مہلک رشتہ

از قلم : طاہرہ ثمرہ خان

طویل ہوتی خاموشی ان کے دل ودماغ پر ہتھوڑے بن کر برس رہی تھی۔اطراف میں بیٹھے سب لوگ جانے کس جہاں میں کھوئے ہوئے تھے ۔وہ سب کے ذہنوں میں چلتی کہانیوں سے کسی حد تک آگاہی رکھتی تھیں۔آخر کو وہ بھی تو اس سب سے گزر کر یہاں پہنچی تھیں۔وہ آہستہ سے اٹھ کر باہر کی جانب چل دیں۔عمارت کے مختلف حصوں سے ہوتی ہوئی وہ اس طرف آ نکلیں سامنے سکرین پر نظر پڑتے ہی ان کے قدم تھم سے گئے۔یہ کیسی اندوہناک خبر تھی جس نے ان کی ہستی کو تہہ و بالا کر دیا گرنے کے سے انداز میں وہ کرسی پر بیٹھ گئیں۔اس غم کو سہنا بہت مشکل تھا اس کے سامنے تو ان کو اپنا دکھ بہت ہی چھوٹا نظر آنے لگا۔انکھوں سے آنسو موتیوں کی لڑی کی صورت گر رہے تھے۔ سوچوں کا ایک ہجوم امنڈ رہا تھا۔خود کو حالات کے بہتے دھارے پر چھوڑ کر وہ سوچوں کے گرداب میں پھنستی چلی گئیں۔
ذندگی اپنے مخصوص رنگوں سے روشناس کروا رہی تھی۔ان کی ساری اولاد اب خود صاحب اولاد تھی۔سب کی اپنی مصروفیات تھیں غم روزگار نے سب کو تر بتر کر دیا تھا کوئی دوسرے شہر اور کوئی دوسرے دیس جا بسا ۔
عفان ان کا سب سے چھوٹالاڈلا بیٹا تھا اور اب اس کی اولاد بھی ویسے ہی لاڈ اٹھواتی تھی دادی سے۔ نگین کے لئے یہ بات ناقابل برداشت ہو جاتی جب اس کے بچے ہر بات میں دادی کو بھی شامل کر لیتے اور کوئی بھی کام دادی کے بغیر نامکمل ٹھہرتا بظاہر تو وہ مسکرا دیتی لیکن اندر ہی اندر وہ حسد کی آگ میں جلتی رہتی۔ “بڑھیا کے لئے کچھ سوچنا ہی پڑے گا مجھے ایسے تو کام نہیں چلنے والا۔”وہ اپنے ذہن میں روز منصوبے ترتیب دیتی لیکن عمل کرنا اس کے لئے نہ ممکن ہو جاتا۔بلآخر اس کو قدرت کی طرف سے موقع مل گیا۔
معمولی سے نزلہ وزکام نے شدت اختیار کر لی تھی اور ان کی طبیعت سنبھلنے میں نہیں آ رہی تھی عفان مکمل توجہ کے ساتھ ان کا خیال رکھ رہا تھا اور بچے بھی پریشانی کا شکار تھے۔نگین اپنے خیال کو عملی جامہ پہنانے کا عہد کر بیٹھی تھی۔اطلاعی گھنٹی کی آواز سن کر عفان گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ کھڑکی سے چھپ کر اس نے آنے والوں کو دیکھا۔شکر ہے جان چھوٹی اب کم از کم یہ یہاں تو واپس نہیں آئے گی مطمئن ہو کر وہ اپنے کام میں مگن ہو گئی ۔
عفان کے ارد گرد بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ان سب کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔نگین اس میلو ڈرامے سے تنگ آ چکی تھی۔”بس کر دو تم سب اب کب تک نحوست پھیلائے رکھو گے واپس تو یہاں ہی آنا ہے انھوں نے۔” ماما پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری دادو کو وہ پتہ نہیں کہاں لے گئے ہیں اور آپ سکون سے بیٹھی ہیں۔” کہیں نہیں لیکر گئے چیک اپ کر کے واپس بھیج دیں گے۔” اور اگر وہ واپس نہ آئیں تو ۔۔۔؟ حارث کا سوال بھی کسی حد تک ٹھیک تھا۔ “دادی واپس آئیں گی اب تم کچھ اور نہیں کہو گے اور بابا آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا “عارض نے باپ اور بھائی دونوں کو تسلی دی۔ “تمھاری دادی بہت خود دار ہیں یار ان کی غیرت اب ان کو یہاں آنے نہیں دے گی۔ دیس نکالا کے بعد وہ کیسے پلٹ سکتی ہیں۔
نگین نے گڑ بڑا کر عفان کی طرف دیکھا اس کی سلگتی نگاہوں کی تپش اسے اندر تک جلا گئی۔وہ ایک ایسی آگ تھی جس نے خود اپنے ہاتھوں اپنی جنت جلا کر راکھ کر دی تھی۔
وہ ٹی وی کی سکرین کو خالی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
ابھی کچھ دن پہلے وہ اپنے گھر سے بے گھر ہوئی تھیں۔محکمہ صحت نے تفصیلی معائنہ کے بعد انھیں تندرست قرار دے کر گھر جانے کی اجازت دی تو وہ پھر اس جگہ چلی آئیں ۔یہ جانے پہچانے راستے تھے مگر ان کی نگاہیں کئی بار دھندلا گئیں۔ وہ دوسروں کے غم بانٹنے یہاں آتی تھیں اور اب انھیں اپنی غم سے بھری پہاڑ جیسی زندگی یہاں گزارنی تھی۔
آہٹ پر سر اٹھایا انھوں نے تو سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر ان کے چہرے کا احاطہ بے ساختہ مسکراہٹ نے کیا۔ وہ ان کے برابر میں بیٹھ گئی ۔ “آج کس کے غم میں آپ یہاں اداس بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟” “تم سے اسی سوال کی توقع تھی مجھے لیکن میرا جواب تمھارے لئے متوقع نہیں ہو گا۔” “کیوں محترم خاتون آج ایسا کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔؟”
“مجھے لگتا تھا میرے غم بہت بڑا ہے اس سے بڑا غم کوئی نہیں ہو سکتا ۔تین بیٹوں کے ہوتے ہوئے میں اس اولڈ ہوم میں لا وارثوں کی طرح مر جاؤں گی ۔مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ آج سوئے اتفاق میری نظر ٹی وی سکرین کی طرف گئی اور میں ایک نئے درد سے آشنا ہوئی۔ “بیت اللہ شریف”کا طواف اس موئے کرونے کی وجہ سے روک دیا گیا اللہ کا در بند کر دیا دنیا والوں نے ۔یہ تو خود عذاب کو دعوت دینے والی بات ہے۔”
“ہاں دیکھ لیں بس معلوم نہیں دنیا کس طرف جا رہی ہے۔اب تو دیکھیں کیسی کیسی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ لوگ ہسپتالوں میں علاج کروانے سے زیادہ گھروں میں مرنے کو فوقیت دے رہے ہیں۔آئے دن کسی نہ کسی کی سازشوں کے ہی چرچے ہو رہے ہوتے ہیں۔ہم مسلمانوں کا بس ایک یہ ہی عقیدہ ہونا چاہیے کہ سب کچھ “اللّٰہ تعالیٰ “کی رضا سے ہوتا ہے. کن کا مالک وہ رب العالمین ہے۔اس کے حکم کے بغیر پتہ تک نہیں ہل سکتا تو باقی دنیا کی کیا مجال ہے جو ادھر سے اُدھر ہو جائے.لیکن ہمارا ایمان ہی کمزور ہو گیا ہے اس حد تک کے ہم ” اللہ تعالیٰ ” کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے ہی گریز پا ہیں۔اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہو گی کے طواف کعبہ روک دیا گیا اور آگے نہ جانے حج کے موقع پر کیا حالات ہوں ان دنیا والوں سے اب کچھ بھی بعید نہیں۔”
“ہاں بچے کہتی تم بلکل ٹھیک ہو بس میری تو دعا ہے میرا رب سب کا بھلا کرے۔ ہمارے حالات پر رحم فرمائے۔”
اچھا چلیں اب یہ بتائیں آپ نے گھر جانے کا کیا سوچا ۔۔۔؟ آپ کا بیٹا آپ کو تلاش کر رہا ہو گا اور آپ کے دوسرے بیٹے بھی تو آپ سے رابطے کی کوشش کر رہیں ہونگے؟
ہاں کر تو رہے ہوں گے مگر پیچھے رہ جانے والوں سے رابطوں کے سب در میں اپنے ہاتھوں بند کر چکی ہوں۔وہ دیار غیر میں رہنے والے لوگ بھی ہم مسافروں کو کہاں قبول کریں گے۔ ہماری منزل تو بس اب چند گز زمیں کا وہ ٹکڑا ہی ہے لیکن جانے وہ بھی نصیب ہو گا یہ نہیں اللہ ہی جانتا ہے۔ ایسی باتیں نہیں کریں میں تو آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتی ہوں ۔حالات دیکھ لیں آپ کے سامنے ہیں جس طرح کی افواہیں گردش میں ہیں مگر آپ کو ہسپتال والوں نے صحیح سلامت نکلنے دے دیا یہ اللّٰہ تعالیٰ کا احسان ہی تو ہے۔”
“ہاں بلکل مالک کائنات کا کرم خاص ہے مجھ پر ۔اب میری باقی رہ جانے والی زندگی کا یہ ہی مقصد ہے کے میں مالک کے بندوں کے لئے آسانیاں پیدا کروں اور یہاں رہ کر میں خدمت خلق کاکام بہت آسانی سے کروں گی۔” مشکل حالات سے گزر کر بھی ان کے حوصلے بلند تھے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ قابل دید تھا۔
ان کے روشن اور خوبصورت چہرے کو تکتے ہوئے ماہ نور سوچ رہی تھی “کتنی بد نصیب بہو ہے ان کی جس نے خود اپنی جنت سے بے دخلی کا پروانہ اپنے لئے تیار کیا۔”

4,242 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *