گداگری
شاپنگ مال کے باہر سلمی زاروں قطار رو رہی تھی۔”اے میرے مولا! مجھ پر یہ کیسی مشکل آ پڑی ہے جہاں میں بالکل بےبس اور تنہا کھڑی ہوں…اے اللہ تو ہی میری مدد کر سکتا ہے۔ میرے حال پر رحم فرما دے” وہ دھیرے سے شاپنگ مال کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ اتنے میں ایک گاڑی رکتی ہے اور مسز روحان کی نظر یک دم لاچار اور بےبس سلمی پر پڑتی ہے.
“ہیلو سس! آپ کیوں رورہی ہیں؟ کیا آپ ٹھیک ہیں؟” انہوں نے تشویشناک لہجے میں اسے دیکھا۔ سلمی کا قفل ٹوٹتا ہے۔
“میڈم میرا بیٹا بہت سخت بیمار ہے۔ ﮈاکٹرز نے کہا ہے کہ اگر جلد از جلد آپریشن نہ کیا گیا تو اس کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے…میرے تمام احباب اور دوستوں نےمیری مدد کرنے سے منہ موڑ لیا ہے…میں اپنی تمام جمع شدہ رقم خرچ کر چکی ہوں اور اپنا گھر بھی گروی رکھ دیا ہے جو کہ میرے شوہر کی تمام عمر کی محنت تھی۔ اب میں اپنے بیٹے کو کھونے کا غم برداشت نہیں کرسکتی۔ وہ میرے شوہر کی آخری نشانی اور امانت ہے…” اس کے آنسوؤں میں کچھ اور تیزی آ گئی۔
“پلیز آپ روئیں نہیں۔ سب بہتر ہوگا” انہوں نے اس کا دکھ اپنے دل پر محسوس کیا۔
“کیسے بہتر ہوگا میڈم! میں یہاں پچھلے چار گھنٹے سے اپنے بچے کی ﺫندگی کے لیے بھیک مانگ رہی ہوں لیکن ہر کوئی دھتکار رہا ہے۔ میری آنکھوں کی سچائی کسی کو نظر ہی نہیں آتی”
“دیکھیں بہن! آج کل لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ گداگروں کا کاروبار ہے جہاں وہ اپنی عزت نفس کو بیچ کر اپنے آپکو گرا کر لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں۔ اس لیے کسی نے آپکی پکار پر لبیک نہیں کہا…ہاں یہ بات سچ ہے کہ اس جہاں میں تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہیں کچھ حقیقت میں مستحق,لاچار اور بے بس ہوتے ہیں…مگر آپ بالکل بھی فکر مند مت ہوں اللہ پاک نے مجھے آپکا وسیلہ بنا کر بھیجا ہے۔ میں آپ کی ضرور مدد کروں گی۔ تم مجھے اسپتال لے چلو” انہوں نے سلمیٰ کو سہارا دے کر کھڑا کیا۔”آپ سچ کہہ رہی ہیں؟” سلمیٰ نے بےیقینی سے انہیں دیکھا۔
“ہاں میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں۔ آ کر گاڑی میں بیٹھو۔ ہم ابھی اسپتال چلتے ہیں” وہ اسے لیے گاڑی میں دوڑی چلی آئیں جبکہ سلمیٰ ابھی تک بےیقین تھی۔
تمام واجبات مسز روحان نےادا کر دیے….عامر کا آپریشن بھی شروع ہو گیا۔
“میں چلتی ہوں سلمیٰ! اپنا بھرپور خیال رکھنا اور ہاں جیسے بھی حالات ہوں اللہ کا دامن کبھی مت چھوڑنا اور اسکی ہی فقیری اختیار کرنا وہ خودبخود آسان راستے متیعن کر دےگا..میرے جانے کا وقت ہے میں چلتی ہوں اللہ پاک آپکو ہمیشہ خوش رکھے” کہہ کر وہ باہر نکل گئیں جبکہ سلمیٰ آنکھوں میں تشکر لیے انہیں دیکھتی رہی.
تحریر.رامین ملک
19,893 total views, 3 views today
























Leave a Reply