حسن بے لگام
محبت کی اس شام میں
جب ہلکی ہلکی پھوار پڑی
اس کے خوبصورت گالوں پر
ننھے ننھے قطرے اٹھکیلیاں کرتے
گالوں سے پیار کی باتیں کرتے ہیں
اس کے حسین گالوں کو
چھوتے چھوتے پگھلتے جاتے ہیں
پھسلتے جاتے ہیں.
حسین ہے وہ جانے ہے
حسن کو بہت چاہے ہے
بات کوئی نہ مانے ہے
مغرور بہت وہ جانے ہے…
کبھی آنکھوں سے
کبھی باتوں سے
دل چرائے وہ کئیوں کا
پھر بھی ہار نہ مانے ہے..
حسن اس کا بے لگام
قطرے سے وہ لہر بنے
لہر سے وہ بحر بنے
بحر سونامی میں بدلے
جدھر سے گزرے
تباہی پھیلے..
اس کا حسن بے لگام
تیری میری زیست سے کھیلے.
(اعجازاحمدلودھی)
759 total views, 3 views today
























Leave a Reply