اک روز بعد تم اپنی زندگی کا پہلا ووٹ کاسٹ کروگے
ایک ماں کا خط اپنے بیٹے کے نام….
میرے لخت جگر.
اک روز بعد تم اپنی زندگی کا پہلا ووٹ کاسٹ کروگے…
آج تک تم نے جو کام کیے ھیں یہ ان میں سب سے حساس کام ھے..ھاں این ٹی ایس کے ٹیسٹ سے بھی مشکل.سوچو ذرا, تمھیں ای کیٹ کی تیاری کس ادارے سے کرانا ھے اس کے لیے میں نے اور تمھارے ابو نے شہر چھان مارا تھا..کیرئر کونسلنگ کی کتنی ورکشاپس تم نے اٹینڈ کی تھیں..تمھارے مستقبل کا سوال تھا آخر اور جان من! مستقبل تو اھم ھوتاھے چاھے فرد کا ھو یا قوم کا.بچپن سے قربانی کا جانور تم اپنی پسند کا لاتے ھو اور کتنی بار تم بڑے بھائ کے ساتھ منہ لٹکایے واپس آجاتے تھے کہ پسند کا جانور ھی نھی ملا.عید کے کپڑوں کے لیے بھی تمھارے کتنے پھیرے لگتے تھے بازاروں کے, اسلیے کہ تم ھمیشہ کے چوزی ھو..جان جگر…یہ نہ انسٹیٹوٹ کے انتخاب کا معاملہ ھے نہ کپڑوں کی خریداری یا عید قرباں کے جانور کا معاملہ..یہ معاملہ ھے قوم کے نمائندوں کے انتخاب کا..یہ انتخاب کی پرچی اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ھے..صلاح الدین بھی منتخب کرسکتے ھو اور چنگیز بھی..جو ملک کا دیوالیہ نکال دیں یا قوم کی تقدیر سنوار دیں ..معمولی بات نھیں ھے ..یہ شرعی ذمہ داری ھے تمھاری..بائ چوائس نھی ھے کہ ووٹ دو یا نہ دو یا جس پر دل آجایے یا جو لچھے دار گفتگو سے دل جیت لے اپنا قیمتی ووٹ اسکی نذر کردو…یہاں معاملہ ھے نظریات کا…
تم اتنے باشعور ھوکہ مختلف جماعتوں کے منشور پڑھ کر انکے مستقبل کے عزائم کو سمجھ سکتے ھو..جس کو ووٹ دیناھے اسکی پارٹی اور اسکے شخصی کردار کے بارے میں اتنی تو تحقیق کرو جتنی تم نیا لیپ ٹاپ یا موبائل لینے کے لیے سرچ کرتے ھو, کئ دن دوستوں سے مشورہ کرتے ھو..میرے لخت جگر مجھے فخر ھے کہ آج میری زندگی میں یہ دن آیا کہ کل تم بھی اپنا حق رایے دھی استعمال کروگے.. ایوان میں جو نمائندے بیٹھیں گے وہ تمھارے منتخب کیے ھویے ھونگے..فرض کرو تم نے جسے ووٹ دیا وہ نہ بھی جیت سکا مگر تمہارا ضمیر مطمئن ھوگاکہ تم نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا..
میری جان,ووٹ کی پرچی,تم, تمہارا ضمیر اور دیکھنے والی اللہ کی ذات..پوری صداقت کے ساتھ یہ قومی ذمہ داری پوری کرنا..اپنے دوستوں میں بھی اس شعور کو عام کرنا کہ پچیس جولائ کو گھر سےنکل کر پولنگ بوتھ نہ جانا قومی جرم ھوگا…اگر شرح صدر نہ پاؤ تو مشورہ کرو رب سے,استخارہ کرو..مگر اس ذمہ داری کو ھلکا نہ لینا..قدم قدم پر میں نے دعاؤں کے سہارے تمھارا ھاتھ تھام کر تمہیں رستہ دکھایاکہ ضالین کے راستے بھت سے ھیں..رات کی تنہائیوں میں تمھارےلیے ھدایت طلب کی ھے.اب تمھارے شعور کا بھت بڑا امتحان ھے..سیلاب کے رخ پر بہنا ھمیشہ آسان ھوتاھے.میرے بچے تم زمانہ بناؤ نہ کہ زمانہ تمھیں بنا جائے.ملکی تاریخ کےاس نازک و حساس موقع پر فکر مندی کے ساتھ تمھارے لیے بھت دعاگو ھوں…ھمیشہ دعائیں.
تحریر،علینہ ارشد
28,154 total views, 3 views today
























Zbrdst (y)