غم نہ کریں

از قلم روبیہ مریم روبی

آج میں نے جس کتاب کو موضوع گفتار بنایا ہے اس کا شمار دنیا کی عظیم اور لازوال کتب میں ہوتا ہے۔ڈاکٹر عائض القرنی کی یہ کتاب پاکستان میں غم نہ کریں عرب میں لاتخزن اور یورپ میں ڈونٹ بی سیڈ کے نام سے معروف ہے۔ میں اس کتاب کو سادہ و سلیس انداز میں بیان کرنے کی کوشش کروں گی تا کہ عام لوگوں تک اس کا پیغام پہنچے۔اس کتاب کے عنوان میں امید چھپی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی دس لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔اس کتاب میں اسلامیات نفسیات سماجیات نفسِ انسانی لافانی دنیا مشکلات جہاں اور ان کا حل جیسے موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔یہ ایک اصلاحی و تبلیغی کتاب ہے۔علاوہ ازیں اس میں عربی اصطلاحات بھی استعمال کی گئی ہیں۔اس کتاب میں مصنف غموں تکلیفوں پریشانیوں میں عام آدمی کے ہم دم نظر آتا ہے۔بلاشبہ مصنف نے یہ کتاب لکھ کر انسانیت کے ساتھ اپنی ہمدردی کا عمدہ ثبوت فراہم کیا ہے کیوں کہ اس کتاب کے تانے بانے قرآن و حدیث سے جڑتے ہیں۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر طبقے کا فرد اس سے مستفید ہو کر خدا کی رحمت سے سرشار ہو سکتا ہے۔اس کتاب کے مصنف نے سب سے پہلے لا آف ایٹیٹیوڈ کی بات کی ہے یعنی شکرگزاری ۔جب ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کان ناک ہاتھ پاؤں اور صحت کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیوں کہ ان نعمتوں سے محروم اس دنیا میں لاتعداد لوگ ہیں۔ہمیں ماضی کی غلطیوں نافرمانیوں اور محرومیوں کا بوجھ سر سے اتار دینا چاہیے۔اگر اتنا بوجھ کندھوں پر سوار ہو گا تو ہم امید کا کے۔ٹو کبھی سر نہیں کر سکیں گے۔مستقبل کو خوشی سے خوش آمدید کہیں۔وقت سے پہلے برا سوچنا ناکامی کو دھکیل کر گھر لانے کے مترادف ہے۔اگر کسی وجہ سے لوگ آپ پر تنقید کریں تو اس کا بے جا سامنا کیجیے۔برے لفظوں سے نہ گھبرائیے۔وہ صرف سیاہی سے انسانی ہاتھوں کی بنائی شکلیں ہیں۔اگر آپ کسی پر احسان کر ہی دیں تو خدا را شکریے کا انتظار کیے بغیر تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیجیے کیوں کہ احسان کرنے سے سینہ کھلتا ہے۔فارغ نہ رہیں ۔لوگوں کی نقل کرنے سے بچیں ورنہ آپ کی شناخت کھو جائے گی۔اگر آج محنت کرنا مشکل ہے تو یاد رکھیے عسر کے ساتھ یسر بھی ہے۔پریشانی میں انسانوں کو بھول جائیے صرف خدا کو پکارئیے۔اس کے علاوہ جس زریں اصول سے مصنف نے ہمیں آگاہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ دوسروں پر بوجھ نہیں بننا چاہیے کہ شہد تو حاصل کریں مگر چھتا کبھی نہ توڑیں۔لوگوں سے بہتر تعلقات استوار رکھیں۔صبر مسکراہٹ معرفت خوشی جذبات پر قابو امید نیکی مقدر خوشی خوش گمانی خوش بختی حسنِ اخلاق توحید علمِ ہدایت امن شکر اور اخلاق جیسی اسلامی اخلاقی و ایمانی اقدار پر عمل کرنا لازم و ملزوم ہے۔اور اخلاقِ سئیہ سے بچنا دنیاوی و اخروی کامیابی کا ضامن ہے۔اس کتاب میں سے کچھ ہدایات مجھے ذاتی طور پر بہت پسند آئیں ان کو بیان کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہیے۔لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھنی چاہییں۔اپنا نام خود کمانا چاہیے۔مثبت اور تعمیری تنقید کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ملکوں ملکوں گھومیں۔احساسِ کمتری سے فائدہ اٹھائیں۔کتاب کائنات پڑھیں۔زمانے کی الٹ پھیر سمجھ کر اپنے اعمال سر انجام دیں۔صاحبِ جمال بنیں ۔خواتین سے نرمی کا معاملہ رکھیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنی شناخت اور پہچان کھو دینے کی غلطی ہر گز نہ کریں۔میں نے بہت تفکر و تدبر کے بعد اس کتاب کا انتخاب کیا ہے تاکہ نفسیاتی طور پر پریشان حال افراد اس سے بھرپور فائدہ حاصل کر سکیں۔اللہ آپ سب کا خامی و ناصر ہو۔

5,372 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *