حکمت

انسان اگر اپنے سے بڑے کے آگے بولتا نہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کسی اکڑ میں ہے یا انھیں عزت نہیں دیتا یا کچھ سمجھتا نہیں….
مطلب یہ ہے اسکا کہ وہ اب کچھ بھی نہیں چاہ رہا بس خاموشی اوڑھ لینا چاہتا بے شک خاموشی ایک بہترین انتقام ہے … ویسے بھی کرامً کاتیبین کا یہی کام ہے …
اور ایک مشہور مقولہ بھی ہے کہ جنھیں ہم جواب نہیں دیتے انھیں وقت جواب دے دیتا ہے یہ کوئی خود کو بہت زیادہ نیک اور دوسرے کو حد درجہ برا سمجھانا نہیں ہے یہ وہ عمل ہے عاجزی کا جو میرے رب کو بہت پسند ہے بہت زیادہ ..
لیکن کہتے ہیں نا کچھ لوگوں کو عزت بھی ہضم نہیں ہوتی یا تو یوں کہہ لو کہ رشتوں میں مطلب پرستی اتنی بڑھ گئی ہے کہ عاجزی اور بے لوث عزت محبت پہ لوگ شک کرنے لگتے ہیں .اور اس بات پہ بھی چڑ جاتے ہیں کہ بندہ اب چپ بھی کیوں ہے وہ جو بہت چھوٹی سی بات ہو اسے گلے کا طوق ہی بنا لیتے ہیں اور اسی آگ میں خود تو جلتے ہی ہیں سامنے والے کا مان عزت نفس سب کچھ جھلسا کہ رکھ دیتے ہیں .کیا ہی خوب کہا ہے کسی نے کہنے والے کا کچھ نہیں جاتا سہنے والے کمال کرتے ہیں.اور اگر انسان پھر بھی چپ رہے اور اپنے اشک تک باہر نا آنے دے تب بھی چین نہیں آتا لوگوں کو وہ بات بڑھائی جاتے ہیں آخر ایسا کیوں ہے اللہ جی تیری مخلوق اتنی سخت دل کیسے ہوگئی ہے آنکھ تو ایک مہذب دین کی سرپرست میں سب نے کھولی تھی تو اب یہ انسانوں کو کیا ہو گیا ہے اور جب کوئی تیری ہر آزمائش کو حکمت سمجھ کے خاموش ہو جاتا ہے تو وہ بھی لوگوں کو گوارا نہیں تو میرے اللہ کیا یہ حیوانی صفت کا مظاہرہ نہیں ….
لوگ تو سوچتے تک نہیں کیا آپ نے اگلے انسان کو اس قابل چھوڑا ہے کے وہ کچھ کہے؟ یعنی کے کسی بھی حال میں راضی نہیں انسان. جاہلوں کے آگے بحث کرنا فضول ہےاللہ تعالی کو پسند ہے کہ جب ایک بول رہا ہو تو اگلا خاموش ہو جائےجو بولتا ہے بولتا رہے اپنی ہی زبان گندی کرے گا. اسی لئے انسان کو کہا گیا ہے کہ جب بھی تکلیف آئے اپ پر یا کوئی برا کرے آپ کے ساتھ تو بس خاموش ہو جائیں. اور اس خدا پر یقین رکھیں وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے. اس پر یقین رکھو وہ سب ٹھیک کر دے گا وہ دلوں کے حالات جانتا ہے. وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے.وہ انسانوں کو ماؤں سے ستر گنا زیادہ چاہتا ہے وہ اس کے ساتھ برا نہیں کر سکتا.
اخلاقیات ایسی چیز ہے کہ انسان کو دکھ سکھ سہنا بھی سکھا دیتی ہے
اگر انسان کے دل میں احترام ہے اور وہ کسی کے سامنے بولتا نہیں یا کوئی بات کرے تو کہتا نہیں کچھ تو یہ اس کی اکڑ نہیں اس کا احترام ہے
اور وہ یہ سوچ کر خاموش ہوجاتا ہے کہ میرے اللہ کو خاموشی پسند ہے
اگر دلائل دیں یا صفائیاں دیں تو ان کو جب فرق پڑنا نہیں تو صفائیاں دینے کا دلائل دینے کا کیا فائدہ. چپ رہنا ہی صحیح لگتا پھر. جب ایسے لوگوں کو فرق نہیں پڑتا تو پھر ایسے لوگوں کو جواب دینے کا بھی دل نہیں کرتا دل کرتا ہے کہ انسان بس خاموش رہے. ایسی صورتحال میں پھر بھی اسکے چپ پر بدگمانیاں ہوں
جدھر ہر طرف غلط اور منفی سوچ رکھنے والے لوگ ہوں تو پھر وہ کیسے خوش رہ سکتا ہے. اسے پھر تکلیف ہی ہوتی ہے کہ ہر کوئی کیوں اس کے ساتھ ایسا ہے. کیوں ہر کوئی اپنے کام سے کام نہیں رکھتا؟ ایسی چیزوں سے تنگ اکر پھر انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ ایسے ماحول سے نکل جائے اور کہیں ایسے خوشگوار ماحول میں آجائے، ایسے خاموش ماحول میں یا پھر ایسے ماحول میں جہاں لوگ دل کے صاف ہوں یا پھر کہیں دور چلا جائے ایسے لوگوں سے. وہ پھر ایسے لوگوں سے دوری اختیار کرنا بہتر سمجھتا ہے جو دل کے صاف نہ ہوں جو طنز کرتے رہتے ہوں جو دل آزاری کریں جو منفی سوچ رکھیں..
انسان کو بس خدا پہ یقین ہونا چاہئے کہ وہ سب دیکھ رہا ہے اور سب کے دلوں کے حالات سے واقف ہےاور وہ ضرور حق میں بہتر کرتا ہے سب کے.اور جب اللہ بہتر نہیں کرتا تو بہترین کرتا ہے .جب اللہ پہ ایمان مظبوط رکھا جائے اور پھر وہ ایسی کایہ پلٹتا ہے کہ آپ کی ہر تکلیف کا مداوہ ممکن ہو جاتا ہے
تحریر.قرۃ العین عینی

28,874 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *