انٹرویو فائزہ شہزاد

السلام علیکم معزز قارئین!

میزبان رشنا اختر حاضر ہے ایک زبردست سے انٹرویو کے ساتھ ۔ آج ہماری مہمان شخصیت ہیں “محترمہ فائزہ شہزاد صاحبہ ” جو کہ لکھاریہ ہیں اور ان کا تعلق پھولوں کے شہر پشاور سے ہے۔ گفت گو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں اور ان سے کرتے ہیں مزیدار سی باتیں ۔

*السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام ۔ بہت شکریہ آپ نے یاد کیا ۔

*کچھ اپنے بارے میں بتائیے.

میں اپنا تعارف کیا بیان کروں بہار خود ہی اپنا تعارف ہے ( ہائے رے خوش فہمی ) میں 14 اگست کو پھولوں کے شہر پشاور میں پیدا ہوئی اور بقول امی کے بہنوں کے ہنستے ہوئے اور بٹر بٹر سب طرف دیکھتے ہوئے پیدا ہوئی کہ پہلے تو سب بزرگ ڈر گئے کہ شاید کوئی دوسری مخلوق پیدا ہو گئی ہے – ہر دم ہنسنے ہنسانے والی ، نٹ کھٹ سی بچی تھی اور بلا کی ذہین ، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں ہر وقت آگے آگے ہوتی تھی اپنے والدِ محترم غلام جیلانی مرحوم کی بے حد لاڈو رانی تھی کبھی اُن سے ڈانٹ نہیں پڑی جس پر میں آج بھی اکڑتی ہوں ۔
میٹرک میں ضلع پشاور میں اول پوزیشن حاصل کی اور گورنر فضل حق مرحوم سے انعام وصول کیا پڑھنے کا جنون تھا مگر لکھنے کا ذرا بھی شوق نا تھا البتہ تُکے لگا کر کچھ شعر لکھ لیتی تھی ابھی کالج میں پُہنچ کر چھوٹے چھوٹے ” پر ” نکلے ہی تھے کہ وہ کاٹ دیئے گئے اور مجھے صرف 16 سال کی بالی عمریا میں سُسرال بھیج دیا گیا 12 سال ایک اچھی بہو، بھابھی، بیوی اور ماں بن کر گزار دیئے زندگی کے بہت سے نشیب و فراز دیکھے دل میں بہت کچھ کرنے کی تمنا تھی مگر بس حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ باوجود چاہنے کے کچھ نا کر سکی مگر پھر حالات پلٹے میاں جی کی نوکری ختم ہوئی اور خالی ہاتھ اپنے شہر پشاور واپس آگئی ( سُسرال ساہیوال میں تھا ) اپنے شہر واپس آتے ہی دل میں دبی خواہش نے سر اٹھایا اور اپنی تعلیم شروع کی بڑی بیٹی اُس وقت آٹھ سال کی اور بیٹا گود میں تھا ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے میں ہانڈی کا چمچ ہوتا اور پہلے گریجویشن کی پھر اسلامیات میں ایم اے کیا –

*لکھنے کا آغاز کیسے ہوا ؟

لکھنے کی طرف بس اچانک سے آگئی بس گلی میں بچے کو کچرے سے پھل کھاتے دیکھا اور ذہن میں آیا ” کہ گلُ پھینکے ہوئے ہیں” اور بس قلم اُٹھایا اور کالم لکھ ڈالا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا 1998 سے 2008 تک دِن رت لکھا ہر صنف پر لکھا ، سروے رپورٹس لکھیں ، انٹرویوز بھی کیے ، اسلامک آرٹیکلز لکھے ، سچی کہانیاں لکھیں اور تو اور پُراسرار کہانیاں بھی لکھیں پھر کچھ ایسے مسائل ہوئے کہ لکھنا چھوڑ دیا بلکہ بھول ہی گیا بہت ٹینشن کے مارے سال گزارے اور پھر اپنے بچوں ، میاں جی اور دوستوں کے کہنے پر قلم 2018 میں دوبارہ اُٹھایا اور اب تک لکھ رہی ہوں –
لکھنا تو مجھے نہیں آتا ابھی طفل مکتب ہوں مگر بس کچھ الفاظ ذہن میں آتے ہیں تو اُن کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتی ہوں روزنامہ ” کسوٹی ” میں پُتلی تماشا کے نام سے کالم لکھتی ہوں مختلف آن لائن میگزینز میں لکھتی ہوں ، جذبہ پوسٹ شکاگو کے اخبار میں بھی لکھتی ہوں اور مزے کی بات کہ اچانک سے راستہ بدلا اور طنز و مزاح کو اپنا لیا اور دو سال سے مزاح نگاری کر رہی ہوں اور خیبر پختونخوا کی پہلی مزاح نگار خاتون ہوں اور اِس سلسلے میں اپنی کتاب پر کام کر رہی ہوں ( اللہ پاک میری مدد فرماۓ آمین) کاروان حوا ادبی فورم پشاور اور اپوّا رائٹرز ایسوسی ایشن کی ممبر اور سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر بھی ہوں اور اب تو ایسی لت لگ گئی ہے لکھنے کی کہ جس دِن نا لکھوں تو ایسے لگتا ہے کچھ گم گیا ہے مگر ایک شکوہ ہے کہ اتنا لکھا مگر بس صرف لکھا ہی ہے کبھی ڈاک کا خرچہ بھی نہیں ملا ( ہا ہا ہا) اپنے رشتوں سے ، دوستوں سے بہت پیار ہے سچے اور محبت بھرے دل سے سب کو ملتی ہوں ، منافقت سے سخت نفرت ہے اور منافق سے کبھی نہیں بنتی، خود زندگی میں اتنے دھوکے کھائے کہ اب کسی پر اعتبار ہی نہیں مگر خود کسی کو دھوکہ نہیں دیا کبھی کسی کو – اللہ پاک نے اس کمتر اور حقیر بندی کو بہت عزتوں سے نوازا جب میں نے نعت خوانی شروع کی اور بس آخر میں اتنا کہوں گی کہ
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
کبھی کبھار کچھ اشعار آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شان میں لکھ لیتی ہُوں بس اب تو دِن رات یہ دعا ہے
” دکھا دیجئے مجھ کو آقا کی گلیاں
منور ، معطر وہ پیاری گلیاں
حسن و حسین اور زہرا بتول
مہکتی ہوئی میرے اقا کی کلیاں

*کچھ اپنی فیملی کے بارے میں بھی بتائیے.

میری جب شادی ہوئی تو میاں جی ایک کوپریٹو بینک میں جاب کرتے تھے گھر میں سب سے بڑے تھے اور والد وفات پا چکے تھے سو مجھے بھی شادی کے بعد سب کچھ بھول گیا وہ شوخ و شرارتی فائزہ کہیں بہت پیچھے رہ گئی اور گھر کو ایسے سمبھالا جیسے ماں گود میں بچے سمیٹ لیتی ہے نند کی دیوروں کی شادیاں کیں مگر دل میں اپنے خواب ادھورے رہ جانے کی بہت کسک تھی اور سوچ رکھا تھا کہ بچوں کو خوب اعلیٰ تعلیم دلواوں گی خاص طور پر بیٹی کو ۔۔ پھر شہزاد صاحب کی جاب چلی گئی وہ بینک بند ہو گئے تو حالات بہت نازک ہو گئے اُس وقت بہت احساس ہوا کہ اگر زیادہ تعلیم ہوتی تو کہیں جاب کرتی مگر ایف اے پاس کو جاب مِل تو گئ مگر تنخواہ بہت کم تھی قصہ مختصر کہ جاب کی ، ٹیوشنز کیں پھر جب پشاور شفٹ ہوئے روزگار کے سلسلے میں تو پھر خود بھی تعلیم مکمل کی اور اپنے بچوں کے ذہن میں بچپن سے تعلیم کی اہمیت کو گھول کر ڈالا میری سب سے بڑی بیٹی ہے ڈاکٹر سعدیہ شہزاد ۔۔ پھر دوسرے نمبر پر ڈاکٹر محمد عمر اور تیسرے نمبر پر محمد عمیر ہے جس کی پسند بزنس تھی تو بی بی اے کے بعد اپنے ابو کے ساتھ آفس جوائن کیا ہے ۔ اللہ پاک کا بہت کرم ہے کہ تینوں بچے بہت نیک اور فرمابردار ہیں ( یہ میں نہیں کہتی بلکہ سب خاندان والے اور دوست احباب کہتے ہیں ) ڈاکٹر سعدیہ شہزاد گائنا کالوجسٹ ہے اور بہت محنتی اور اپنے پیشے سے مخلص ڈاکٹر ہے اس سلسلے میں ایک واقعہ بتانا چاہوں گی کہ یہ جلو زئی کیمپ ( رفیوجز کیمپس ) میں جاب کرتی تھی اُس وقت دونوں بیٹیاں چھوٹی تھیں اور میں ہی دیکھ بھال کرتی تھیں شام کا وقت تھا اور یہ کیمپ میں اپنی مریضہ کے ساتھ کہ اتنے میں کیمپ میں آگ بھڑک اٹھی سب اندھا دھند باہر کو بھاگے اور اِس کو بھی کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ باہر آ جائے آگ پھیلتی جا رہی ہے مگر اس نے انکار کر دیا کہ میں آ گئی باہر تو اِس عورت کا کیا بنے گا لہٰذا اللہ مالک ہے اور قدرت اللہ کی کہ آگ کا رُخ بدل گیا اور اسی وقت اُس عورت کا بیٹا پیدا ہوا اور جب اس نے گھر آ کر بتایا تو میں حیران پریشان کہ میری وہ چھوٹی سی ، بزدل سی بیٹی اتنی بہادر ہو گئی اس کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ـ
چلتے چلتے ڈاکٹر محمد عمر کا چائنہ کا بھی ذکر ہو جائے وہ کیا کہتے ہیں ” چلتے ہو تو چین کو چلیئے” اِس نے ایم بی بی ایس چائنہ سے کیا 2019 میں اِس کی گریجویشن سیریمنی تھی اور ایک ماہ کے لئے گیا دسمبر میں گیا اور 6 جنوری کو تقریب ہوئی اور 12 جنوری کو واپسی تھی کہ ” کرونا وائرس ” نے اپنا وار چلا دیا اور سب کچھ بند ہو گیا اور یہ اُدھر پھنس گئے انہوں نے وہاں پر بہت مشکل ٹائم گزارا ایک وقت کھانا کھایا اور باقی پانی پی کر گزارا کیا سردی کے موٹے کپڑے گرمی میں پہنے ۔۔ پیسے ختم ہو چُکے تھے پاکستان سے بھی نہیں بھیج سکتے تھے تو اِس نے ایک ڈھابے پر جاب کی وہاں سالن وغیرہ بناتا اور پھر باقی سٹوڈنٹس کو ڈیلیور بھی کرتا جس کے بدلے بیس یوان اور ایک وقت کا کھانا ملتا ( اگر تفصیل لکھنے بیٹھوں تو بہت طویل ہو جائے گی بات ) بہر حال بہت ہمت اور بہادری سے ٹائم گزارا اور ہمیں تسلی دیتا پھر پورے چھے مہینے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے اِن تمام بچوں کو واپس لایا گیا مگر ہمارے اِن بہادر ڈاکٹرز کی کوئی قدر نہیں کی گئی اور اج بھی یہ بیروزگار ہیں اور پریشان ہیں ـ پچھلے دنوں اپوّا کی آٹھویں تربیتی ورکشاپ پر فری میڈیکل کیمپ کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں بطور خاص ڈاکٹر محمد عمر کو مدعو کیا گیا اس عزت افزائی کے لئے دل سے مشکور ہیں ـ

*اپووا کے لیے کچھ الفاظ ؟

اپوّا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے اور ہم جیسوں کے لئے ایک نعمت ہے کہ جس کی بدولت بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے میرا اور اپوّا کا ساتھ ڈیڑھ سال پر محیط ہے مگر لگتا ہے جنم جنم کی شناسائی ہو جتنی عزت ، احترام یہ اپنے ممبرز کو دیتے ہیں وہ بہت کم تنظیمیں دیتی ہیں یہ اپنے ہر ممبر کو ساتھ لے کر چلتے ہیں جو اس تنظیم کی سب سے بڑی بات ہے اللہ پاک اِس تنظیم کو اس کے روح رواں ایم ایم علی ، زبیر احمد انصاری ، اور دیگر عہدیداران کو مزید ترقیوں سے نوازے آمین ثم آمین

*آپ کی پسندیدہ ادبی شخصیات ؟

سب ہی ادیب اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں مگر اشفاق احمد ، بانو قدسیہ ، امجد اسلام امجد ، قیصرہ حیات ، پروین شاکر ، وصی شاہ ۔۔۔ اِن کی تحریریں اور شاعری بہت پسند ہے ـ

*شمالی علاقہ جات خصوصاً پٹھانوں میں خواتین کا میڈیا میں آنا معیوب سمجھا جاتا ہے کیا آپ کو بھی مشکلات پیش آئیں ؟

آج سے تیس ، چالیس سال پہلے تو عورت کا گھر سے نکلنا ہی بہت معیوب سمجھا جاتا تھا میری پھپھو اور بڑی بہنوں کو کافی مشکلات تھیں مگر میری پیدائش تک حالات کافی بدل چُکے تھے سو مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور اسکول کے زمانے سے ہی ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی اسٹیشن پر بچوں کے پروگراموں میں شرکت کرتی رہی ویسے بھی ابّا جی کی ” لاڈو رانی ” تھی ۔۔۔

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

کوشش کرتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ ذکرِ الٰہی میں وقت گزرے اس کے علاوہ لکھنا لکھانا ۔۔ مگر آج کل لکھنے کا وقت نہیں ملتا میاں جی کو لیور کینسر ہے تو بس اُنہی کے ساتھ زیادہ مصروف رہتی ہوں ـ

*لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

آہا ! کیا پوچھ لیا رشنا جی ؟ لوگوں میں وہ پیار ، وہ محبت ، عزت و احترام اب مفقود ہوتا جا رہا ہے ہر طرف نفسا نفسی کا دور دورہ ہے سگے بھائی بہنوں کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت نہیں اور موجودہ معاشرہ منافقت کا شکار ہے اور یہ منافقت ہمیں دن بہ دن کھوکھلا کرتی جا رہی ہے ـ

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کرچکی ہیں ؟

زمانہ طالبعلمی میں تو بہت سے ایوارڈ ملے ۔۔ کبھی گلوکاری پر ۔۔ کبھی نعت خوانی پر ۔۔ ڈیبیٹس پر۔۔ پھر جب لکھنے کا آغاز کیا 1998 میں تو اُس وقت کمپیٹیشنز میں ایوارڈز ملے ، پاکیزہ ڈائجسٹ میں لکھتی تھی تو اُن کی طرف سے ایوارڈز ملے اور پھر اتنے عرصے بعد اپوّوا کی جانب سے اب تک تین ایوارڈز اور گولڈ میڈل کا اعزاز حاصل ہوا ہے ـ

ا*دب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

ادب کے فروغ کے لئے بہت کچھ کرنا ضروری ہے اور اِس کی ابتداء گھر سے کرنا ہو گی ہم ہمیشہ سے الزام دوسروں پر ڈال دیتے ہیں کبھی گورنمٹ پر ، کبھی اسکول اور کالج پر جب کہ میری نظر میں سب سے پہلے ہمیں گھروں میں ادب کو ( دونوں قسم کے ادب کو ) فروغ دینا ہو گا جب میرے ہاتھ میں موبائل ہو گا تو میرے بچوں کے ہاتھ میں کتاب کیسے ہو گی ؟ اور اج کل تو نانیاں ، دادیاں بھی ہاتھوں میں موبائل لئے بیٹھی ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نئی نسل ادب سے دُور ہوتی جا رہی ہیں ، لہٰذا گھروں میں بچوں کے ساتھ ادبی محفل ویک اینڈ پر رکھی جائے ، اسکولز اور کالجز میں ادبی محافل منعقد کی جائیں اور نوجوان نسل کو ادب کے قریب لایا جائے اُنہیں لکھنے کی جانب راغب کیا جائے اور تعلیمی اداروں میں لکھاریوں کی ورکشاپس رکھی جائیں اور اِس کے لئے کسی کو تو بارش کا پہلا قطرہ بننا ہو گا ـ

*پسندیدہ پشاوری کھانے جو آپ خود بھی بناتی ہیں ؟

پشاور کے مشہور کھانوں میں ” چپلی کباب ، چنے میوے کا گوشت والا پلاؤ ، مونگ پلاؤ اور کابلی پلاؤ میں خود بھی بنا لیتی ہُوں اور قہوہ بھی بہت اچھا بنا لیتی ہُوں ( اپنے منہ میاں مٹھو)

*سیر و سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

وہ کہتے ہیں نا کہ ہر عمر کا فتور ہوتا ہے جدا جدا ۔۔۔ تو جب جوان تھے دل چاہتا تھا کہ کہیں گھومنے پھرنے جایا جائے اور شادی کے بعد کا تو ہر ایک کو شوق ہوتا ہے مگر ہم نے اس وقت بھی پشاور سے ٹرین میں ساہیوال تک سب اسٹیشن دیکھے ۔۔ کھیت کھلیان دیکھے اور بس ۔۔۔ پھر وہ سب شوق بھی وقت کی دُھند میں کھو گئے ۔۔۔

*پٹھان مہمان نواز ہوتے تھے کیا آج بھی یہ روایت برقرار ہے ؟

پٹھانوں کی مہمان نوازی تو شروع سے بہت مشہور ہے مگر میں ایک بات جانتی ہوں کہ ہر صوبے کے لوگ مہمان نواز ہیں آپ جہاں چلے جاؤ لوگ بطور مہمان بہت عزت کرتے ہیں اور آج بھی یہ روایت برقرار ہے ـ

*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی تو خود کو کیسی موٹیویٹ کیا ؟

” زندگی تُجھ کو تو بس خواب میں پایا ہم نے ”
جب والدین جیسی قیمتی شے کھو گئ تو بہت مشکل سے اپنے آپ کو سمبھالا ۔۔ اُن کی بیماری اُن کی تکلیف نہیں بھولتی تھی اور جب وہ دنیا سے چلے گئے تو کسی پل قرار نہیں آتا تھا مگر پھر بہت مشکل سے دل کو سمجھایا کہ ” یہی بے وفا زندگی ہے اور قدرت کا قانون ہے ہر شخص آتا ہے اور اپنا کردار ادا کر کے چلا جاتا ہے ۔

*پٹھان روایت پسند ہیں ایسے میں تعلیم حاصل کرنا خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم ایک کٹھن مرحلہ سمجھا جاتا ہے ۔ آپ اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گی ؟

اب سب کچھ بہت بدل چکا ہے پہلے لڑکیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا ایک خواب تھا مگر آج ہماری پختون بچیاں ڈاکٹر ہیں ، انجینئر ہیں ، فورسز میں ہیں اور پولیس میں بھی ۔۔ غرض ہر شعبہ زندگی میں وہ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ـ

*لکھنے والوں کے نام کوئی پیغام ؟

لکھنے والوں کے لئے کیا پیغام دوں کہ میں تو خود ابھی طفل مکتب ہوں سیکھ رہی ہوں بس یہی کہوں گی کہ جو بھی لکھیں یہ سوچ کر لکھیں کہ اُس میں منافقت نا ہو ، وہ لکھیں جس سے معاشرے میں اچھائی پھیلے اور برائی ختم ہو ، جو لکھ رہے ہیں اُس پر خود بھی عمل کرتے ہوں یہ نہیں کہ میں کہانی لکھوں ” جھوٹ بولنا بری بات ہے” اور خود میری نس ، نس میں جھوٹ ہو ۔۔ یہ سوچ کر لکھیں کہ یہ ہمارا ” قلمی جہاد ” ہے اور ہم سے روزِ محشر اِس قلم کا بھی حساب ہو گا ـ

*اپنا پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

میرے یہ اپنے کچھ اشعار ہیں جو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت میں لکھنے کی جسارت کی ہے اور مجھے بہت پسند ہیں ۔۔

عشقِ محمدی نے مُجھے کیا بنا دیا
اِک گمشدہ حجر کو نگینہ بنا دیا
قلب و جگر گناہوں سے لتھڑا تھا رات دن
آقا کی اِک نظر نے مدینہ بنا دیا

دِن کی خبر ہے نا مجھے اب رات کی خبر
آقا کی چاہتوں نے دیوانہ بنا دیا

ورد درود پاک ہے ہر دم زبان پر
آقا نے زندگی کا قرینہ بنا دیا

دن رات تھی بھٹکتی آقا کے عشق میں
اٹھی نظر جو اُن کی خزینہ بنا دیا

لپٹی ہوئی ہُوں یاد محمد سے اِس طرح
اُن کے کرم نے مجھ کو جینا سکھا دیا

عشقِ محمدی نے مجھے کیا بنا دیا
اِک گمشدہ فائزہ کو نگینہ بنا دیا

معزز قارئین! امید ہے کہ یہ بہترین انٹرویو آپ کو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

1,058 total views, 3 views today

6 Responses to انٹرویو فائزہ شہزاد

  1. قرۃالعین خالد says:

    پیاری فائزہ آنٹی سلامت رہیں ۔۔ مجھے آپ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا خاص طور پر شادی شدہ زندگی کے حوالے سے میری اور آپ کی زندگی کافی ملتی جلتی ہے۔ آپ سے بات کر کے ہمیشہ حوصلہ ملا۔۔۔۔۔اور ایک بات بتاؤں قیصرہ حیات آپ کی پسندیدہ لکھاری ہیں یہ پڑھ کر بہت اچھا لگا کیونکہ وہ میری اسکول ٹیچر تھیں۔ اور میری امی کی بہت اچھی دوست۔۔۔۔۔۔۔آپ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہیں اپنے بچوں کی ڈھیروں خوشیاں دیکھیں آمین

    • فائزہ شہزاد says:

      پیاری بیٹی سدا خوش رہو سلامت رہو اور اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھو آمین یارب العالمین

  2. فائزہ شہزاد says:

    رشنا جی ! آپ نے تو کمال کر دیا آپ بہت اچھے سے اور محنت سے اپنا کام کر رہی ہیں اللہ پاک آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور خوش و سلامت رکھے آمین یارب العالمین

  3. Dr sadia shehzad says:

    Excellent .. My hardworker ami abhi bhi bohat kuch is m nahi likha ap nay

    • Musarrat says:

      فائزہ میری جان بہت پیارا لگا آپکا انٹرویو اللہ آپکو بہت عزتوں سے نوازے آمین اللہ آپکو بچوں کی خوشیاں دکھاے اور بھائی کو اللہ صحت اور زندگی دے
      نعت شریف پڑھ ک صحیح رونا آگیا آپکے گلے میں جو سوز اور درد ہے کیا کہنے ڈھیرؤں۔ دعائوں ک ساتھ آپکے بہن مسرّت

  4. Samina Tahir Butt says:

    ماشاءاللہ ماشاءاللہ 💖💖💖 فائزہ آپ خود بہت اچھی ہی۔ تو آپ کے بچے کیسے آچھے نہیں ہوں گے ۔ ڈاکٹر عمر بہت پیارا اور فرمانبردار بیٹآ ہے ۔ اللہ پاک آپ کو بچوں کی ڈھیروں خوشیاں دکھائے اور شہزاد بھائی کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے آمین ثمہ آمین یا رب العالمین 🤲🤲

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *