کہاں ھے غیرت کہاں ھے ملت
کہاں ھے غیرت کہاں ھے ملت
کہاں ھے قائدکہاں ھے امت
میں لٹ گئی ھوں میں زخمی زخمی
میں تیرا قبلہ میں تیری اقصی
میں انبیاء کی کبھی سکن تھی
تھے آئی مجھ میں رسول برحق
ھے تیری غفلت اے پیاری امت
فاروق کوئی نہیں ھے اب تو
نہ ھے ایوبی سی گھن گرج وہ
ھیں کان ترسے صدائے حق کو
مگر یہودی نہ جائے اب تو
میں تیری غیرت کواب پکاروں
میں تجھ پہ رو رو کےاشک واروں
چلے بھی آؤ شباب مسلم
کہ اب قیامت بھی آ کھڑی ھے
میری معطر سی ساعتوں میں
نہ لا الہ کی کوئی گھڑی ھے
یہ فرض اپنانبھاؤ امت
کبھی تو تم بن کے آؤ امت
یہودیوں سے چھڑاؤ مجھ کو
کبھی تو وعدہ نبھاؤ امت۔۔”
زبیر معاویہ
300 total views, 3 views today
























Leave a Reply