عنوان: بھیک
ازقلم: ناز علی نواز
“ارے سکینہ بیٹی! آنے دے ان لوگوں کو بے چارے بھوک کے مارے ہمارے در پہ آئے ہونگے ورنہ کون یوں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو پسند کرتا؟ یہ تو بھوک ہے جو انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔” فرزانہ بیگم نے سکینہ کو سمجھاتے ہوئے کہا جو ایک غریب مانگنے والی عورت کو دروازے سے ہی خالی ہاتھ لوٹا رہی تھی۔
“مگر اماں ایسی بھی کیا مجبوری کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑ جائے؟ اور ویسے بھی یہ ان لوگوں کے بہانے ہوتے اور کچھ نہیں۔” سکینہ نے بیزاری سے کہا۔
“ماں۔۔۔ماں۔۔۔! مجھے بھوک لگی ہے۔” تین سالہ احمد نے اپنی ماں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔
سکینہ اپنی پرانی یادوں سے اٹھ کر واپس حال میں آگئی جہاں وہ اپنے بیٹے کو گود میں لیے گلی میں بیٹھی بھیک مانگ رہی تھی۔
“بیٹا! تھوڑا صبر کرو کوئی خدا ترس ہم پہ رحم کر کے کچھ دے دیں تو خریدتی ہوں کوئی کھانے کی چیز تمھارے لیے۔” اس نے اپنے بیٹے کو بہلاتے ہوئے کہا اور واپس اپنے خیالوں میں کھو گئی۔
“سکینہ بیٹی! میری بات مان لے اور نہ کر ضد وہ تیرے قابل نہیں ہے۔” ان کی ماں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
“مگر اماں! میں ان گندی گلیوں میں نہیں رہ سکتی جہاں کوئی ڈھنگ کا پڑوسی بھی نہیں ہے سارے ہی بھیک مانگنے والے یہاں آکے بس گئے ہیں اور ویسے بھی اماں ہماری بھی اب حالت بھیک مانگنے والوں سے کم نہیں بلکہ مجھے تو یہی لگ رہا کہ ہم بھی بہت جلد لوگوں کے گھر جاکر بھیک مانگ رہے ہونگے۔ نہ اماں نہ! تیری بیٹی کسی کی اترن نہیں پہنتی وہ کل کو کسی کا بھیک میں دیا ہوا کھانا کھائیں گی۔” سکینہ نے غرور بھرے لہجے میں کہا۔
اسی رات اس نے گھر والوں کو بغیر بتائے اپنے پسند کے لڑکے سے شادی کرلی۔ ایک سال بعد اسے اللّٰہ نے ایک بیٹے سے نوازا۔ شادی کے چوتھے برس ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا، کچھ دن تو اس نے گزار دیے لیکن پھر بھوک نے اپنا آپ منوا لیا اور وہ سکینہ جو بھیک مانگنے والوں سے نفرت کرتی تھی آج خود بھوک نے اسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کردیا۔ وہ خود تو پھر بھی بھوک سے مر بھی جاتی مگر خودداری کو زندہ رکھتی، لیکن یہاں بات صرف اس کی بھوک کی نہیں تھی بلکہ اس کی اولاد کی بھوک کی بھی تھی۔
“مائی۔۔او مائی! یہ لے پیسے اور یہ چاول بھی لے لو، خود بھی کھالو اور اپنے بیٹے کو بھی کھلاؤ۔” ایک راہ چلتے لڑکے نے ان دونوں پر ترس کھا ہی لیا۔
“ارے بیٹا! کیوں دیے چاول؟ ایسے لوگ تو ہر جگہ منہ اٹھا کر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں، یہ بس ان لوگوں کے بھیک مانگنے کے بہانے ہیں اور کچھ نہیں۔” اس لڑکے کی ماں نے ایک حقارت بھری نظر سکینہ پر ڈالی اور اپنے بیٹے کو وہاں سے اٹھا کر چلی گئی۔
“ہاں اماں! آپ صحیح کہتی تھی بھوک انسان کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیتی ہے۔” سکینہ نے سوچتے ہوئے کہا اور اپنے بیٹے کو چاول کھلانے لگی۔
5,669 total views, 3 views today
























Leave a Reply