ووٹ کو عزت دو
پچھلے 5 سالوں میں اردو ادب میں ایک نئی صنف کا اضافہ ہوا جو بہت مشہور ہوئی۔ اور وہ ہے سیاسی نعرے جو ہر خاص و عام کی زبان پہ ہیں ۔ مستقبل قریب میں اردو کے پرچے میں یوں سوال آئیں گے۔” روک سکو تو روک لو” کا مفہوم بیان کریں اور اس کے جوابی نعرے پر روشنی ڈالیں؟ “کون بچائے گا پاکستان” کس سیاسی پارٹی کا نعرہ ہے ؟ تفصیلی نوٹ لکھیں۔
“ووٹ کو عزت دو”۔۔۔۔ وہ نعرہ تھا جو میں کئی دن سے ٹی وی پہ،مردوں کی سیاسی محفل میں , بازاروں میں ،کئی جگہ سن چکی تھی لیکن اس کا مطلب سمجھنے سےاب بھی قاصر تھی۔ بھلا ووٹ کو کیسے عزت دی جا سکتی ہے۔ عزت دیتے تو ہیں ہم ووٹ کو تپتی گرمی میں نیا سوٹ پہن کر خوب تیاری کر کے پولنگ سٹیشن جاو۔ مجبوری جو ہوئی پورا محلہ اکٹھا ہوا ہوتا ہے۔اور اس سے اچھا موقع جوڑے کی نمائش کا اور کوئی ہو نہیں سکتا۔پھر ووٹ کے احترام میں گھنٹوں بغیر پنکھے کے انتظار کرو ۔سب کی نظروں سے بچا کر اس پر مہر لگاؤ اور آخر میں کمیٹی کی رقم کی طرح سنبھال کر تہہ لگا کر ڈبے میں ڈال دو ۔اب اس سے ذیادہ عزت کیا دیں ۔ عجیب سی بات ہے نا میری بھی سمجھ ابھی تک نہیں آیا تھی۔صبح سے گلی میں رونق تھی الیکشن کا موسم ہے تو کوئی موسمی پرندہ ہماری گلی میں بھی پھڑپھڑا رہا تھا ۔ ایک ایک دروازے پر جا کر اپنی پانچ سالہ کارکردگی کی دہائیاں دے رہا تھا۔ میں بھی اوروں کی طرح اس گمشدہ خادم کو دیکھنے آگئی جو پانچ سالوں سے گدھے کے سر سے سینگھ کی طرح غائب تھا۔ آپ ایک بار پھر ہمارا ساتھ دیں اعتبار کر کے دیکھیں ہم اس محلے کی حالت بدل دیں گے وہ امی کو رام کرنے کی کوششوں۔میں مصروف تھا میں بھی انہماک سے سسنے لگی۔ تین سال سے ہمارے گٹڑ کا ڈھکن ٹوٹا ہوا ہے اتنی بار شکایت کرنے کے باوجود کوئی نہیں آیا اب اپنا مطلب ہے تو کیسے آ گئے سب بھول جاؤ جب تک یہ ٹھیک نہیں ہو گا ہم ووٹ نہیں دیں گے ۔ امی کی شکایت پہ اور لوگ بھی اپنے گٹڑوں اور سیوریج کے مسائل سنانے لگے سب کو پرسکون کرنے کے بعد امیدوار نے الیکشن جیتنے کے بعد ان تمام مسائل کا ازالہ کرنے کا وعدہ کیا بلکہ ایک نیا کوڑے کا ڈرم لگانے کی نوید بھی سنا دی جس پر سب دیوانہ وار تالیاں بجانے لگے۔ووٹ کو عزت دو تب یہ نعرہ مفہوم سمیت میرے دماغ میں بازگشت کرنے لگا۔آج بھی ہم گٹڑوں ، نالیوں ،کوڑے دانوں کے نام پہ اپنا قیمتی ووٹ داؤ پر لگا دیتے ہیں اس کی اتنی سی بھی عزت نہیں کہ صحت تعلیم اور تحفظ کے نام پر اس کا سودا کر سکیں۔ہمارا مستقبل کیا ہے کیا ہم کبھی نہیں بدلیں گے؟ کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں؟
ووٹ کو وہ عزت نہیں چاہیے جو یہ نعرہ لگانے والے چاہتے ہیں ووٹ کو وہ عزت چاہیے جو اسکا حق ہے یعنی سب سے پہلے آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ ایک قومی فریضہ ہے جسے پوری ایمانداری سے ادا کیا جائے اور جسکو ووٹ دے رہے ہوں وہ اس ذمےداری کو پوری ایمانداری سے اٹھانے کا اہل ہو ۔ دنیا آدمی کو چاند پر سیر کروانے کے خواب کو حقیقت کا روپ دے چکی ہےاور ہم اب تک بجلی پانی گیس جیسی بنیادی سہولیات کے لیے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں ۔ وقت آ گیا ہے کہ ووٹ دیتے وقت اپنی اور اپنی آنے والی نسل کےبارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جائے نہ کہ بریانی کی ایک پلیٹ کے پیچھے اپنے مستقبل اور اپنے وطن کی حرمت داؤ پر لگا دیں
تحریر :سائرہ یاسر(لاہور )
27,279 total views, 3 views today
























Very good
Zabardast….