خدمتِ خلق

انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے کسی انسان کا تعلیم یافتہ،امیر،حسین یا کوئی بہت زیادہ ذہین ہونا لازمی امر نہیں ہے۔اس عمل کے لیے فقط آپ کی خود کی ذات میں انسانیت موجود ہونی چاہیے۔باقی پیسے ، نام یا شہرت کے لیے آپ CSS کا امتحان پاس کرنے کی کوشش کریں یا PMS کا۔ اگر آپ میں انسانیت یا بات کرنے کی تمیز نہیں ہے تو پھر چاہے کوئی بھی تعلیم ہو ، بے معنی ہے ۔کیونکہ تلوے چاٹنے والے بھی پہلے ہی بہت موجود ہیں اس ملک میں اور جنہوں نے انسانیت کے لیے کچھ کرنا ہوتا ہے وہ بغیر کسی سند کے بھی کر لیتے ہیں کیونکہ عزت اور ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عطا کرے۔وہ چاہے تو حاکم کو گدا گر بنا دے اور اگر وہ چاہے تو کسی فقیر کو ریاست کا بادشاہ بنا دے۔ رہی بات یہ کہ اللہ عزت کسے دیتا ہے اور ذلت کسے دیتا ہے؟ تو یہ بھی یاد رکھیں ،اللہ کو عاجزی کرنے والے لوگ پسند ہیں اور اسے گھمنڈ کرنے والے نہیں پسند۔ وہ کبھی یہ نہیں دیکھتا کہ آپ کی تعلیم کیا ہے یا آپ کتنے امیر،ذہین ہیں اور نہ ہی اسے چہروں سے مطلب ہے کیونکہ ہر شے کا خالق وہ خود ہے۔ وہ آپ کے دل کے بھیدوں سے بھی واقف ہے۔وہ آپ کی نیتوں کو دیکھتا ہے۔وہ ہماری اصلیت سے واقف ہے۔بس اپنی نیت صاف رکھیں!۔ کسی کے ساتھ برا نہ کریں اللہ آپ کو ان مقامات تک لے کر جائے گا جن کا آپ نے کبھی خواب میں بھی تصور نہیں کیا ہوگا۔
تحریر۔۔۔سویرا عارف مغل

11,265 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *