تنگ نظری
کچھ لوگ عادتا فطرتا مجبور ہوتے ہیں اپنی چھوٹی ذہنیت سے اس لئے وہ آپ کی نیکی کا بدلہ اس طرح سے دیتے ہیں کہ جیسے آپ کو افسوس ہو کہ ہم نے اس انسان کے ساتھ بھلائی کر کہ غلط کیا پر آپ کچھ سیکنڈز کے لئے سوچتے ہیں کہ میں بھی کس قدر گہنگار ہوں کہ اللہ نے جو حکم دیا اور جو سیدھا راستہ بتایا ہے اُس پر کس قدر عمل کر رہا ہوں پھر آپ ایسے چھوٹی سوچ کی ذہنیت والے انسان کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہیں جیسا کہ اٌس کے ادا کئے گئے الفاظ آپ کے لئے اہم نہیں ہیں جب اُس انسان کو کچھ نظر نہیں آتا تو وہ آپ سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے آپ اُسے نظر انداز اس لئے کر رہے ہوتے ہیں کہ جس انسان کو بہت سے لوگوں نے جہاں وہ کام کر رہا ہے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہو کہ جا سے تم آئے تو ماحول ایسا ہو گیا، الف کبھی بولا نہیں تھا پر جب ب آیا تو تھوڑا سا بولنا شروع کیا ہم سے نہیں تو الف اپنے کام سے مطلب رکھتا پر جب سے تم آئے ہو تم نے ان سب کو پیچھے چھوڑ دیا بجائے اس کے وہ انسان سمجھتا وہ الف کو سمجھانے لگ جاتا ہے کہ تمہیں یہ لوگ گونگا سمجھ رہے جو تم بول نہیں رہے الف میرے کام کی بات ہو گی تو جس سے بات کرنا بنتا ہوا اس سے بات ہو گی
اگر الف کسی سے بات کر لے تو وہ غلط پر جب وہ انسان اُس سے یا کسی سے بات کر لے تو وہ آج کا جدید دور جس میں بات کرنا غلط نہیں ہے
بہرحال اگر پھر بھی اس تنگ نظر انسان کو الف کا کسی سے بات کرنا پسند نہ آئے تو اس نے الف کو کہنا شروع کر دینا ب نے یہ بات کی اور ب نے کہنا الف نے یہ بات کی جب بات سنی جائے تو تنگ نظر انسان جھوٹا ہو اُس انسان نے جس جس کا نام لیکر بات کی الف نے پوچھ لیا تو اس تنگ نظر انسان کو اپنی بےعزتی محسوس ہونے لگی تو وہ الف سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیتا ہے الف بھی اسے معاف کردیتا ہے
آپ کے خیال میں الف نے صحیح کیا یا غلط آپ کی رائے اہم ہے۔۔۔
تحریر ۔۔۔ردا امانت علی
12,037 total views, 3 views today
























Leave a Reply