عورت اور معاشرہ ۔۔

فائزہ تسنیم
اسلام آباد

عورت اللّه تعالی کی ایک نہایت خوبصورت اور نازک تخلیق ہے ۔۔۔
وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ ۔۔۔
عورت ہی مرد کے جنت کا ذریعہ ہے عورت ہی مرد کو جہنم میں لے جائے گی۔ ۔
حضور ﷺ کی پیدائیش سے پہلے دورِ جاہلیت میں عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا۔
بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔
عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا تھا خیر یہ تو اب بھی کئی لوگ سمجھتے ہیں۔
سینہ تمام داغ داغ
پنبہ کجا کجا نہم
زمانہء جاہلیت میں عورت کو ذلت و رسوائی کی وجہ تصور کیا جاتا تھا ۔۔۔
لیکن سرور کونین سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ نے معاشرے میں عورت کو ایک قابلِ فخر مقام عطا کیا۔۔
ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی بہن بیوی اور بیٹی کو گھر کی عزت اور مان بنایا گیا۔مرد کو ان کاحافظ بما دیا ۔۔۔
لیکن آج کی عورت ایک بار پھر خود جوتی بن کر خود کو پیروں تلے روندنے پر تلی ھوئی ہے ۔۔۔
عدالتوں میں اکثر مقدمات کا محورومرکز عورت کی ذات ہوتی ہے ۔۔۔
مجھے کل ہسپتال جانے کا اتفاق ہؤا ۔
وہاں پہلے پرچی بنوانی تھی چنانچہ ہم نشستوں پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔
ہسپتال میں مرد و زن کا جم غفیر تھا ۔۔۔
لیکن چندخواتین ہی ایسی تھیں جو خود کو مکمل طور پر ڈھانپی ہوئی تھیں ۔
ورنہ آنے والی ہر عورت نے ایسا لباس زیب تن کیا ہؤا تھا کہ الامان الحفیظ۔۔
مرد تو مرد عورتوں کی نظریں بھی بلا ارادہ ہی ان آزاد خیال اور مادر پدر آزاد خواتین پر اٹھ اٹھ رہی تھیں ۔۔۔
لباس کا بنیادی مقصد جسم کا پردہ کرنا ہے لیکن آجکل خواتین کی اکثریت نے لباس جسم کی نمائش کے لیے پہنا ہوتا ہے ۔۔۔
چند خواتین پینٹ شرٹ میں ملبوس تھیں چند نے لباس کے نام پر دھبہ زیبِ تن کیا ہؤا تھا۔۔۔
اور چند خواتین نے نقاب تو کیا ہؤا تھا لیکن سکارف اتنا ہی تھا جو ناک کو ڈھک لے باقی جسم عیاں تھا ۔۔۔
اس میں اب معاشرے کا کیا قصور ہے بلکہ عورت نے خود ہی ذلت کا دامن تھام لیا ہے ۔۔۔
کچھ ماڈرن خواتین بینر اٹھا کر سڑکوں پر نکل آتی ہیں ۔۔۔جب عورت خود کو بازار کی زینت بنا لے، برابری کے حقوق مانگے اور ان کے مرد انہیں آزاد چھوڑ دیں، گرل فرینڈ بوائے فرینڈ میں کوئی قباحت نہ سمجھی جائے پھر عصمتیں اسی طرح تارتار ہوتی رہیں گی۔۔۔
میں یہ نہیں کہتی کہ مرد دودھ کا دھلا ہے لیکن عورت جب دعوت گناہ دیتی بازار میں خود کو نمائش کی چیز سمجھے، بچی کچھی کسر ٹی وی،یوٹیوب ،ٹک ٹاک جیسی ایپس نے پوری کر دیں تو نتیجہ جو ہو گا وہ ہمارے سامنے ہے ۔
گاؤں کی خواتین باپردہ رہ کر اپنے کام سر انجام دیتی تھیں لیکن اب وہاں بھی لوگوں نے یوٹیوب چینل کھول کر آسان رزق کمانا شروع کر دیا ہے۔
اس میں سب سے زیادہ کردار دیہاتی خواتین کا ہے ۔۔
عورت نے گھر کی سربراہی چھوڑ کر مرد سے دو قدم آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے ۔۔۔
جب پردے کو کہا جائے تو کہتی ہیں”دل کا پردہ ہونا چاہئے ”
کیا کبھی کسی نے دل میں جھانک کر دیکھا ہے ؟؟دل تو ہوتا ہی پردے میں ہے ۔

دورِ جدید کی عورت کیا نبئ کریم صلی الله عليه وسلم کے خاندان کی مقدس خواتین سے زیادہ پاک باز (نعوز باللہ ) ہے جو دل کے پردے جیسی بھونڈی دلیل دیتی ہے ۔۔
پھر انہی لبرل خواتین کا کہنا ہے
“مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ”
مرد کب تک اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں کہ ہر شعبے میں خواتین ہیں ۔۔۔۔
خواتین کو کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے گھر سے نکلنا پڑتا ہے ،کام کرنا پڑتا ہے لیکن کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ بے پردہ گھروں سے نکل کھڑی ہوں اور مردوں کو نظر نیچی رکھنے کا درس دیتی پھریں ۔۔۔

بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہؤا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

اب عورت معاشرے کے بگاڑ کی اہم وجہ بن گئی ہے ۔۔۔
بچے کو توجہ دینے کی بجائے روتے بچے کے ہاتھ میں موبائل ،لیپ ٹاپ دے دیا، ایل سی ڈی پر کوئی فلم لگا دی ۔۔۔
حالانکہ بچے سیکھنے کی عمر میں ہوتے ہیں پھر بچے جب بگڑ جاتے ہیں تو سر پکڑ کر ماتم شروع کہ اولاد نافرمان ہو گئی ہے۔
جب بچے کو لوری کی بجائے موبائل اور لیپ ٹاپ کی علت لگائی جائے گی اور دودھ بھی فیڈر سے پلایا جائے گا تو پھر بچہ بڑا ہو کر کیونکر فرمانبرداری کرے گا؟؟؟
اس سے کیا امید ہو سکتی ہے؟؟؟
اکثر خواتین آج بھی گھروں کو سنبھالتی ہیں لیکن اندازہ ہو رہا ہے کہ ٹی وی اور دوسری سوشل ایپس ان کو بھی گھریلو ذمہ داریوں سے دور کر دیں گی۔
رہے نام اللہ کا۔۔۔
تلخ الفاظ ہیں پر ہیں سچ ۔۔۔

3,992 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *