انٹرویو سحرش خان

مہمان سحرش خان
میزبان رشنا اختر

السلام علیکم معزز قارئین! ایک دفعہ پھر حاضر ہیں زبردست سے انٹرویو کے ساتھ ۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں ڈرامہ رائٹر “سحرش خان صاحبہ” جن کے ڈراموں نے کافی پزیرائی حاصل کی ہے ۔ بغیر وقت ضائع کیے کرتے ہیں ان سے مزیدار سی باتیں ۔

السلام علیکم

وعلیکم السلام

1: کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے ۔ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی پھر شادی کر کے فیصل آباد چلی آئی لیکن شاید لاہور والوں کی خوش قسمتی تھی جو میاں کی جاب کے سلسلے میں یہاں آ گئی پھر اللہ نے میرا بھی یہاں وسیلہ بنا دیا اور فیڈرل گورنمنٹ ادارے میں جاب مل گئی ۔۔اب اپنی اکلوتی بیٹی ماہم زہرا کے ساتھ پچھلے دس سالوں سے لاہور میں مقیم ہیں۔

2: بچپن کیسا گزرا ؟

بچپن بہت لاڈ سے گزرا ۔۔شرارتی نہیں تھی اس لیے کوئی خاص یاد نہیں مگر چونکہ میرا بچپن ننھیال میں گزرا تھا تو اس لیے اپنے نانا اور نانی کا پیار یاد ہے جو میں بہت مس کرتی ہوں۔میرے نانا میرے آئیڈیل تھے اور میری خواہش ہے کہ ان کی شخصیت پر کتاب ضرور لکھوں

 

3: ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے ؟

ادب سے تعلق اتنا ہے جتنا روح اور جسم کا ہوتا ہے ۔۔بچپن سے کتابوں میں چھپا چھپا کر ڈائجسٹ پڑھے۔پھر کالج آئے تو لائبریری سے کتابیں لے کر پڑھیں۔پھر کچھ عرصہ کتابوں سے ناطہ ٹوٹا مگر الحمدللہ جڑ بھی گیا ۔میں تو یہ ہی کہوں گی کہ ادب سے لگاو ہو تو انسان کی شخصیت نکھر جاتی ہے کتاب آپ کی روح کو سیراب کرتی ہے ۔اور آپ کو دنیا کے جھمیلوں سے دور کسی اوردیس لے جاتی ہے اور یہ لمحات آپ کی زندگی کے قیمتی لمحات ہوتے ہیں۔

4: قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟

قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز 2020 میں ہوا جب گورنمنٹ نے کرونا کی لمبی چھٹیاں دیں اور ان چھٹیوں کو ضائع کرنے کی بجائے میں نے باقاعدہ لکھنے

کا آغاز کیا ۔اور الحمدللہ یہ سفر کامیاب بھی رہا ۔۔

5: پہلی کہانی کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا ؟

پہلی کہانی ایک آن لائن ڈائجسٹ اوج میں بھیجی اور میرے قریبی لوگوں نے مجھے کافی سراہا ۔۔

6: فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

فرصت میں کتاب پڑھتی ہوں، سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہوں اور ڈرامے دیکھتی ہوں۔۔ویسے فرصت کم ہی ملتی ہے لیکن جو ٹائم ملے دل چاہتا ہے معیاری اور اچھی چیز دیکھوں ۔

7: زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

کسی انسان کو دوسرا چانس مت دو ۔۔جو ایک بار آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے اس پر دوبارہ اعتبار کرنا بے وقوفی ہے ۔چاہے وہ جو بھی ہو ۔

8: لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
ہمارا معاشرہ بہت بگڑ چکا ہے اور اس میں سو فیصد ذمہ دار ہم خود ہیں۔ہمارے بڑوں نے جیسے ہماری پرورش کی ہمیں چیزیں سمجھائیں ہم لوگ نہیں کر رہے ۔معاشرہ افراد سے ہوتا ہے اور افراد آج کل خود کو ٹھیک کرنا ہی نہیں چاہتے شاید ۔۔۔اس لیے میں مطمئن نہیں ہوں ہر طرف افراتفری اور پیسے کی دوڑ ہے ۔انسانیت تو ہے ہی نہیں۔

9: کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری/ ڈرامہ رائٹر نہ ہوتی تو کیا ہوتی ؟

میں ٹیچر ہوں اور اگر لکھاری اور ڈرامہ رائیٹر نا ہوتی تو پھر ٹیچر ہی ہوتی۔

 

10:ڈرامہ نگاری کی طرف کب آنا ہوا
ڈرامہ نگاری میں سال 2023 میں آئی ۔۔

11: پہلا ڈرامہ کونسا تھا اور کیسا رسپانس رہا ؟

ایکسپریس چینل پر اوئے موٹی میں دو سیریز لکھی تھیں۔جو لوگوں نے کافی پسند کیں۔۔اس کے بعد عید ٹیلی فلم چلی اور اب ماشا ء اللہ اے آر وائی پر رمضان سیریز میں پانچ سیریز چل چکی ہیں۔مستقبل میں بھی میرا لکھا مزید ٹی وی سکرین کی زینت بنے گا ان شا ء اللہ۔۔

12:جدید ڈرامہ نگاری کے لیے کیا چیز ضروری ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے ؟
ہمیں پرانے پی ٹی وی کے دور کو دیکھ کر چلنا چاہیے جو کوالٹی پر زور دیتے تھے ۔اب تعداد ہے مگر کوالٹی نہیں بس ریٹنگ کی دوڑ سے نکلیں اور ایسا لکھیں جس سے معاشرے میں بگاڑ نا آئے اور لوگ کچھ سیکھیں۔

13: سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

میں اسلام مری اور کراچی کے علاوہ کہیں نہیں گئی مگر دبئی گھومنے کا شوق ہے ان شا ء اللہ جلد وہاں جاوں گی ۔۔

14: کھانا پکانے کی شوقین ہیں یا کھانا کھانے کی ؟
پکانے کی شوقین نہیں ہوں مگر پھر بھی گھر میں ہی پکانا اور کھانا پسند ہے ۔۔میں سارے کام کر لیتی ہوں مگر دل چاہتا یے کہ کھانا بنا ہوا ملے مگر یہ حسرت ہی ہے ابھی تک ۔۔

15: آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

حالات چاہے جو بھی ہوں ہمت نہیں ہارنے چاہیے اور اپنی کمزوری کو ہی اپنی طاقت بنانی چاہیے ۔

16: زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
میں نے اپنی زندگی میں بہت بڑے نقصانات برداشت کیے ہیں۔لیکن اللہ پر بھروسہ رکھا اور الحمدللہ اللہ نے مجھے بہترین عطا کیا ۔

17: زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے اب بھی ہنسی آتی ہو ؟
چونکہ میں نے ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کی ہے اس لیے بہت شرارتیں کرتے تھے ۔ایک بار سٹڈی پیریڈ میں الٹی کتاب سامنے رکھ کر پڑھ رہی تھی تو وارڈن نے دیکھ لیا اور کہا سحرش کتنی لائق یے الٹی کتاب بھی پڑھ لیتی ہے ۔۔

18: نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
میں تو ابھی خود بھی نئی ہوں مگر اپنے ساتھیوں سے ضرور کہوں گی کہ اپنے تحریریں بنا مقصد کے مت لکھو کم لکھو مگر جب بھی لکھو تو ایسالکھو کہ آپ کی ہر تحریر کسی کے لیے مشعل راہ ثابت ہو ۔کوئی نا کوئی مثبت پیغام لیے ہو ۔

19:اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی ؟
اپووا کے لیے کہوں گی اپووا میرا گھر یے ۔کیونکہ اپووا کی فنانس سیکرٹری کا عہدہ میرے پاس ہے تو اپووا میرے بنا اور میں اپووا کے بنا ادھوری ہوں اور اپووا کے بارے یہ کہون گی کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو سب کو ویلکم کرتا ہے میرے سمیت بہت سارے لوگوں کو اپووا سے پہچان ملی تو جو کام اپووا کر رہی ہے میرا نہیں خیال کہ اس وقت کو ئی بھی تنظیم کر رہی ہو گی ۔اپووا کے لیے دل سے دعا ۔۔اللہ پاک ہماری تنظیم کو دن دگنی رات چگنی ترقی دے ۔آمین ثم آمین
اوکے جی اب اجازت دیں ۔
معزز قارئین اپنی رائے سے ہمیں ضرور آگاہ کیجئے ہماری بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ قارئین کے لیے ایسا انٹرویو لائیں جو بامقصد ہو اور زندگی میں راہنمائی بھی فراہم کرے ۔ دعاؤں میں یاد رکھئیے گا ۔
اپنی میزبان رشنا اختر کو اگلے انٹرویو تک اجازت دیجیئے ۔ اللّٰہ حافظ

5,979 total views, 3 views today

5 Responses to انٹرویو سحرش خان

  1. Asad Nazir says:

    بہت خوب، محترمہ سحرش صاحبہ ایک با عزت اور با وقار خاتون ہیں، کافی عرصہ سے فیس بک پر ان سے وابستہ ہیں، اس دوران ان کو ہمیشہ با ادب، با سلیقہ، سنجیدہ ہی پایا، دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کو دن دگنی رات چوگنی ترقیات اور فتوحات عطاء فرمائے،

    • حیا عباسی says:

      بہترین شخصیت بہترین لفظی چناو میں نہیں جانتی لیکن مجھے انٹرویو پڑھ کر اچھا لگا مہڈب گفتگو لگی ادبی چناو لگا لفظوں میں شفقت ملی غرور اور تکبر والا ب معنی ایک لفظ بھی نہیں لگا بہترین اسٹوڈنٹ پھر بہترین معلم پھر بہترین لکھاری اور قومی امید ہے بہترین معلم اول اور بہترین بیوی بھی ہونگی
      دعا ہے رب العزت سے سلامت رکھے اپنی امان میں رکھے رحمتوں کے حصار میں رکھے عمر خضر عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ❤️🤲

  2. انٹرویو اچھا لگا بہت کم عرصے میں ماشا اللہ بہت کم عرصے میں کامیابی حاصل کی اللہ تعلی مزید کامیابیاں عطا فرمائے آمین

  3. Shahzad Khan says:

    کسی بھی شخصیت کا انٹرویولینا آسان نہیں ہوتا ہے اس کی شخصیت کے متعلق کافی کچھ تحقیق کرکے سوالنامہ تیار کرنا پڑتا ہے پھر اس کے مزاج کے مطابق ان سے سوالات کرنا پڑتے ہیں اس کے لئے میں یہی کہنا چاہوں گا کہ انترویو دینے والے کے ساتھ ساتھ اس کے میزبان کو بھی اچھا انٹرویو کرنے کا کریڈٹ جاتا ہے۔ محترمہ رُشنا اختر صاحبہ کو میں کچھ عرصہ سے جانتا ہوں اور نئے اُفق ڈائجسٹ کراچی کے ساتھ ان کی وابستگی بھی کافی پرانی ہے۔ اور اب ماشاء اللہ یہ میرے یوٹیوب چینل کے لیے اپنی دلکش آواز میں میری کہانیوں کی وائس اوور بھی باقاعدہ کررہی ہیں۔ مذکورہ ہردلعزیز شخصیت محترمہ سحرش خان صاحبہ کا انٹرویو اور ان کی شخصیت کے متعلق کافی کچھ جانا۔ بہت اچھا لگا۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں ہمیشہ کامیابیوں سے نوازے اور یہ زندگی کے ہر شعبہ میں اسی طرح کامیابیاں سمیٹتی رہیں۔ آمین

  4. فائزہ شہزاد says:

    ماشاء اللہ ! بہت خوب سحریش خان آپ نے بہت کم عرصے میں بہت کامیابی حاصل کی ہے اور اج کل آپ کے ڈرامے رمضان ٹرانسمیشن میں کافی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں یقینا آپ کی محنت کا صلہ ہے جو اللہ پاک نے آپ کو عطا کیا ہے بہت اچھا لگا آپ کے بارے میں جان کر ۔۔۔ اور رشنا جی آپ کو ایک اور کامیاب انٹرویو پر دلِی مبارک باد ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *