آج نہیں تو کبھی نہیں
ازقلم روبیہ مریم روبی
میری آج کی منتحب کردہ کتاب ہے ‘آج نہیں تو کبھی نہیں’ اس کتاب کے مصنف محمد بشیر جمعہ ہیں۔اس کتاب میں مصنف نے وقت کی اہمیت کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔ ہم اکثر تن آسانی سستی اور کاہلی کا شکار ہو کر وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس کا احساس تب ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ اس موٹیویشنل بک میں سب سے پہلے اپنی سوچ درست کرنے کی بات کی گئی ہے۔ مصنف نے سبق آموز تمثیل کے ذریعے سے اپنی بات اور مقصد کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ہم اس کو ناؤ آر نیور بی کہہ سکتے ہیں یعنی سب سے پہلے اپنی سوچ کی تصویر کو ٹھیک کریں۔ اس سے اگلا مرحلہ سستی اور کاہلی کو ختم کرنے کا آتا ہے۔ کاموں میں کاہلی ٹال مٹول اور تاخیر کرنا دراصل اپنے آپ کے ساتھ دشمنی کرنے کے مترادف ہے کیوں کے اہم امور کو ٹالنے کا انجام دردناک اور تباہ کن ہوتا ہے۔ تساہل کو انگریزی میں پرو کرسٹی نیشن کہتے ہیں۔ یہ عمل وقتی طور پر تو بدن اور دل کو سکون مہیا کرتا ہے مگر لانگ ٹرم امرت میں وش کا کام کرتا ہے۔ مصنف کے نزدیک کل کا تصور محض دھوکہ ہے۔ ہم اکثر بڑی بڑی لمبی لمبی پلاننگ کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی کسی کل کے ہی منتظر رہتے ہیں جو کبھی نہیں آتا۔ گزرے ہوئے لمحے کا مطلب ہوتا ہے مرا ہوا لمحہ۔ جب وقت مر جاتا ہے تو کبھی زندہ نہیں ہوتا۔ ہم زندگی گزر جانے کے برسوں بعد جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو خالی پن سا نظر آتا ہے ایسا ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو کل کے انتظار میں سارا وقت برباد کر دیتے ہیں۔ جن کے دل و دماغ میں کل کا تصور راسخ ہوتا ہے اور آج کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ عقل مند لوگوں کی ڈکشنریوں میں کل کا تصور کبھی بھی نہیں ملتا جب کے بیوقوفوں کی جنتریوں میں ہر جگہ کل کل کل کا لفظ ملے گا۔ کاہلی دراصل ایک غیر محسوس بیماری ہے۔ وقتی طور پر یہ انسان کو مزے میں مبتلا رکھتی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جیسا کہ انسان کے نفس میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے۔ بعض اوقات دوستوں خاندان ہم عصروں افسران بالا سرکار یا حکومت سے نظریاتی ٹکراؤ کی وجہ سے ناراضی ہوتی ہے یہی وجہ موٹی ویشن کو کھا جاتی ہے۔ غیر متحرک ہونے کی بڑی وجوہات میں احساس کمتری بلا وجہ شرمندگی اور پشیمانی احساس گناہ غیر فوکس ہونا بھی شامل ہیں یاد رہے ان سب وجوہات کی بھی ایک وجہ ہوتی ہے اور وہ ہے معلومات اور علم کا نامکمل ہونا اسلام کو سمجھنے کے لئے صرف جمعہ کا خطبہ سننا کافی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں تساہل کی خطرناک علامات انسان کے رویے اور باڈی لینگویج سے بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کے زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لیے ذرا سی ہمت کر کے ان روحانی بیماریوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے وہ شخصی منفی عناصر جن کے ذریعے ہم سست و کاہل ہو جاتے ہیں ان کا جائزہ لیجیے اور آگے بڑھیے اگر آپ معاشرے میں کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اپنے آج کو گزشتہ کل سے بہتر بنائیے۔ زندگی میں توازن و تواتر رکھیے۔ حقیقت پسند بنیے۔ نفس کے سرابوں سے نجات حاصل کیجیے۔ اسی طرح ہم اپنے ماحول کو سازگار بنا سکتے ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اگر ہم فرصت چاہتے ہی ہیں تو یہ فرصت مرنے کے بعد نصیب ہو گی قبل از ممکن نہیں۔جامد ہو کر رک کر زندگیاں نہیں سنورتیں۔ ہمیں مثبت سیلف ٹاک کو اپنی عادت بنانا چاہیے اور اپنے آپ کو مسلسل کوشش پر اکساتے رہنا چاہیے۔وقت کی ضرورت کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے رہنا چاہیے۔ مناسب مواقع جات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ علاوہ ازیں اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنے سر پر رکھیں اور ہوشیار اور دور اندیش بنیں۔ ‘آج نہیں تو کبھی نہیں’ اپنے اختتام پر ایک سوال چھوڑتی ہے کہ کیا میرا آج گزرے ہوئے کل سے بہتر ہے؟ کیا میری اتنی تیاری ہے کہ میرا آنے والا کل بہترین ہو گا؟ آج ہر دوسرا انسان سستی و کاہلی کی بیماری کا شکار ہے اس لیے میں نے اس کتاب پر اپنے انداز میں سادہ و سلیس انداز میں تبصرہ لکھنا نہایت ضروری سمجھا۔ ہم آج کے دور میں اپنے نفس کی غلیظ بیماریوں کو نہیں دیکھتے اور سمجھتے بلکہ صرف دوسروں پر الزامات کی بارش کر دیتے ہیں کہ میں نے فلاں کام فلاں کی وجہ سے نہیں کیا جو کہ انتہائی بچگانا حرکات ہیں کیوں کہ ایسی عجیب اور انوکھی حرکات بچوں کو ہی محظوظ کر سکتی ہیں۔نوٹ: میں نے اس کتاب کو پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کر کے اس پر تبصرہ لکھا جہاں کتاب کے مصنف کا نام درج نہیں تھا۔ مصنف کا نام ڈھونڈنے میں گوگل سے مدد لی۔ اگر کہیں کوئی غلطی موجود ہو تو معافی کی درخواست ہے۔ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
4,222 total views, 6 views today
























Leave a Reply