زندگی سے لطف اٹھائیں

از قلم روبیہ مریم روبی

‘زندگی سے لطف اٹھائیں’ یہ کتاب اسوۂ حسنہﷺ کی روشنی میں زندگی گزارنے کے سنہرے اصولوں پر مبنی ہے۔آج میں اس کتاب میں موجود ویلیوز ہدایات اور قرآن و سنت سے اخذ شدہ معلومات کو قارئین کے سامنے پیش کروں گی کیوں کہ ان کی ہم سب کو اشد ضرورت ہے۔اس کتاب کا ہر موضوع وسعت اور عالم گیریت کا حامل ہے۔دو چار صفحوں کے تبصرے میں پوری کتاب کا احاطہ کرنا ناممکن ہے اس لیے میں مختصر مگر جامع کے اصول کو مدنظر رکھوں گی۔یہ کتاب انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی اور تبصرہ لکھ ڈالا۔ان موضوعات پر لکھا جو مجھے اپنے اور خاص طور پر دوسروں کے لیے مفید محسوس ہوئے۔اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد بن عبدالرحمٰن العریفی ہیں۔میں چوں کہ صرف کتاب کا موضوع اور قرآن و سنت سے تعلق اور تانے بانے دیکھ کر تبصرہ لکھتی ہوں ۔جتنی بھی کتب پر تبصرے لکھے ان تمام کے مصنفین سے نابلد ہوں۔اس لیے مصنف کے نام افکار یا کسی بھی حوالے سے کوئی غلطی موجود ہو تو معافی کی درخواست ہے۔مجھے جس چیز نے اس کتاب کا پیغام قارئین تک پہنچانے کے لیے اپیل کی وہ مصنف کا یہ خیال ہے کہ کتاب صرف پڑھنے کے لیے نہ پڑھی جائے بل کہ اس پر عمل کرنے کے لیے اس سے مستفید ہوا جائے۔ڈاکٹر محمد بن عبدالرحمٰن العریفی سعودی عرب کے معروف عالم سکالر اور مصنف ہیں۔ان کی 20 سے زائد کتب کروڑوں کی تعداد میں شائع ہو چکی ہیں۔آپ مقرر کے طور پر سامعین کو مبہوت کرنے کے فن سے آگاہ ہیں ۔آپ نے کیسٹوں اخباروں رسالوں نیز ہر طرح کے وسائل سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی سعی کی۔آپ کی کچھ ایسی کتب بھی ہیں جن کے 40 لاکھ نسخے شائع ہو چکے ہیں۔آئیے چلتے ہیں آپ کے افکارو نظریات کی جانب تا کہ خیالوں کے بہتے دریا کو کوزے میں بند کیا جا سکے۔مصنف کے نزدیک دنیا امن کا گھر ہے۔خدا تعالی نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے ان کو پہچانیں اور فائدہ اٹھائیں کیوں کہ جو لوگ صرف مرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں ان کی یہ تمنا تو ضرور پوری کی جائے گی تو بہتر یہ ہے کہ چلتی سانسوں کا فائدہ حاصل کیا جائے نہ کہ مرنے مرنے کی رٹ لگا کر وقت برباد۔بہادر وہی ہوتا ہے جو پختہ عزم سے اپنی صلاحیتوں کو ترقی دے کر لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ہمارا جو وقت گزر گیا سو گزر گیا۔ہمیں اس بات کو زیر نظر رکھنا چاہیے کہ آئندہ کیا سیکھیں گے یا ماضی سے کیا سیکھا؟ کہیں ہم ماضی کا بوجھ تو اٹھا کر زندگی کا کے ٹو سر کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے؟ جب ہم پر غریبی محتاجی اور بے بسی آن پڑی تھی کہ اب بھی اسی کے بارے میں سوچ رہے ہیں یا آگے بڑھ رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ آئندہ کیا سیکھیں گے؟ کن مہارتوں کی تلاش کریں گے؟ معاشرے کو ملک آپ کو اور دنیا کو کس قسم کے ایکسپرٹس کی ضرورت ہے؟ کیا ہم دنیا کے مطابق خود کو ڈھال کر ایک ہنر مند اور ماہر کے طور پر خود کو پیش کر کے ملت و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں؟ کیا ہم زیرو سے شروع کر کے ہیرو بن سکتے ہیں ؟عام آدمی کی مشقت زیادہ زندگی گزارنے کی بجائے کامیابیوں ترقی کی بلند و بالا چوٹی پر براجمان ہو سکتے ہیں ؟کیا ہم نے بہتر زندگی گزارنے کے لئے کامیابی کی بلند و بالا چوٹی پر چڑھنے کے لئے پر خار جھاڑیوں اور گندے نالوں سے نظریں ہٹا لی ہیں؟ نہیں تو کیوں نہیں؟ اپنے آپ کو ترقی دیجیے اگر یہ ہنر نہیں تو سیکھیے۔ بےبی سٹیپس اٹھائیے۔یہ محاورہ زبان زد عام ہے کہ قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔اس پر یقین رکھیے۔صرف ٹی وی اداکاروں کے بیانات مصنفین کے اقتباسات ڈراموں فلموں کے ڈائیلاگز اور سیاسی و سماجی حقائق مت بیان کیجیے بل کہ آج خود کچھ لکھیے۔کچھ کیجیے تاکہ کل آپ کا کام آپ کی شناخت بنے۔اپنی نظر کو کھیل شوبز اور رنگارنگ دنیا سے آگے بڑھائیے۔ایک قدم آگے بڑھا کر آگے بڑھنے کی کوشش کیجیے۔ یاد رکھیے اپنا مزاج بدلنا مشکل ضرور ہے نہ ممکن نہیں ۔آپ کا جو خاص مزاج پروان چڑھے گا وہی آپ کی پہچان بنے گا تو کیا درست نہیں شریعت اور اصولوں کے مطابق اپنے مزاج کو تشکیل دیں۔ یاد رہے انسانی مزاج کو بدلنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کے لباس تبدیل کرنا۔ چند مخصوص عادتیں اپنا کر اپنے دماغ تک کو بدلا جا سکتا ہے۔ منفیت کی جگہ مثبت اقدار بھری جا سکتی ہیں ۔نمایاں بھی بنا جا سکتا ہے لیکن جب ہم اپنی بات یا عمل کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے کا فن سیکھ لیتے ہیں تب۔ زیرک دور اندیش اور ہوشیار بنیں ۔رویے میں نرمی اپنائیں اور ماحول کو پسندیدہ بنا لیں یہ درست ہے کہ مختلف قسم کی مہارتوں سے رب تعالی نے آپ کو نواز رکھا ہے اس حسی متاع یعنی فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دلچسپی کا سامان پیدا کیجیے۔مصنف کے استعمال کردہ اس کتاب میں موجود ہر موضوع کی کڑیاں آپس میں ملتی ہیں اور ایک زنجیر بن جاتی ہے مصنف کے نزدیک اگر ہم واقعی زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں فقراء و مساکین سے بھی نرمی کا معاملہ رکھنا چاہیے۔ غریبوں سے دعائیں لیں ۔خواتین کا احترام کریں۔ بچوں سے شفقت کریں فون کی غلطیوں کوتاہیوں کو نظر انداز کریں یوں لوگ آپ سے نہ صرف جوڑیں گے بلکہ آپ کے وفادار بھی ہوں گے۔ غلام و خداموں سے نرمی برتیں مخالفین سے عدل کریں۔ اگر کسی کا ظلم برداشت نہ ہو سکے تو اتنا ہی ظلم کریں جتنا اس نے کیا۔ حیوانات سے حسن سلوک برتیں۔ نیت درست رکھیے۔ کوئی منافق ہو یا دشمن سب کے لیے اپنا رویہ درست رکھیے۔ مثبت گفتگو کریں ورنہ خاموشی بہتر است۔ دوسروں کے نام یاد رکھیں۔ لوگوں کی تعریف ضرور کریں مگر خوشامد سے بچیں۔ استاد بن کر تنقید کرنےسے بچیں۔ دوسروں کی رائے کا احترام کریں۔ غلطیاں کریں مگر اعتراف بھی کریں تکبر نہ کریں ورنہ خواہ مخواہ آپ کے دشمن پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ وہ مشکلات جن کا کوئی حل نہیں قدرت کے فیصلوں پر چھوڑ دیں کیوں کہ ہم باہر کی دنیا کو بدل نہیں سکتے۔ اپنے آپ کو مارے غم کے ہلاک نہ کریں۔ کسی پر لعنت نہ بھیجیں۔ جو مل جائے اس پر اکتفا کریں۔ میٹھا بولیں اور مسکرائیں۔ آپ کے جو بعض اہم کام ہیں ان کو راز میں رکھیں۔ جو کام نہیں کر سکتے خدارا اس کی ذمہ داری نہ لیں۔ اصولوں پر رہیں سچے رہیں۔ لوگوں سے درگزر کریں۔ الفاظ کی جادوگری سے فائدہ اٹھائیں۔ لوگوں کو سننے کی عادت ڈالیں۔ انتظار کر لیں اعتراض میں جلدی نہ کریں۔ آئیں مل کر عہد کریں بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ویلیوز کو اپنی زندگی میں شامل کریں اور کامیابی کو اپنی باندی بنا لیں۔اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔

1,773 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *