اپووا کے پی چیپٹر کی صدر محترمہ فائزہ شہزاد کی طنز و مزاح پر مبنی کتاب ” میں بولوں کے نہ بولوں ” کی تقریب رونمائی
اپووا کے پی چیپٹر کی صدر محترمہ فائزہ شہزاد کی طنز و مزاح پر مبنی کتاب ” میں بولوں کے نہ بولوں ” کی تقریب رونمائی
فیض احمد فیض نے موسم بہار کی عکاسی اِن اشعار میں کیا خوب کی ہے :
بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں
پھر عدم سے وہ خواب سارے
شباب سارے
پھولوں کے شہر پشاور میں موسم بہار کے آتے ہی ہر طرف گویا تقریبات کے پھول بھی کھل گئے ہیں اور ہر طرف ادبا اور شعرا کی رنگا رنگ محافل اپنے عروج پر ہیں ـ ایسی ہی ایک خوبصورت سہہ پہر میں رم جھم برستی پھوار اور پھولوں کی مہکار میں 2 اپریل کو اباسین آرٹس کونسل کے ” خاطر غزنوی آڈیٹوریم” میں ایک منفرد تقریب منعقد کی گئی ـ جی ہاں منفرد اِس لئے کہ ” طنز و مزاح” پر مبنی کتاب کی رُونمائی تھی ـ
خیبر پختونخوا کی زمین ہمیشہ سے ادبی لحاظ سے بہت زرخیز رہی ہے اور بہت سے نامور ادیب اور شاعر اِس کا فخر ہیں( جن کے نام لکھنے بیٹھوں تو ایک طویل فہرست مرتب ہو جائے) کاروان حوا لٹریری فورم خیبر پختونخوا کی واحد خواتین کی نمائندہ تنظیم ہے جو خواتین لکھاریوں کے لئے گیارہ سال سے مسلسل سرگرم عمل ہے جس کی چیئر پرسن محترمہ بشریٰ فرخ ہیں ـ ہر سال کاروان حوا کے پلیٹ فارم سے 11 / 12 کُتب کی رونمائی ہوتی ہے مگر اس سال اپنا ریکارڈ خود ہی توڑتے ہوئے فروری میں 14 کُتب کی رونمائی بیک وقت کی گئی ـ محترمہ فائزہ شہزاد ( اپووا کے پی چیپٹر کی صدر اور کاروان حوا کی جنرل سیکرٹری) کی پہلی کتاب کی تقریب رونمائی کاروان حوا اور اباسین آرٹس کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہوئی ـ فائزہ شہزاد کافی عرصے سے اپنا قلم دوستی کا رِشتہ نبھا رہی ہیں اور بے شمار انتھالوجی کتب میں لکھ چکی ہیں ـ انہوں نے لکھنے کا آغاز بہ حیثیت کالم نگار کیا مگر موسم کی مانند اُن کا قلم بھی مزاج بدلتا رہا اور ہر صنف پر لکھا( اُن کے کالم آج بھی جذبہ پوسٹ شکاگو اور امریکن ٹائمز کے علاوہ کسوٹی اخبار میں ” پُتلی تماشا” کے نام سے شائع ہوتے ہیں) کافی عرصے سے سب دوستوں کا اصرار تھا کہ اپنی ذاتی کتاب بھی منظر عام پر لائیں جو آخر کار آ گئی اور سب کو چونکا گئی کہ طنز و مزاح اور وہ بھی ایک خاتون؟اور اپنے نام ایک اعزاز حاصل کر گئیں ـ ( کے پی کی پہلی صاحب کتاب مزاح نگار خاتون ) ہونے کا بقول فائزہ شہزاد: ” میں نے مزاح نگاری کی بنیاد رکھتے ہوئے پہلی اینٹ رکھ دی ہے اب آگے آتے جائیں اور اپنے حصے کی اینٹ رکھتے ہوئے عمارت بنا لیں” ( واہ لکھاریوں کی باتیں ہی الگ رنگ لئے ہوتی ہیں) اُن کی کتاب پڑھتے ہوئے مُجھے مشہور زمانہ گیت یاد آ گیا ” وہ باتیں تیری وہ فسانے تیرے
شگفتہ شگفتہ بہانے تیرے
تقریب کی مہمان ڈائریکٹر کلچر محترمہ حلیمہ اقبال صاحبہ تھیں ـ جب کہ مہمانان اعزاز محترم ڈاکٹر اعجاز خٹک، محترم مشتاق شباب صاحب اور محترمہ بشریٰ فرخ صاحبہ تھیں ـ تقریب کا باقاعدہ آغاز سید حامد محمود نے اپنی پرسوز آواز میں تلاوت کلام پاک سے کیا ۔ سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر تابندہ فرخ نے محترمہ بشریٰ فرخ کا لکھا ہوا نذرانہ عقیدت بحضور سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کر کے حاضرین سے داد وصول کی ۔
نظامت کے فرائض نامور ہوسٹ پروفیسر ملک ارشد حسین نے انجام دیئےـ محترمہ فائزہ شہزاد کی اِس کاوش پر محترم ڈاکٹر ضیغم حسن، محترم فضل کبیر صاحب، نامور اداکار محترم نجیب اللہ انجم، محترم مشتاق شباب صاحب، محترمہ ناز پروین صاحبہ، محترمہ بشریٰ فرخ صاحبہ، محترمہ ڈاکٹر شاہین عمر نے زبردست خراج تحسین پیش کیا ـ تمام مقررین کے مطابق مصنفہ نے بہت سادہ اور آسان فہم زبان میں اردگرد کے معاشرتی کرداروں اور مسائل کو مزاح کے اسلوب میں بیان کیا ہے جسے پڑھتے ہوئے ہر قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا یہ کہانی اسی کی آپ بیتی ہےـ اُن کی یہ کتاب اُن کی شگفتہ مزاجی اور حس مزاح کی عکاس ہے اور آج کل کے ٹینشن زدہ ماحول میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند ہے اور اُن کے کاٹ دار مگر فکاہیہ انداز میں لکھے گئے برجستہ جُملے قاری کو بے ساختہ ہنسنے پر مجبور کر دیتے ہیں ـ انہوں نے روایتی انداز سے ہٹ کر لکھنے کی کوشش کی ہے جس میں بلاشبہ وہ کامیاب رہیں، انہوں نے جہاں خواتین کو موضوع سخن بنایا وہاں پر انہوں نے مرد حضرات کے مسائل( خاص طور پر ادیب اور شاعر) کو بھی بیان کیا ہے کہ کس طرح سے وہ اپنے گھر اور دفتر کے معاملات میں گھن چکر بنے رہتے ہیں ـ پُرانے دور اور نئے دور کے تقابل کو بھی بہت خوبصورتی سے بیان کیا جو کہ پڑھنے والے کو کہیں بوریت کا احساس نہیں ہونے دیتاـ سب دوست، احباب نے اُن کی پہلی کتاب پر دلی مُبارک باد پیش کی اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازتے ہوئے اِس خواہش کا اظہار کیا کہ ” بولوں کہ نہ بولوں ” کے بعد ” اب میں بولوں گی” کا بھی شدت سے انتظار رہے گاـ
ڈائریکٹر کلچر محترمہ حلیمہ اقبال نے مصنفہ فائزہ شہزاد کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا:” کہ مُجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی کہ میں اتنی خوبصورت اور پر مزاح تقریب میں شامل ہُوں، ہم آیندہ بھی ایسی تقاریب کا انعقاد کریں گے اور کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھر پور تعاون کا یقین دلایاـ تقریب میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانان گرامی کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اِس محفل کو خوبصورت اور یادگار بنایاـ تقریب کے اختتام پر گرما گرم چائے اور لوازمات سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔
کے پی کی ادبی فضا میں کافی عرصے بعد ایسی شاندار تقریب منعقد ہوئی ۔جہاں لوگوں کو ہال میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے باہر کرسیاں ڈال کر بیٹھنا پڑا ۔ اس کا سہرا کاروانِ حوا کے سر جاتا ہے۔
رپورٹ: تابندہ فرخ
222 total views, 15 views today
























Leave a Reply