توکل اور خود اعتمادی

جو دسویں میں مجھے کہتے تھے سائنس نہ رکھنا بندہ پھنس جاتا ہے، جب میرا اول درجہ آیا تو وہی لوگ میرے ساتھ سلام کرنے کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے۔ جب میں نے I.C.S رکھا تو پھر انہی لوگوں نے دوبارہ کہا:” یہ نہ کرنا یہ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ایک جماعت میں ریاضی کے چودہ باب ہیں ،بالکل نہ کرنا” ۔میں نے جب کر لیا پھر ان کو کچھ سوال سمجھنے تھے اور وہ موضوع فقط مجھے آتا تھا۔ اس دوران صبح کالج ،دوپہر کو کورس ،سہ پہر کو اکیڈمی پھر خود بچوں کو پڑھانا اور رات کو اپنا کالج کا کام کرنا۔الغرض، ایسی صورتحال پیدا ہوگئی کہ میرے پیروں میں زیادہ محنت کرنے کی وجہ سے زخم ہوگئے تو گھر والوں نے خود کہا سویرا کم از کم کوئی ایک چیز چھوڑ دیں ۔میں نے وہاں پر کہا نہیں میں کر لوں گی۔سو میں نے ڈگری بھی مکمل کی اور ڈپلومہ بھی اول درجے کے ساتھ پاس کیا۔ ابھی حال ہی میں CS میں میرا FYP تھا تو سب نے کہا منسوخ ہو جائے گا کیونکہ 90٪ فیصد امکان ہیں اور اتنی بار کہا کہ مجھے اپنی قابلیت پر شک ہونے لگا۔مگر میں نے ان کے سامنے تین قرآن کی آیتیں پڑھی:
1.” اور تم انسان چاہ بھی نہیں سکتے اگر اللہ نہ چاہے تو”۔
2.”بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے”۔
3۔درخت سے گرنے والا کوئی ایسا پتا نہیں جس کا علم اسے نہ ہو” ۔
میرے Session میں تمام طالبات کا تین،تین افراد پر مشتمل گروہ تھا۔ جبکہ میں نے تنہا وہ پراجیکٹ کیا تھا اور اللہ نے بھی مجھے رسوا نہیں ہونے دیا۔ کیونکہ میں نے فقط اس پر توکل کیا تھا۔ میں نے یہ بھی پہلے سے کہہ دیا تھا کہ یہ پراجیکٹ منسوخ نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ساتھ میرا نام لگا ہوا ہے۔ یہ پہلی بار تھی ، جب میں نے اپنے نام پر یقین کیا تھا کیونکہ بچپن سے میرے بابا نے مجھے ایک ہی بات کہی کہ آپ بڑا آدمی ہیں۔ مگر بچپن میں میں اکثر بہت اداس رہتی تھی اپنے نام کے باعث اور اپنے والد صاحب سے سوال کرتی تھی کہ میرا نام اتنا طویل کیوں ہے؟۔ تو وہ مجھے کہتے تھے اس لیے کیونکہ آپ بڑا آدمی ہیں۔اگر میرے بابا مجھ پہ یقین نہ کرتے تو شاید مجھے خود پر بھی کبھی یقین نہ ہو پاتا ۔یہی وجہ ہے کہ میں نے تب تک اپنی تحریروں کے ساتھ اپنے بابا کا نام نہیں لگایا جب تک میرا نام اخبار میں نہیں آیا اور جب اخبار میں آیا تب بابا کا یہ بڑا آدمی خود کو سویرا مغل سے سویرا عارف مغل لکھنے کے قابل ہوا۔ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے، جب سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے بابا سب کچھ بھول گئے تھے اور میں سامنے کھڑی ہوتی تھی مگر بابا کہتے تھے آپ کون ہیں؟۔ تب بھی ان کی زبان سے صرف ایک بات نکلتی تھی کہ میرا بڑا آدمی کدھر ہے ؟۔المختصر،بچوں کی تربیت میں والدین کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ وہ جیسا آپ کو کہتے ہیں کہیں نہ کہیں آپکا دماغ اسی چیز کو قبول کرنا شروع کر دیتا ہے اور یہ دنیا کے لوگ آپ کو کبھی آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ آپ لوگوں کی نہ سنیں۔ آپ آگے بڑھیں کیونکہ راستے پیدا اللہ کرتا ہے، لوگ نہیں۔میں نے اپنی زندگی کے تجربات سے یہ سیکھا کہ توکل اور خود اعتمادی کے بغیر ہم کوئی جنگ نہیں لڑ سکتے۔یاد رہے، جنگ لڑنے کا اپنا مزہ ہوتا ہے اور جنگ لڑ کر جیت جانے کا الگ مزہ ہے۔
تحریر۔۔۔ سویرا عارف مغل

15,764 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *