انٹرویو ثمینہ سید

اسلام علیکم میں ہوں ساجدہ چوہدری آل پاکستان رائیٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن تنظیم کی جانب سے ملک کی نامور شخصیات کا انٹرویو لینے کےلیے اپنے دلچسپ سوالات لیےحاضر ہوں انٹرویو کےلیے میرے ساتھ موجود ہیں لاہور سے تعلق رکھنے والی ادبی دنیا کی بہت پیاری شخصیت انتہائی قابل
افسانہ نگار اور اعلیٰ اشعار کی مالک شاعرہ محترمہ ثمینہ سید صاحبہ

“اپنے بارے میں کچھ بتائیے
(کب اور کہاں پیدا ہوئیں تعلیم مشاغل قریبی دوست وغیرہ وغیرہ )

میں پاکپتن میں پیدا ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہیں کے سکول اور کالج سے حاصل کی۔

ایف اے اردو ایڈوانس کے ساتھ کیا تو اردو ادب میں دلچسپی بڑھ گئی۔ مطالعے کا شوق جنون بن گیا۔ یہی دلچسپی اور من پسند مشغلہ رہا ہے۔ اس کے بعد میری شادی ہوگئی۔میں نے شادی کے بعد بی اے کیا، بی ایڈ کیا، ایم اے ہسٹری، ایم اردو، ایم ایڈ اور حال ہی میں ایم فل اردو کیا۔ زندگی رہی تو پی ایچ ڈی کروں گی ان شاءاللہ
میرے دنیا بھر میں دوست ہیں۔ زیادہ تر خواتین دوست ہیں۔ حالانکہ میں ادب اور دوستی میں مردوزن کی تفریق نہیں کرتی پھر بھی فطرت کی تفریق پر بھروسا رکھتی ہوں۔

: لکھنے کی ابتدا کب اور کس عمر سے کی اور سب سے پہلی تحریر کونسی لکھی ؟
میں نویں جماعت سے کہانی لکھ رہی تھی اور نظم بھی کہتی تھی۔ لیکن اوزان وغیرہ کا کوئی علم نہیں ت

ھا۔ میری پہلی تحریر ” ایک دکھ نرالا ” میٹرک میں ہی “خواتین ڈائجسٹ کراچی” میں شائع ہوئی۔ یہ تسلیم اور تحسین ملنے کی دیر تھی پھر میں لکھتی چلی گئی۔

آپ بتائیں فطرتاً کیسی انسان ہیں موڈی یا خوشگوار سی ؟

میں بہت چھوٹی عمر سے ہی نہایت نفیس مزاج اور خوش اخلاق ہوں۔۔۔ سب اپنے پرایے یہی کہتے ہیں 😚

آپ کے خیال میں تنقید کرنا ضروری ہوتا ہے، ادب میں کسی کی اصلاح کےلیے؟؟اور تنقید کرتے وقت کس چیز کا ہونا ضروری ہے ؟؟
جی میرے خیال میں تنقید ہی ادب کی اصل روح ہے۔ تنقید کا مطلب جانچ پرکھ ہے اعتراض اور نقائص نکالنا نہیں ہے۔ اگر نظم و نثر کو اچھا قاری ملنا ضروری ہے تو تعمیری تنقید بھی بہت اہم ہے۔ یہ سیکھنے اور اصلاح کرنے میں معاون ہوتی ہے۔

ادبی دنیا میں کن شخصیات سے آپ متاثر ہیں ؟

منٹو اور امرتا پریتم سے باقاعدہ محبت کرتی ہوں اسی طرح ناصر کاظمی اور پروین شاکر کو اردو ادب کا سرمایہ سمجھتی ہوں۔ ان کا تخلیق کردہ لطیف ادب اپنے گداز سے ہمارے اندر تخلیق کی قوت پیدا کرتا ہے۔

آج تک جو لکھا اپنے لکھے سے مطمئن ہیں یا کوئی تشنگی کوئی کمی محسوس ہوتی ہے ؟

میں جب بھی کوئی افسانہ لکھتی ہوں، مضمون لکھتی ہوں، نظم یا شعر کہتی ہوں تو میرے اندر پوری طرح طمانیت ہو جاتی ہے۔ میں بار بار نہیں کاٹتی اور دوبارہ دوبارہ نہیں لکھتی۔ تشنگی نہیں ہے لیکن اضطراب ہے۔ بہت کچھ لکھتی ہوں لیکن ابھی بہت کام کرنا ہے۔

اپنی تخلیقات

ہمارے قارئین کے ساتھ بھی ۔شئیر کیجئیے آپنی کسی فیورٹ تحریر کا نام یا اپنی شاعری؟
میرے فیورٹ افسانے بدلتے رہتے ہیں۔ مجھے منٹو کا “موذیل” اور غلام عباس کا “آنندی” بہت پسند ہے. اپنے بہت سارے افسانے مجھے پسند ہیں جیسے کہ ” پارسائی، ہم کہاں کے سچے تھے، میں طاہرہ اور محبوبہ جو میرے نئے افسانوی مجموعہ ” زن زندگی میں شامل ہے۔ اسی طرح کافی اشعار بھی میرے دل کے قریب ہیں۔
لکھنے ہیں مجھے خواب کے پنوں پہ اجالے
ایسے میں جلا لوں گی ثمینہ میں دیا اور

بس جنوں کا کمال ہے ورنہ
مر ہی جاتے کبھی کے وحشت سے

مری ماں کی دعاؤں کا ثمینہ معجزہ دیکھو
میرے پیروں میں آتے ہی بھنور تقسیم ہو جائے

کسی کے دور جانے سے لگا ہے
جو آنگن تھا وہ رستہ ہوگیا ہے

آپ کو کیا لگتا ہے انٹرنیٹ کا استعمال دور جدید کی ضرورت ہے یا معاشرے پر اسکے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ؟

منفی یا مثبت اثرات کا ہماری سوچ اور طریقہء استعمال سے تعلق ہے ورنہ انٹرنیٹ بہت بڑی سہولت ہے۔ ہمیں ہر قدم آگے بڑھنا ہے تو ہر نئی چیز کا استعمال سیکھنا ہوگا۔ انٹرنیٹ نے ہمیں بہت سے اچھے دوست دئیے ہیں۔ شہرت دی ہے اور سب سے بڑھ کر بے تحاشا علم اور معلومات میسر کی ہیں۔

آپ کو آپ کی اپنی کسی تحریر سے محبت ہوئی ؟

میرا ایک افسانہ ” ہے تو یہیں کہیں ” مجھے بہت پسند ہے۔ کئی بار میں نے تنقیدی نقطہ نظر سے بھی دیکھا ہے کہ اس میں ک

وئی تبدیلی کروں لیکن وہ مجھے پسند ہے۔ ایسے ہی ایک شعر

پھر کہیں جا کے بنی شکل مرے ہونے کی
پہلے خوشبو میں مرا خواب ملایا گیا ہے

اگر آپ کو اپنی شخصیت کو

ایک لفظ میں لکھنے کا کہا جاۓ تو؟

“ادیبہ”….اپنے افسانہ نگار ہونے سے مجھے محبت ہے، میرے رب کا شکر ہے کہ اس نے مجھے الفاظ کو برتنے کا سلیقہ عطا کیا ہے۔

اپنے ساتھی لکھاریوں میں سے آپ کس کو پسند کرتی ہیں ؟
سلمیٰ اعوان، نیلم احمد بشیر اور نعیم بیگ۔۔۔ شاعروں میں ناصر کاظمی اور پروین شاکر مجھے ہمیشہ پسند رہیں گے۔

آپ کیا سمجھتی ہیں موجودہ دور میں عورت کا معاشی طور پر مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے ؟

بہت ضروری ہے۔۔۔ عورت کا تعلیم یافتہ اور برسر روزگار ہونا بہت ضروری ہے۔ اسی سے عورت کی بقا اور انا قائم ہے۔

جو لوگ لکھنا چاہتے ہیں مگر آگے بڑھنے میں بے حد دشواریوں کا سامنا ہے انہیں کیا کہنا چاہیں گی ؟؟؟
لکھتے رہیں، آگے بڑھنا اور نام کمانا ذہنی مسئلہ نہ بنائیں۔ آپ کا کام اور تحریر بہت جلد آپ کی پہچان بن جاتی ہے۔ دیانت اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ پھر وقت سے پہلے اور قسمت سے زیادہ تو کسی کو کچھ نہیں مل سکتا۔

اپوا تنظیم کے لیے کچھ کہیں گے؟؟؟
مجھے ذاتی طور پر اپوا ادبی تنظیم سے گہرا لگاؤ محسوس ہوا ہے۔ میں دیکھ رہی ہوں یہ تنظیم قلم کی خدمت کررہی ہے ادب کو فروغ دے رہی ہے۔ کسی بھی ذاتی مفاد کے بغیر یہ تنظیم خلوص سے کام کر رہی ہے۔ یہ جذبہ اسے ایک مضبوط ادبی تنظیم بنا دے گا۔

لوگ نشانی کے طور پر اپنے پیچھے کچھ نا کچھ تو ورثے میں چھوڑتے ہیں آپ کیا چھوڑ کر جائیں گی ؟؟؟

ڈھیروں کتابیں، اچھی اور اخلاق سے بھری قدریں، میں نے ایک اکیلے پڑھ لکھ کر اپنے بچے تعلیم یافتہ اور بہترین انسان بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔ میرا پیغام یہی ہے کہ عورت اپنے ہاتھ مضبوط کرے۔ پڑھے لکھے، ملازمت کرے۔ اور بے ریا رہے۔ جس کے لیے جتنا کرسکیں کرتے جائیں۔ حساب نہ رکھیں۔ میرا رب ہمیں کتنی بے حساب نعمتوں سے نوازتا ہے۔ اس کی یہ صفت اپنائیں۔

ساجدہ چوہدری. ..بہت شکریہ اللہ پاک آپکو کامیابیاں نصیب فرمائے …..اللہ حافظ

3,882 total views, 3 views today

3 Responses to انٹرویو ثمینہ سید

  1. samina syed says:

    Thanks a lot great surprise for me

  2. Samina Tahir Butt says:

    ماشاءاللہ ماشاءاللہ 💖💖💖

  3. فائزہ شہزاد says:

    ساجدہ جی ۔۔ بہت خوب ماشاء اللہ ۔۔ ہم کہاں کے سچے تھے ۔۔ آپ کی یہ خوبصورت تحریر ہے ثمینہ جی ۔۔۔ اللہ پاک مزید کامیابیوں سے نوازے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *