ایک یتیم بچی کا دل ہلا دینے والا ’’کھُلا خط‘‘

ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے ’’ دُنیا کے سو عظیم آدمی‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اُس نے نبی اکرم حضرت محمدﷺ کو پہلے نمبر پر رکھا اُس نے اپنے اس مؤقف کی بھرپور تائید کے لیے اس کے حق میں بہت سے دلائل اور تاریخی حوالے دیئے مگر اُس نے ایک ایسا واقعہ بیان کیا جس نے اُسے مجبور کیا کہ وہ محسنِ انسانیت کو پہلے نمبر پر رکھنے پر مجبور ہو گیا۔ مصنف لکھتا ہے کہ نبی آخرالزماں اپنے صحابہ کے جھُرمٹ میں تشریف فرما تھے کہ اس دوران ایک صحابی حاضر ہوئے ، گھبرائے ہوئے تھے عرض کیا یا رسول اللہ میرا کمسن بیٹا صبح سے گُم ہے میں نے اور میرے خاندان نے اُسے بہت زیادہ ڈھونڈا ہے مگر شام آنے کو ہے اُس کا سراغ نہیں ملا آپ دُعا فرما دیجئے میرا بیٹا مجھے مل جائے یہ صحابی اپنی بات سنا رہے تھے کہ اس دوران ایک دوسرے صحابی باہر سے آ گئے تھے اُنہوں نے پوری بات سُن لی تھی جب بات ختم ہوئی تو اُنہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے اس بھائی کا بیٹا فلاں قریشی سردار کے باغ میں بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا ہے اس بات کا سُننا تھا کہ وہ صحابی لگے سرپٹ دوڑنے آپ نے فرمایا رُک جاؤ میری بات سُن کر جانا وہ صحابی رُکے ، آپ نے اُن کا ہاتھ تھاما ، فرمایا اگر کسی باپ کا لختِ جگر صبح سے گُم ہو جائے اور شام کو اُس کے ملنے کی خوشخبری اُسے ملے تو شفقتِ پدری کا تقاضہ ہے کہ اُس کے جذبات آپ جیسے ہونے چاہیئیں مگر میری بات غور سے سنو، جب باغ میں جاؤ تو اپنے بچے کو بیٹا کہہ کر مت بُلانا بلکہ اُس کا نام لے کر پُکارنا ، اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا بیٹا ہی تو ہے فرمایا بالکل تمہارا بیٹا ہے مگر بیٹا ایک مشترک لفظ ہے جو ہر کسی کے لیے بولا جاتا ہے ہو سکتا ہے اُن بچوں میں کوئی یتیم بچہ بھی کھیل رہا ہو اور اُس کے دل میں یہ خیال آ جائے کہ شائد مجھے آواز دی گئی ہے اور سنوفرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر اپنے بیٹے سے لپٹ نہ جاناہو سکتا ہے اُن بچوں میں وہ یتیم بچہ یہ جذباتی منظر دیکھ کر دل میں یہ خیال لے آئے کہ کاش میرا والد بھی آج زندہ ہوتا اور وہ بھی اسی طرح مجھے پیار کرتے ہوئے اپنی آغوشِ محبت میں لے لیتا یہ سوچ کر یتیم کا دل ٹوٹ جائے اور وہ دُکھی ہو جائے مصنف لکھتا ہے کہ جو عظیم انسان یتیموں کے جذبات اور احساسات کا اس قدر خیال رکھے میرا قلم اُسے پہلے نمبر پر نہ لکھے تو یہ ناانصاف نہیں ہو گا۔
یہ تمہید طولانی اس لیے باندھی ہے کہ ایک معصوم یتیم بچی کا حصولِ انصاف کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو لکھا گیا خط جو مورخہ 7 جنوری کے اخبارات میں شائع ہواجب سے پڑھا ہے اُس وقت سے رونگٹے کھڑے ہیں چین اور قرار نہیں آ رہا ، سکون روٹھ سا گیا ہے دل اُداس اور بوجھل ہے وہ خط قارئین سے شیئر کرنا چاہتا ہوں تاکہ دل کے ساتھ ساتھ میرے قلم کا بوجھ بھی ہلکا ہو سکے خط من و عن حاضرِ خدمت ہے۔
قارئین کرام! یہ خط 2013میں نیب کے نوجوان آفیسر کامران فیصل کی دس سالہ یتیم بیٹی ایمن بنت کامران فیصل نے لکھا ہے جن کی موت کو مبینہ خود کُشی قرارا دے دیا گیا تھا جبکہ وہ صاحب اقتدار و اختیار کی اربوں روپوں کی کرپشن کی تحقیقات میرٹ پر کر رہے تھے۔ مبینہ طور پر خودکُشی کرنے والے نیب کے نوجوان آفیسر کامران فیصل کی کمسن بیٹی نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے نام خط میں حصولِ انصاف کی استدعا کرتے ہوئے جو مؤقف اختیار کیا اُس حوالے سے خط کے مندرجات یوں ہیں ’’ جناب عالی فرانزک رپورٹ سے ثابت ہو چکا ہے کہ میرے والد نے خودکشی نہیں کی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ، کھُلے خط میں ایمن بنت کامران فیصل نے چیف جسٹس کو انکل ثاقب بُلاتے ہوئے لکھا کہ میرے والد کامران فیصل جن کو 5 سال قبل مختلف افراد کی اربوں روپے کی کرپشن کے کیس میں دھونس دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اور کرپشن کو طشت از بام کرنے کی پاداش میں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا اس وقت میں نرسری کلاس میں تھی اور آج کلاس فور میں پڑھتی ہوں لوگ تو میرے بابا کو بھول چکے لیکن آپ یقیناً نہیں بھولے ہوں گے۔ میری سہیلی نے مجھے بتایا کہ آپ نے حال ہی میں 17 سال تک انصاف ڈھونڈنے والی ایک بیوہ خاتون کو انصاف دلایا ہے اور آپ نے جب سے خود کو بابا رحمتا کہہ کر لوگوں کو بلا امتیاز اور فوری انصاف کی یقین دہانی کراتے ہوئے ننھی زینب کے قاتلوں کو عبرت کا نشان بنانے کا عندیہ دیا ہے تب سے مجھے اُمید ہو چلی ہے کہ آپ میرے بابا کے قاتلوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔کیا بتاؤں انکل ننھی زینب تو ایک بار مر چُکی مگر آپ کی یہ بیٹی تو روز مرتی اور جیتی ہے شائد آپ کو کامران فیصل قتل کیس نہ بتایا گیا ہو لیکن میں آپ کو بتاتی ہوں کہ اس کیس کی فائل کس سرد خانے میں پڑی ہے میرے بابا کے 2013 میں قتل کے بعد میری ماما نے مجھے بتایا کہ تمہارے بابا کے قتل کو وقت کے فرعونوں نے خودکُشی کا نام دیا لیکن قبر کُشائی کے بعد فرانزک رپورٹ نے یہ اعتراف کیا کہ خود کُشی نہیں یہ قتل تھا جے آئی ٹی رپورٹ 2013 میں سپریم کورٹ میں جمع ہو گئی لیکن آج تک کیس کی باری نہیں آئی میں نے جب اپنی سہیلی کو بابا کی پانچویں برسی کے بارے میں بتایا تو اس نے میری ڈھارس بندھائی اور مجھے کہا کہ تم یہ برسی آنسوؤں سے نہ مناؤ بلکہ اپنے انکل ثاقب کو بتاؤ وہ ضرور تم لوگوں کو انصاف دلائیں گے۔ انکل اگر یہ ظالم لوگ جو میرے بابا کے قاتل ہیں آپ سے زیادہ مضبوط ہیں تو پھر میں اگلا خط سب سے بڑی عدالت کو لکھوں گی۔جلد انصاف کی منتظر قوم کی ایک بیٹی۔
جناب عزت مآب چیف جسٹس صاحب آج آپ کا سائل ایک ایسی یتیم بچی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے ترجمہ عرفان القرآن سورۃ الضحیٰ ’’ کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیں اور اپنے در کے کسی سائل کو نہ جھڑکیں‘‘ ذرا غور کریں تو آج آپ کی سائلہ 10 سالہ یتیم بچی ہے جو معصوم ، بے گناہ، معاشرے کی الائش سے پاک، دُنیا کے نشیب و فراز سے نا آشنا، فہم و فراست سے نابلد، مگر ایسے رشتے سے ٹوٹا ہوا پھول جس رشتے کی شفقت بھری آغوش سے جُدائی کے بعد مجھے اُس کے لکھے گئے خط کے ہر ہر لفظ میں بلا کی سنجیدگی اور کرب نظر آیا ورنہ ایسے پھول تو ٹہنی سے جُدا ہو کر اپنی خوشبو، اپنی تمام تر رعنائیاں، اپنی لطافت، اپنی نرمی اور حقیقی حُسن کھو دیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس میں سمجھتا ہوں کہ زندگی میں پیش آنے والے المناک حادثات پھول جیسے بچوں کو طبعی عمرِ بلوغت سے پہلے سنجیدہ اور دُکھی کر دیتے ہیں۔ میرے کریم آقا حضرت محمدﷺ سے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا دل بڑا سخت ہے۔مجھے کوئی وظیفہ عنایت فرمائیے جس سے میرا دل نرم ہو جائے فرمایا! تم یتیم بچوں اور بچیوں کے سروں پر پیار اور شفقت سے ہاتھ پھیرا کرو تمہارا دل نرم ہو جائے گاجبکہ ایک جگہ ارشادِ نبوی منقول ہے کہ آپ اگر یتیم بچے یا بچی کے سر پر پیار اور شفقت سے ہاتھ پھیریں تو جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اللہ تعالیٰ اُتنی ہی نیکیاں آپ کو عطا فرمائیں گے۔ جناب چیف جسٹس صاحب آج ایک یتیم بچی کا سر، آپ کا دشتِ شفقت اور انصاف برابر کھڑے ہیں اور ننھی ایمن کی وہ دھمکی مجھے کھائے جا رہی ہے کہ جس میں اُس نے انصاف نہ ملنے پر اگلا خط سب سے بڑی عدالت کو لکھنے کا پیغام دیا ہے۔
عزت مآب چیف جسٹس صاحب قدرت کی نظرِ انتخاب آپ پر آ کر رُکی ہے ۔راقم کی التجا ہے کہ اس معصوم گُڑیا کے لیے انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنا دیں ورنہ مجھے تو یہ خوف لاحق ہو رہا ہے کہ روزِ قیامت کہیں یہ گُڑیا اپنے خط کو دلیل بنا کر بارگاہِ الٰہی میںیہ قطعہ نہ پڑھ دے ۔
میں نے مانگا تھا انصاف دُنیا کے منصف سے
میرے بابا کے قاتل ڈھونڈ کر لٹکاؤ تختہ دار پر
سرِحشر کہیں پر گُُڑیا کہہ نہ دے رب سے
مجھے انصاف دینا فرض تھا صاحبِ اقتدار پر
تحریر:
ایم ایم علی

2,007 total views, 2 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *