے انہیں اس نہر کی طرف جانے سے سختی سے منع کیا ہوا ہے۔چونکہ اس وقت اتنی عمر نہیں تھی ان سب کی باتیں سن کر مجھے کچھ خوف محسوس ہوا پھر اس رات میں نے ان سب دوستوں کو سختی سے تاکید کی تھی کہ سب آج اسی کمرے میں اکٹھے ہی سوئیں گے اور شاید ایسا میں اپنے اندر پیدا ہونے والے ایک ڈر کی وجہ سے کہہ رہا تھا۔لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ ایک سرکٹے کی کہانی سن کر ڈرنے والا ہاررفکشن کہانیوں کی سنچری مکمل کرنے کے علاوہ چھ عدد خوفناک کہانیوں پر مشتمل ناولز کا مصنف بھی بن جائے گا۔اور پھر اسی سرکٹے کے موضوع پر میری دو تین کہانیاں مختلف ڈائجسٹوں میں شائع ہونے کے ساتھ ساتھ میرے یوٹیوب چینل “شہزادخان ہاررسٹوریز” پر وائس اوور آڈیوز کی صورت میں اپلوڈ ہوچکی ہیں۔
21: نئے لکھاریوں کے لیے کوئی پیغام ؟
نئے لکھاریوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ وہ سینئر ز کا احترام کریں ان کی تحریروں کو بغور پڑھیں اور سمجھیں اور ان سے بھی اچھا لکھنے کی کوشش کریں، ذہانت کسی کی میراث نہیں ہے، سینئرز رائٹرز بھی کبھی نوآموزلکھاری ہی تھے بچپن سے پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت رائیگاںنہیں جانے دیتا۔بڑوں کی تعظیم کریں ، زبان کا رس انسان کو تخت پر بھی بٹھادیتا ہے اور فرش پر بھی، سچی بات تو یہ ہے کہ “بے ادب بے مراد۔باادب بامراد۔
22:اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟
اپووا تنظیم کے متعلق یہی کہنا چاہوں گا کہ اس نفسا نفسی کے دور میں بھی یہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے رائٹرز خواتین وحضرات کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں ایک فورم پر اکٹھا کرکے ان کی ادب میں کی جانے والی خدمات کے صلہ میں تعریفی اسناد اور میڈلز دینے کی تقاریب باقاعدگی سے منعقد کروانےمیں پیش پیش ہے، اس تنظیم کا یہ اقدام قابل ستائش ہے، جس کے لیے میں اپووا تنظیم کی تمام انتظامیہ کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہو ں کہ اللہ پاک اس
سلسلہ کو یونہی جاری و ساری رکھے ( آمین یارب العالمین)

4,281 total views, 3 views today

5 Responses to انٹرویو شہزاد خان

  1. ثمینہ طاہر بٹ says:

    ماشاءاللہ زبردست انٹرویو

    • Shahzad Khan says:

      بہت شکریہ اور نوازش ہے آپ کی خوش رہیں سلامت رہیں آمین

    • M. Junaid Iqbal says:

      Shehzad sb mere ustad e muhtram b hain, kamal shakhsiat hain aor nahayat shafiq insan hain. Allah pak seht tandrusti wali lambi zindgi aor mazeed taraqi o kamyabi de Ameen

  2. Ayesha Shahzad says:

    MA SHA ALLAH bht zbrdst interview. Allah pak apko mazeed taraqeeon sy nawazy ameeen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *