تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
: “تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ”
از قلم
صفاء خالد
جس طرح ایک مسلمان اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے اپنے دین کے احکامات کی پیروی کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔
اس طرح اپنے ملک کو سنوارنے کے لیے اپنی زبان ‘اردو’ کی پہچان، تہذیب، روایات کو بھی برقرار رکھنا لازمی ہے۔ کیونکہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اور اس پاک وطن کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر قائم ہے۔ اور الگ وطن کا حصول بھی صرف اسی لیے تھا کہ مسلمان اپنی مزہبی اقدار خصوصاً اپنی زبان ‘اردو’ کو اپنے خطے میں قومی اور سرکاری زبان کا درجہ دیں۔
اگر ہم نے مغرب کا خول خود سے نہیں ہٹایا تو ہماری آنے والی نسلیں مغرب کی غلام بن کر رہ جائیں گی۔ جبکہ یہ ملک آزاد ہے اور اس کے باشندے جمہوری نظام کی پیروی کرتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی آنے والی نسلیں بھی آزاد اور متحد رہیں۔ اپنی ثقافت برقرار رکھ سکیں ۔
تو قدم اٹھائیے اور تہزیب کی بقا کے لیے اس علم و ادب کے کاروان میں شامل ہو جائیے۔ ہماری زبان، ہماری پہچان اور ہماری آنے والی نسلیں آپ کی کاوش کو ہمیشہ سنہری حروف میں تابندہ رکھیں گی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
ہم روز مرہ کی زندگی میں کس طرح اردو ادب اور اپنی روایات کو فروغ دے سکتے ہیں؟
*ہمیں چاہیے کہ معمولی سے معمولی فقرہ بولتے ہوئے بھی اردو زبان کے الفاظ کا چناؤ زیادہ سے زیادہ کریں۔
*دلائل دیتے ہوۓ اپنی زبان اردو کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
*تمام سرکاری، غیر سرکاری ،درخواستیں، خطوط اور دیگر کاغذات کو اپنی قومی زبان اردو میں تحریر کیا جائے اور اردو زبان میں ہی پڑھا جاۓ۔
اعلی حکام دفاتر بالخصوص تعلیمی ادارے، ہسپتال، عدالت، پولیس اسٹیشن، بورڈ دفاتر وغیرہ میں اردو زبان میں ہی کاغذات تحریر کیے جائیں۔
* سوشل میڈیا پر بھی اردو زبان کو فروغ دیا جائے۔ جیسے واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر وغیرہ۔
*موبائل فون میں اردو پیغامات لکھتے ہوئے اردو کی بورڈ کا استعمال کیا جائے۔
*گھر میں بات کرتے ہوئے، بالخصوص بچوں سے بات کرتے ہوئے اردو زبان کی ادائیگی اور تلفظ کا خاص خیال رکھا جائے۔
*نئی نسل میں اردو ادب کو اجاگر کرنے کے لیے عمر کے حساب سے بچوں کو شاعری، افسانے، کالم، تجزیہ پر مبنی کتب مشغلے کے طور پہ پڑھنے کے لیے دی جائیں۔
*والدین بچوں کے لیے دن کے کسی بھی حصے میں لازمی وقت نکالیں اور ان کو پاکستان کی تاریخ ،تہذیب، روایات اور زبان سے متعارف کروائیں۔ بچوں کو تاریخی اور اسلامی قصے کہانیاں سنائی جائیں۔
*تعلیمی اداروں میں ادب کے حوالے سے بچوں میں مقابلے بھی کرواۓ جائیں۔ اور بہترین کارکردگی والے بچے کو انعام میں ایک بہترین کتاب علم و ادب کے حوالے سے پیش کی جائے۔
*والدین بچوں کے ساتھ معمول کی بنیاد پر اردو ادب کے کسی بھی عنوان پہ بحث و مباحثہ کریں اور بچوں کے ساتھ اردو کے پرچار کے لیے روز کسی نہ کسی موضوع پر غور و فکر کیا جائے۔
*والدین اور اساتذہ اس کاوش میں بچوں کے لیے عملی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کر سکتے ہیں۔ طلباء کو کسی بھی موضوع پر کوئی مضمون یا افسانہ (عمر کے لحاظ سے) لکھنے کے لئے دے دیا جائے۔ طلباء کی عملی کاوش کو ضرور سراہا جائے۔
اپنی زبان کی بقا کے علاوہ اپنی رسومات کو زندہ وجاوید رکھنے کے لیے والدین بچوں کے ساتھ مل کر ٹیلی ویژن پر ادبی پروگرام دیکھا کریں۔
اردو ادب کے حوالے سے ہونے والے سیمینار میں سب لوگوں کو شرکت کرنی چاہیے۔
اردو شعبہ سے منسلک مصنفین کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
تربیت کی مد میں بچوں کا سوشل میڈیا کی طرف رجحان کم سے کم رکھا جائے۔ ان کے پورے دن کو ایک بہترین ظابطے کے تحت چلایا جائے جس میں پڑھائی کرنے کے، سونے کے، دینی تعلیم کا حصول اور تفریح کے اوقات کار کو منظم کر دیا جائے۔
* بچوں کو یونیورسٹی تک پہنچنے سے پہلے ذاتی موبائل فون اور لیپ ٹاپ مت دیں۔ بچے انٹرنیٹ کو کس طرز میں استعمال کر رہے ہیں خاص خیال رکھا جائے۔
*بچوں کو کالج جانے کی عمر تک اپنے کمرے کے دروازے کو بند رکھنے کی اجازت نہ دیں۔
*جب بچہ فون پر بات کر رہا ہو تو اسے سب میں بیٹھ کر بات کرنے کا موقع دیا جائے۔اکیلے میں کال کرنے کی اجازت مت دیں۔
*بچوں میں پرائیوسی جیسے مغربی مرض کو پروان مت چڑھنے دیں۔ بلکہ بچوں کو ہر لمحہ والدین اپنے ساتھ رکھیں۔ اور ان سے روزانہ کی بنیاد پر گھریلو امور پہ بحث و مشاورت کیا جاۓ۔
*بچوں کو کسی اجنبی کے حوالے مت کیا جاۓ۔ غیر رشتے داروں سے بات کرنے پر خاص
تنقید کی جائے۔ بچوں کو جنسی حراست کے حوالے سے آگاہ کیا جائے۔ تاکہ وہ والدین کی غیر موجودگی میں اپنا تحفظ خود کر سکیں۔
*بچے کی رائے کو اہمیت دی جائے۔
* بچوں کے سامنے پیچیدہ معاملات پر بات کرنے سے گریز کریں۔ آج کل بچے اپنی معصومیت کھوتے جا رہے ہیں اور وقت سے پہلے ہی بالغ اور سمجھدار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ والدین بچے کی موجودگی کو پس پشت ڈال کر تشویشناک پہلو پہ بنا سوچے سمجھے بچے کے سامنے گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ بچوں کے سامنے بچے کی حد تک بات کی جائے۔
یہ وہ قوانین اور اصول ہیں جو ایک پاک اور فلاحی ریاست کا ذمہ دار شہری ہونے کے طور پر ملک میں نافذ ہونے چاہیے۔ ہر کام حکومت کے ذمے نہیں ہے۔ ہم ہر چیز کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا نہیں سکتے۔ اس معاشرے کا شہری ہونے کی حیثیت سے کچھ ذمہ داریاں ہم پر بھی عائد ہوتی ہیں۔ اگر ہر پاکستانی اپنی حصے کا کام احسن طریقے سے ادا کرے تو یہ معاشرہ ہر برائی سے پاک ہو سکتا ہے۔ جس میں اولاد کی عمدہ تربیت پاکستانی قانون روایات اور ثقافت کے لحاظ سے سرِ فہرست ہے۔
مغربی تقلید کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ والدین اور اولاد کے رشتے میں پرائیویسی نام کا زہر پھیل چکا ہے۔
نا تو تعلیم سے معاشرے کی بہترین پرورش ہو پا رہی ہے اور نہ ہی تعلم معاشرے میں پھیلتی دن بدن برایئوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو پا رہے ہیں۔ جبکہ آج کی نسل اپنے آباء سے زیادہ سمجھ دار اور ذہین ہے۔ ہمارے آباء و اجداد نے جو قصے، کہانیوں میں سنے تھے آج کی نسل وہ کہانیاں عملی سرگرمیوں میں دیکھتی ہے۔ اس بے پناہ ذہانت کے باوجود بھی ہماری روایات دم توڑتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ کیونکہ ڈگری کسی بھی انسان کی شخصیت کے بہترین اور مثبت پہلوؤں کا تعین نہیں کر سکتی۔ تہذیب و تربیت ہی انسان میں انسان ہونے کا شعور اجاگر کرتی ہے۔
وہ واحد شے جس کی وجہ سے انسان کو تمام تر مخلوقات سے افضل رکھ کر اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا وہ شے بلاشبہ عقل ہی ہے۔ اسی عقل کو بروئے کار لا کر انسان محدود وسائل میں رہ کر بھی نئی اور بہترین راہیں کھوجنے کی استطاعت رکھتا ہے۔
مگر عقل کا وجود علم کے بغیر ایسا ہے جیسے جسم روح کے بغیر ہو۔ تعلیم اور علم میں واضح فرق یہی ہے کہ دنیاوی تعلیم ظاہری اسباب کا احاطہ کر سکتی ہے مگر علم مہد سے لحد تک، ابد سے ازل تک، زندگی سے اجل تک کے تمام پہلوؤں کا اکٹھ ہے۔ تعلیم اور علم کے حاصل میں ایک چیز مشترکہ ہے۔ دونوں کے حصول کے لیے تحریری زبان سے اگاہی اور اس خطے کی قومی زبان پر عبور حاصل ہونا ضروری ہے۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور زبان علم و فہم کے ادراک کا بنیادی ذریعہ۔
366 total views, 3 views today
























Leave a Reply