عبدالستار ایدھی بلاشبہ دکھی انسانیت کا مسیحا تھے.اپووا

لاہور(اپووا نیوز)علم وادب کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ومرکزی صدر ایم ایم علی، مرکزی جنرل سیکرٹری امین رضا مغل اورمرکزی سیکرٹری اطلاعات سفیان علی فاروقی نے کہا ہے کہ عبدالستار ایدھی بلاشبہ دکھی انسانیت کا مسیحا تھے جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف انسانیت کی خدمت ہی تھاان خیالات کااظہار انہوں نے فخرانسانیت عبدالستار ایدھی کی چوتھی برسی کے موقع پر کیا انہوں نے کہا کہ عبدالستار ایدھی نے زندگی سے ہاتھ دھونے والے ایک راہگیر کو غسل دے کر فلاح و بہبود کا کام شروع کیا تھا کسی کے قتل یا زخمی ہونے کی خبر ملتی تو زخمی یا مقتول کو ریڑھی پہ ڈال کر لے جاتے۔ جھاڑیوں، ندی نالوں سے ملنے والی وہ لاشیں جس کی تاب ورثا بھی نہیں لا پاتے تھے ایدھی صاحب گھر سے پائپ نکال کر اسے خودغسل دیتے اور تجہیز و تکفین کا انتظام کرتے انہوں نے کشکول اٹھایا اور ایم اے جناح روڈ پر بیٹھ گئے۔ پیسہ پیسہ جوڑ کر انہوں نے ایک پوری فلاحی سلطنت کھڑی کر دی عبدالستارایدھی کی اس فلاحی سلطنت نے درد کا درماں ہی نہیں کیا بہت چھوٹی چھوٹی ایسی باتیں بھی اپنے عمل سے سکھائیں جس کا تصور معاشرے کے باشعور کہلائے جانے والے طبقے کے لیے بھی ابھی اجنبی تھاانہوں نے سکھایا کہ د±کھ اور س±کھ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، بھوک کا کوئی مسلک نہیں تھا، یتیمی اور مفلسی کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا، زخمی کی کوئی وابستگی نہیں ہوتی اور لاش کبھی مجرم نہیں ہوتی عبدالستارایدھی نے توہمیں بہت کچھ دیا، ہم نے کیا دیا؟ ہم نے ان کو ایک الزام دیا کہ وہ انسانی اعضا کا غیرقانونی کاروبار کرتے ہیں، اس لیے اعتبار کے لائق نہیں ہیں ہم نے انہیں ایک دھمکی دی کہ شہر چھوڑ دو ورنہ قتل کر دیے جاو¿ گے ہم نے فتویٰ دیا کہ وہ بچوں کے لیے پنگھوڑے لگا کر دراصل زنا کو فروغ دے رہے ہیں، اس لیے لوگ بہت سوچ سمجھ کر انہیں عطیہ دیں۔جاتے جاتے بھی ایدھی جرم کے ارتکاب سے باز نہ آئے ان کے بوسیدہ وجود میں دو آنکھیں بچ گئی تھیں وہ بھی دان کر گئے شائد اس لیے کہ ا±نہیں وہ دن اپنی آنکھ سے دیکھنے کی حسرت ہو جب یہ معاشرہ تسلیم کرلے گا کہ کسی بھی نظریے، خیال اور عقیدے کو حضرتِ انسان کی جان اور عزت پر فضیلت حاصل نہیں ہے

1,176 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *