انٹرویو محمد توصیف ملک

السلام علیکم ،میں ہوں رشنا اختر ۔۔۔معروف ادبی تنظیم آپ پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام چلنے والی معروف ویب سائیٹ کی ہوسٹ ۔۔۔ میں آپ کاانٹرویو اپووا ویب کے لیے کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ امید ہے آپ جلد ہی میرے سوالنامے کے جواب ارسال کر دیں گے ۔۔بہت شکریہ ۔۔
__________________
السلام علیکم
1: کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
جواب: 20 دسمبر 1992
آج سے تیس سال پہلے میں نے ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں بھیڑی خورد میں آنکھ کھولی۔یہ تحصیل شکرگڑھ کا ایک نواحی گاؤں ہے۔میرا نام محمد توصیف ملک ہے۔قلمی نام کوئی نہیں ہے۔اصل نام سے ہی بطور لکھاری گذشتہ پندرہ  سولہ سال سے ادبِ اطفال کے لیے لکھ رہا ہوں۔میری تعلیم ڈبل ایم اے ، ایم ایڈ ہے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک پرائیوٹ کمپنی میں بطور مینیجر کام کیا۔اس کے بعد سرکاری ملازمت مل گئی۔پچھلے چھے سال سے بطور معلم ایک گورنمنٹ سکول میں تدریس کے فرائض ادا کر رہا ہوں۔

بچپن سے کہانیاں پڑھتے پڑھتے 2006 کے آخر میں بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا۔2008 میں مجھے میرا پہلا “بیسٹ رائٹر ایوارڈ” ملا تھا۔یہ ایوارڈ مجھے نوائے وقت کی طرف سے دیا گیا تھا۔
شاعری کا شغف بھی رکھتا ہوں۔ایک سو پچاس کے قریب غزلیں اور چند نظمیں بھی لکھی ہیں۔میری شاعری روزنامہ اوصاف کے سنڈے میگزین اور ڈائجسٹ ریشم میں شائع ہوئی ہیں۔

2009 میں بچوں کے لیے ایک مزاحیہ کردار “میاں وہمی” تخلیق کیا۔اس کردار کی چالیس کے قریب مختلف تحریریں پاکستان کے پانچ قومی اخبارات اور مختلف رسائل میں چھپتی رہیں ہیں۔

سال 2019، 2020 اور 2021 میں مختلف ادبی حلقوں، رائٹرز تنظیموں اور کئی ادبی فورم کی طرف سے حُسنِ کارکردگی ایوارڈز اور بیسٹ رائٹر ایوارڈز بھی ملے۔اس کے ساتھ ساتھ نوآموز لکھاریوں کے لیے کہانی نویسی کورس میں بطور معلم فرائض سرانجام دے چکا ہوں ملتان سے چھپنے والے ایک رسالے ادبی کرنیں میں بطور ایڈیٹر اور ماہنامہ کرن کرن روشنی کے معاون ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کر چکا ہوں۔

2:  بچپن کیسا گزرا ؟
بچپن کا بیشتر حصہ کھیل کود کے ساتھ ساتھ کتابیں پڑھتے گزرا۔بچپن اور زمانہ طالب علمی میں پڑھی ہوئی کتب اور کہانیاں ابھی بھی یاد ہیں۔جہاں مجھے کہانیوں کے رنگین اخباری صفحات پڑھنے کا شوق تھا۔ وہیں مجھے اخبار پڑھنے کا بھی شوق تھا۔2006 سے 2013 تک سات سال مسلسل پانچ اخبارات روزانہ ہمارے گھر آتے رہے۔میں پاکستان کے چند نامی گرامی کالم نگاروں کے کالم خاص طور پر پڑھتا تھا۔زمانہ طالب علمی میں ہائی سکول کی لائبریری سے کتابیں لے کر پطرس بخاری کے مضامین ، پریم چند کے افسانے، میرزا ادیب کی کہانیاں اور اشتیاق احمد کے ناولز خرید کر پڑھے۔کئی شعراء کے کلام پڑھے۔حتیٰ کہ ایک پرانی لائبریری سے بہادر شاہ ظفر کے دیوان کا بہت پرانا بیش قیمتی نسخہ ہاتھ لگا وہ بھی پڑھا۔اسی مطالعہ نے میرے اندر کے لکھاری کو جگایا اور میں نے لکھنے کی طرف قدم بڑھایا۔میرا بچپن بہت حسین تھا۔بے شمار یادیں (وہ چاہے کھیل کود کی ہوں یا پڑھائی لکھائی کی) میرے ذہن میں نقش ہیں۔

3: ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے ؟
ادب سے لگاو جنون کی حد تک ہے۔پچھلے سولہ سترہ سال سے بچوں کے ادب سے وابستہ ہوں۔بچوں کے لیے مختلف موضوعات پر سینکڑوں تحریریں لکھ چکا ہوں۔اپنے خاندان میں پہلا فرد میں تھا جس نے ادبی دنیا میں قدم رکھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شروع شروع میں میرے والدین مجھے ڈانٹتے تھے کہ کن فضول کاموں میں پڑ گئے ہو۔تمہاری تعلیم کا حرج ہو گا۔گزرتے وقت کے ساتھ ان کی ڈانٹ تعریف اور شاباش میں بدل گئی۔میری کہانیاں پڑھنے کے بعد میرا نام مختلف اخبارات و رسائل میں دیکھ کر میرے والدین اور اساتذہ نے مجھے خوب سراہا۔لکھنے کا یہی جنون آج بھی ویسا ہی ہے۔

4: قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟
میری پہلی تحریر 2006 ماہ نومبر میں روزنامہ نوائے وقت کے چلڈرن ایڈیشن پھول اور کلیاں میں شائع ہوئی تھی۔اس کے بعد یہ سلسلہ ملک بھر کے بیس رسائل اور پانچ قومی اخبارات تک پھیل گیا۔2006 سے 2012 تک مسلسل لکھا۔اس دوران میری تعلیم بھی جاری و ساری رہی۔

5: پہلی کہانی کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا ؟
پہلی تحریر “دو دوست” کے نام سے لکھی تھی۔یہ تحریر اس وقت لکھی جب میں ہائی سکول میں آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا۔یہ تحریر میں نے سکول کے کچے گروانڈ میں بیٹھ کر لکھی تھی۔پہلی تحریر کی اشاعت پر میری خوشی ناقابل بیان تھی۔سکول کے اساتذہ نے بہت تعریف اور حوصلہ افزائی کی۔پہلی تحریر کی اشاعت سے مجھے مزید لکھنے کی تحریک ملی اور پھر اس دن سے آج تک لکھ رہا ہوں۔اَلْحَمْدُلِلّٰه سولہ سال گزر گئے ہیں۔

6:  آپ اکثر اپووا  کانفرنسز میں شرکت کرتے رہتے ہیں  تو آپ کا ایکسپیرنس کیسا رہا ؟
جواب:اپووا کی طرف سے ہر سال مختلف ادبی تقاریب ، تربیتی ورکشاپس اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ان چیزوں کا کریڈٹ بلاشبہ اپووا کے عہدیداران کو جاتا ہے خاص کر ایم ایم علی بھائی کو۔ ان مختلف ایونٹس کو ادبی حلقوں کی جانب سے خوب سراہا جاتا ہے۔یقیناً علی بھائی اِن تمام کامیاب تقریبات کے انعقاد پر  مبارکباد کے لائق ہیں۔ایم ایم علی کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ وہ پاکستان بھر کے شہروں سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور لکھاریوں کو اِن کانفرنسز میں شرکت کرنے پر عزت و تکریم اور ادبی ایوارڈز سے نوازتے ہیں۔علی بھائی  بلاشبہ ایک کامیاب لکھاری ہونے کے ساتھ ایک محترک اور اپووا کے بہترین منتظم بھی ہیں۔اپووا تقاریب اور ادبی کانفرنس میں قلمکاروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ علی بھائی کی نگرانی میں اسی طرح ایسی ادبی کانفرنسز منعقد ہوتی رہیں اور اردو ادب کی خدمت جاری رہے۔ایسی ادبی تقاریب کا انعقاد ہونا احسن اقدام ہے۔لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے انہیں ادبی خدمات پر ایوارڈز دینا قابل تعریف ہے۔میں بطور لکھاری ایسی تمام سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

7: فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟
جب فری ہوتا ہوں تو میری پہلی ترجیح کسی کتاب کا مطالعہ کرنا ہوتی ہے۔ کیونکہ مطالعہ کی عادت نئی سوچوں کو جنم دیتی ہے اور اِن سوچوں کے اظہار کے لیے قلم تھامنا پڑتا ہے۔کتابوں میں ایک دنیا آباد ہے۔اس کے علاوہ ٹی وی ٹاک شوز دیکھ لیتا ہوں۔تاکہ خبروں اور تجریوں کے ساتھ حالاتِ حاضرہ سے بھی باخبر رہا جائے۔

8: زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
زندگی ایک تجربہ گاہ ہے۔یہاں ہم آئے روز کچھ نہ کچھ ایسا سیکھتے ہیں جو ہمیں ہمیشہ یاد رہتا ہے۔میں دوسروں پر اعتماد کرنے میں جلدی کر جاتا ہوں۔بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔اکثر لوگوں کے ساتھ معاملات سے یہ سبق ملا کہ ہر کسی پر اتنی جلدی بھروسہ نہیں کرنا۔میں دوسروں کو بھی خود جیسا سمجھ لیتا ہوں۔لیکن لوگ رنگ بدلتے دیر نہیں لگاتے۔کاش لوگ سامنے والے کے خلوص اور اپنائیت کو سمجھ سکیں۔تاکہ ہمیں زندگی کے اچھے سبق یاد رہیں برے نہیں۔

9: لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
اپنی ذات کے علاوہ ہر دوسرے فرد کو خود سے بہتر سمجھنا چاہیے۔میرے پاس کوئی پیمانہ نہیں کہ لوگوں بارے رائے دے سکوں۔رہی بات معاشرے کی تو آپ ہم ہی معاشرہ ہیں۔اگر ہم سب اپنے گریبانوں میں جھانک لیں تو ہمیں اِس سوال کا جواب مل جائے گا کہ معاشرہ کس قسم کا ہے۔؟ دیکھیں معاشرہ ہم سے ہی ہے۔مگر ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرے شاید دوسروں سے ہے۔ہم کوئی الگ مخلوق ہیں۔ہم اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ہم راہِ فراد ڈھونڈتے ہیں اور پھر گلے شکوے کرتے ہیں کہ معاشرہ درست سمت میں نہیں جا رہا۔

10: کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟
اللہ کا شکر کہ میرا تعلق قلم قبیلہ سے ہے۔مجھے لکھاری ہونے پہ فخر ہے۔ایسا خیال کبھی ذہن میں نہیں آیا کہ اگر لکھاری نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔لکھنے کی صلاحیت اللہ پاک نے قدرتی طور پر آپ کو دی ہوتی ہے۔بہت کم لوگ اس صلاحیت سے کام لیتے ہیں۔فرض کر لیں کہ اگر میں لکھاری نہ ہوتا تو میں ایک استاد ہوتا اور وہ اَلْحَمْدُلِلّٰه میں ہوں۔ شروع سے ہی تعلیم کی طرف رجحان تھا۔لکھنا پڑھنا سب سے بڑا شوق تھا۔میرا اٹھنا بیٹھنا پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ رہا۔کالج لائف میں ایک پرائیوٹ سکول اور بوائز اکیڈمی بھی بنائی تھی۔دو تین سال وہ نظام چلا۔اس کے بعد میں ایم اے کرنے لاہور چلا آیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے سب سے پہلے گورنمنٹ سکول میں جاب کے لیے اپلائی کیا تھا۔کیونکہ ارادہ یہی تھا کہ قوم کے معماروں کی تربیت کرنی ہے۔انہیں بہتر تعلیم سے روشناس کرنا ہے۔نئی نسل تیار کرنی ہے۔استاد کی ہمارے معاشرت میں عزت و تکریم بہت ہے۔انبیاءکا پیشہ ہے۔قوم کی خدمت اور دیہاتی علاقے میں رہائش ہونے اور مزدور لوگوں کے بچوں کو پڑھانے کا جذبہ تھا۔میرے لیے خوش قسمتی کی بات کہ میں بیک وقت لکھاری بھی ہوں اور استاد بھی۔

11: لکھنے کی طرف کب آنا ہوا ؟
میری پہلی تحریر 2006 ماہ نومبر میں روزنامہ نوائے وقت کے چلڈرن ایڈیشن پھول اور کلیاں میں شائع ہوئی تھی۔اس کے بعد یہ سلسلہ ملک بھر کے بیس رسائل اور پانچ قومی اخبارات تک پھیل گیا۔2006 سے 2012 تک مسلسل لکھا۔اس دوران میری تعلیم بھی جاری و ساری رہی۔چند سال تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے لکھنے کا سلسلہ تعطل کا شکار بھی رہا۔2019 میں دوبارہ باقاعدہ مسلسل لکھنے کا آغاز کیا۔ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔

12: پہلی کتاب  کونسی لکھی اور کیسا رسپانس رہا ؟
میری پہلی کتاب دسمبر 2023 میں “میں وہمی” کے نام سے چھپی ہے۔میاں وہمی میرا تخلیق کردہ مزاحیہ کردار ہے۔اس کتاب میں تیس مختلف عنوانات پر ایک ہی کردار کی کہانیاں ہیں۔اس کتاب کا پہلا ایڈیشن انتہائی کم وقت (ایک ماہ تیرہ دن )میں ختم ہو گیا تھا۔میاں وہمی اس وقت ادب اطفال کا مقبول ترین اور بچوں کا پسندیدہ مزاحیہ کردار ہے۔میری یہ کتاب پاکستان کے چاروں صوبوں اور ملک بھر کے پچپن شہروں میں پڑھی گئی ہے۔اس کتاب کو ادبی حلقوں کی طرف سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔

13:بچوں کے لیے کیا لکھنا  ضروری ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے ؟
ہمیں بطور لکھاری اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننے اور نبھانے کی اشد ضرورت ہے۔ہمیں ایسے موضوعات پر لکھنا چاہیے جو بچوں کی دلچسپی کا باعث بنیں۔ایسی تحریریں لکھنی چاہیے جو تفریح کے ساتھ تربیت کا کردار بھی ادا کریں۔
بچپن میں جب سینیئر رائٹرز کو پڑھا تو اُن کی تحریروں سے بہت سیکھنے کو ملا۔لکھاری نئی نسل کی تربیت بھی کرتا ہے۔انہیں اپنی تحریروں کے ذریعے اچھائی برائی سمجھاتا ہے۔بچے کہانیوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔میرا مقصد ہے کہ میری تحریریں اگر کسی انسان کی زندگی بدلنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ تو وہ میری بہت بڑی کامیابی ہے۔میں ایسا فن تخلیق کرنے کا حامی ہوں جو انسان کو مقصدِ حیات سے آشنا کرے۔میں ادب برائے مقصدیت کا قائل ہوں۔

14: سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟
میری یہ خواہش ہے کہ دنیا دیکھی جائے اور مصور حقیقی کے تخلیق کردہ تمام حسین نظاروں ،تمام رنگوں سے فیض یاب ہو سکوں۔سیر و تفریح کا بہت شوقین ہوں۔زمانہ طالب علم میں چند شہروں کی سیر کر سکا تھا۔اس کے بعد زندگی کی بھاگ دوڑ شروع ہوئی۔جن دنوں لاہور میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ہوسٹل میں قیام پذیر تھا۔ہوسٹل انتظامیہ کی طرف سے مری کے دن تین کے ٹور کو انجوائے کیا تھا۔لاہور کے ساتھ ساتھ مری، کھیوڑہ اور اسلام آباد کا وزٹ کر چکا ہوں۔اس کے علاوہ پاکستان کے چند دیگر شہر بھی شامل ہیں۔

15: کھانا پکانے کا بھی کوئی شوق ہے  یا  صرف کھانا کھانے کا ہے ؟
مجھے صرف کھانے پینے کا شوق ہے۔کوکنگ کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔مجھے کھانے میں قورمہ، دیسی ساگ، بریانی، پلاو، بھنڈی اور دال چاول بہت پسند ہیں۔ناشتے میں اکثر انڈہ پراٹھا کھانا پسند کرتا ہوں۔

16: آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ  جملہ کیا ہوگا ؟
زندگی ایک جملے میں شاید بیان نہ ہو۔زندگی وہ جو دوسروں کے لیے جی جائے۔خوشیاں بانٹنے کا نام زندگی ہے۔کسی کا احساس کرنے کا نام زندگی ہے۔

17: زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
وقت بہترین مرہم ہے۔بڑے سے بڑا دکھ گزرتے وقت کے ساتھ کم ہوتا جاتا ہے۔انسان سب سہہ لیتا ہے۔میری زندگی کی سب کی قیمتی شے چند سال پہلے کھو گئی تھی۔خود کو سنبھالا دیا۔آگے بڑھنا پڑا۔زندگی چلتے رہنے کا نام ہے۔

18: زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے اب بھی ہنسی آتی ہو ؟
بچپن کے چند واقعات یاد ہیں۔جن میں سے ایک کا ذکر یہاں کیے دیتا ہوں۔ہمارے گھر کے پاس ایک بزرگ دکان دار ہوا کرتے تھے۔ہم اکثر ان کی دکان پہ تک جاتے جب رات کو بجلی بند ہوتی۔بجلی بند ہونے کا فائدہ یہ ہوتا کہ ہم اسے اکثر جعلی نوٹ تھما آتے تھے۔گھر آ کے بہت خوش ہوتے کہ دکان دار کو بیوقوف بنایا ہے۔اب بھی جب یہ سب یاد آتا تو ہنسی آتی کہ بچپن میں انسان کیا کیا کرتا ہے۔

19: نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
سینئرز اور جونیئر رائٹرز کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔سبھی اچھا اور اصلاحی نقطہ نظر سے لکھ رہے ہیں۔نئے لکھنے والوں سے عرض ہے کہ وہ مختصر مگر موثر لکھنے کے اصول کو اپنائیں اور ادب برائے مقصدیت کے ارادے سے لکھیں۔

20:اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟
اپووا نے بہت کم عرصہ میں ایک مقام بنایا ہے۔ادبی تنظیم بنانا بہت آسان لیکن اس تنظیم کو متحرک اور فعال رکھنا ایک مشکل کام ہوتا۔لیکن ایم ایم علی بھائی اس مشکل کام کو پچھلے کچھ سالوں سے بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔اپووا کی ادبی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔سئینیر قلمکار ہوں یا نوآموز سب کو ساتھ لے کر چلنا کوئی اپووا سے سیکھے۔اپووا نے ہمیشہ قلمکاروں کو عزت و تکریم دی ہے۔اپووا ادبی حلقوں میں ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر جانی جاتی ہے جس کی سرگرمیاں فروغ ادب میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں اپووا کے ساتھ ہیں

795 total views, 9 views today

3 Responses to انٹرویو محمد توصیف ملک

  1. Appreciative, informative

  2. ثمینہ طاہر بٹ says:

    ماشاءاللہ ماشاءاللہ 💖💖💖

  3. فائزہ شہزاد says:

    ماشاء اللہ بہت زبردست انٹرویؤ ہے روز بہ روز نکھار آتا جا رہا ہے سوالات کا معیار بھی خوب تر ہوتا جا رہا ہے اور توصیف کے جوابات بھی بہت خوب رہے اب تک جتنے بھی انٹرویوز ہوئے سب بہت خوب تھے مگر اس بار اس کو میں خوب ترین کہوں گی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *