اسرائیل کے ساتھ مُمکنہ جنگ بندی معاہدہ، حماس نے 34 یرغمالیوں کی فہرست جاری کر دی
امن معاہدہ برقرار ہے، معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا: صوبائی مشیر اطلاعات
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ کرم کی صورتحال پر ’امن معاہدہ برقرار ہے، معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درامد یقینی بنایا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج ہی سے تمام فیصلوں پر عملدرامد کا آغاز شروع ہو چکا ہے۔ مشیر اطلاعات کے مطابق ’ڈپٹی کمشنر پر حملہ کرنے والوں کو جلد گرفتار کرکے قانون کے شکنجے میں لائیں گے۔‘ ان کے مطابق امن دشمن کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
کرم میں قیام امن اور اسلحے کی حوالگی کا مجوزہ معاہدہ کیا ہے اور اس میں تاخیر کیوں؟
پاڑہ چنار میں خالی دکانیں، سُونے بازار اور اشیائے ضروریہ ڈھونڈتے شہری: ’ادھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہاں تو پیناڈول کی گولی تک دستیاب نہیں‘
ان کے مطابق واقعے میں ملوث شرپسندوں کو قانون کے گرفت میں لائیں گے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ کرم مین شاہراہ پر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ مشران کو بھی حملے میں ملوث مجرمان کو جلد ازجلد حوالے کرنے کا کہا گیا ہے۔ علاقے کو اسلحہ سے مکمل پاک کیا جائے گا اور اسلحہ رکھنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
پاڑہ چنار تک راستے کھولنے کے لیے کوششیں جاری
خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں امن کی بحالی اور پاڑہ چنار تک راستے کھولنے کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن سرکاری حکام کی جانب سے اب تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ امدادی سامان کب پاڑہ چنار کے لیے روانہ کیا جا سکے گا۔
مقامی سطح پر ایسی اطلاعات ہیں کہ امدادای سامان کے ٹرک ٹل میں موجود ہیں لیکن راستوں کی بندش کی وجہ سے اب تک یہ ٹرک روانہ نہیں کیے جا سکے ہیں۔
ضلع کرم سے منتخب رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اپر کرم میں پاڑہ چنار میں جاری دھرنا حکومتی یقین دہانیوں کے بعد وقتی طور پر موخر کیا گیا ہے لیکن اگر کوئی عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔
دوسری جانب لوئر کرم بگن کے مقام پر دھرنا جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ امدادی سامان کے ٹرک ابھی تک روانہ نہیں ہو سکے اور اس بارے میں انھوں نے کمشنر کوہاٹ سے بات کی ہے اور انھوں نے کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ امدادی سامان جلد پاڑہ چنار کے لیے روانہ کیا جائے۔
حمید حسین کا کہنا تھا کہ علاقے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اپر کرم پاڑہ چنار میں شیعہ آبادی ہے اور علاقے میں خوراک ادویات اور تیل کی شدید قلت ہے۔ ہسپتالوں کے لیے ادویات حکومت کی جانب سے فراہم کر رہی ہے جبکہ مارکیٹ میں میڈیکل سٹورز پر ادویات دستیاب نہیں ہیں جس سے لوگوں کو مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرم میں شدید سردی کی وجہ سے نمونیا سمیت مختلف امراض میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لوئر کرم میں اہل سنت کی اکثریت ہے۔
اہل سنت کے رہنما حاجی سلیم خان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ جرگے میں طے معاہدے میں یہ واضح تھا کہ سڑک پر سکیورٹی کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ انتطامیہ کی جانب سے دو مقامی افراد کو حراست میں لیے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ بگن کے لوگوں سے بات چیت کریں اور ان کے تحفظات اور مطالبات پر غور کریں کیونکہ ایک طرف اگر کانوائے پر حملہ ہوا تو دوسری جانب بگن میں لوگوں پر حملے میں ہلاکتیں ہوئیں اور املاک کا بھی نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق ’حکومت کو مکمل امن کے قیام کے لیے جامع حکمت عملی اپنانی چاہیے۔‘
ضلع ہنگو سے مقامی صحافی اسرار الحق نے گذشتہ روز بگن پہنچے تھے اور انھوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر پر حملے کے بعد سے علاقے میں خوف پایا جاتا ہے اور اس سے پہلے جب بگن پر حملہ ہوا اور اس میں لوگوں کا نقصان ہوا تھا اس پر غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بگن بازار جل گیا تھا جہاں چند ایک دکانیں تھیں جہاں سبزیاں رکھی ہوئی تھیں۔ بگن میں بہت کم لوگ اس وقت موجود ہیں کیونکہ بیشتر لوگ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور جو موجود ہیں یہ وہ ہیں جو اپنے گھروں اور دکانوں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔
مقامی صحافی کے مطابق لوگ اپنے نقصانات کا ازالہ چاہتے ہیں۔ صوبائی حکومت نے گذشتہ روز ضلع کرم میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جبکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ بعض مقامات پر کرفیو بھی نافذ رہے گا۔
2,322 total views, 9 views today
























I was more than happy to uncover this great site. I wanted
to thank you for ones time just for this wonderful read!!
I definitely savored every part of it and i also have you book-marked to see new information in your website.