غافل انسان
سورہ العصر میں الله تعالی نے فرمایا انسان خسارے میں ہے اور آج فتنوں کے اس دور میں جب ایک کرونا نامی وباء شہروں کے شہر اجاڑ رہی ہے ایک ہی گھر کے سارے افراد اکٹھے اچک رہی ہے تو انسان بھاگ ریا ہے کس سے بھاگ ریا ہے اپنے رب سے کہاں جاے گا بھاگ کر اپنی موت سے ،جس سے کسی کو مفر نہیں جس نے ہر جگہ دبوچ لینا ہے جو ایک حقیقت ہے تو ایسے اپنے رب سے بھاگے نہیں اس کی طرف قدم بڑھایں اللہ کے خالص بندے بن جایں اس سے لو لگا لیں تا کہ یہ بے سکونی ،بے چینی اور موت کا خوف جو مرنے سے پہلے مار رہا ہے اس سے نجات مل جاے اور ہم بھاگنے کی بجاے اس کی مرضی کے تابع ہو جایں سربسجود یو جایں کہ ہماری جانیں اسی کی امانت ہیں اور یہ رب کا حق ہے اس کی مرضی ہے وہ جب چاہے یہ امانت واپس لے لے
غفلت میں ڈوبے انسان ہوش میں آنے کی بجاے مزید دنیا داری میں لتھڑ رہے ہے دنیا کی حرص بڑھ رہی یے کوت سامنےبدئکھ کر بھی مزید جینے کی تمنا جاگ رہی ہے بے شک انسان خسارے میں ہے جو اس وقت کو غنئمت نہی سمجھ رہا جسے اب بھی فکر فروا کھا رہی کل کون سا کل اس عالم میں تو آج پل دو پل اگلی گھڑی کا بھی علم نہیں تو کس کل کے لئے تگ و دو
اب تو ہم ڈینجر زون میں آ گئے ہیں اور اس ڈینجر زون سے نکلنے کے لئے ہمیں دنیا داری کی فکر چھوڑنا ہو گی دنیا کی ضروریات کو فراموش کرنا ہو گا کہ وقت مزید جینے کی تیاری کرنے کا نہیں گھروں میں راشن بھرنے کا نہیں سٹاک کرنے کا نہیں لوگوں کو ہم راشن تو دے رہے ہیں ان جے جسم کی ضرورت جا احسا س تو کر رہے ہیں مگر ضرورت ان کی روح کی بھوک مٹانے کی ہے جو رب کی قربت اور اس کے احکامات پر عمل کرنے سے مٹے گی ہم سب کا فرض ہے آگہی دیں سب جو سمجھایں انہیں غفلت سے نکالیں یہ باور کرایں کہ اب دنیا کی ضرورت ان کو نہیں اس دنیا سے جانے کی ضرورتوں کو دیکھیں کہ ہم اپنےرب کی طرف لوٹ رہے ہیں تو ہمارے ہاتھ میں کیا ہے ہم کیا زادہ راہ لے کر جا رہے ہیں اس سے پہلے کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جاے اس دنیا سے جانے کی ،اپنے رب سے ملنے کی ،اس کے حضور پیش ہونے کی تیاری کر لیں اس طرح کہ مرا رب جب پکارے اور یہ امانت اس کے سپرد ہو تو کہے اے اطمینان والی جان! لوٹ آ اپنے رب کی طرف اس طرح کہ میں تجھ سے راضی اور تومجھ سے راضی داخل ہو جا مرے بندوں میں ،اے اطمینان والی جان مری جنت میں داخل ہو جا
از قلم سعدیہ ہما شیخ
2,129 total views, 3 views today
























Leave a Reply