وہ سحر زداہ شخص

میری طرف دیکھتی رہو تمہاری پریشانوں کا حل ہے۔ میں ابھی ماتا کو بلاتا ہوں وہ آئے گی تمہاری پریشانی مجھے بتائے گی اور پھر حل تعویزوں سے نکلے گا۔تم بس مجھ پر اور ماتا پر اعتماد رکھو۔یہ کہہ کر وہ سحر زدہ شخص اپنی انگلیوں پر آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنے لگا۔
اسی کمرے میں یکدم خوشبو پھیلی۔خدا جانے تیز،چبھتی ہوئی خوشبو کہاں سے آئی تھی جو مجھے مدہوش کرنے لگی۔جیسے کوئی اپنے سحر میں جکڑتا جا رہا ہو۔مگر میرے لبوں پر عادتاً دعائے یونس جاری رہی اور میں اپنی بہن جو اور اس شخص کو باری باری حیران کن نظروں سے دیکھنے لگی۔
مجھ میں ایک سوچ تسلسل سے رواں تھی کہ ماتا؟؟ جوکہ ایک بت کا نام ہے یا پھر جن کا وجود؟؟ اور یہ کیسی خوشبو!! میری بہن برابر مسکرہٹ کے ساتھ اس شخص میں ایسی کھو جاتی کہ اٹھے اور جھومنے لگے۔وہ شخص مسلسل اس کمرے میں ماتا نام کے کسی غائبانہ وجود سے باتیں کر رہا تھا۔ میری طرف متوجہ ہوا اور بولا تم کیا کرتی ہو؟ میں نے جواب دیا نہم کے پیپر ہونے والے ہیں اس کی تیاری کر رہی ہوں۔ مجھ سے پوچھنے کے بعد وہ اس غائبانہ وجود کو بتانے لگا میں اسکی زبان سمجھنے سے قاصر تھی۔شاید وہ خالص ہندی یا میراٹھی تھی۔وہ مجھ سے پھر مخاطب ہوا۔
غصہ کیوں کرتی ہو؟ اور غصہ میں چیخ اٹھتی ہو؟ کیا ماتا صحیح کہہ رہی ہے؟ میں کچھ خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ ”نہیں” میرے منہ سے پھسلا۔۔۔۔یہ جواب سن کر وہ شخص غضب کی سی حالت میں اور اس رد عمل نے خوف کے مارے میرے منہ سے”ہاں” نکلوایا۔
پتا نہیں وہ کیسا سحر تھا۔ میری بہن اب بھی مسکرا رہی تھی اور اب اسے ابو کا درجہ دے رہی تھی۔
دین کا شعور رکھنے والی میری بہن ایم۔اے اسامیات کی طالبہ بری طرح اس شرک کا شکار تھی۔مجھے ہر بات پر لاشعوری طور پر بیاطمینانی تھی۔اس سحر زدہ شخص نے اب ایک نیا ڈھونگ رچایا۔سامنے پڑے لیمو کو میری بہن کے وجود پر گھمانے لگا اور بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام لے لے کر کچھ پڑھتا رہا۔وہ کیا کہہ رہا تھا کیا کر رہا تھا آس پاس بیٹھے لوگوں کی سمجھ سے بالاتر تھا۔
ان سب سے فارغ ہوکر میں اور میری بہن گھر لوٹے تو معلوم ہوا اس صاحب نے ایک جن کو گھر تک ڈراپ کرنے کیلئے ساتھ بھیجا تھا۔
میں نے آس پاس دیکھا نظریں گھمائیں اور اللہ اکبر کہا۔ یہ ظہر کا وقت تھا۔ نماز کیلئے مسلا بچھایا تو ویسی ہی خوشبو آئی اور پھر سے وہ کیفیت طاری ہوئی جو اس شخص کے پاس بیٹھ کر محسوس کی تھی۔میں نے نماز شروع کی اور خالی الذہن کے ساتھ دعا مانگ کر اٹھی۔
عجیب شخص تھا میری بہن کے پاس بیٹھتا اسکے سر پر ہاتھ رکھتا اور ایک الگ ہی دنیا کی طرف بلاتا۔۔۔۔لیکن کیا واقعی کوئی ماتا تھی؟ کیا انہوں نے جن بھیجا تھا؟ کیا انکے پاس ہر ایک کی پریشانی کا حل موجود تھا؟ اور وہ خوشبو اف!! یہ سوچ اور سوال ذہن میں ابھرے ضرور مگر باقیوں کی طرح میرا دل اس شخص پر مطمئن نہ ہوا اور نہ ہی کسی سوال کا جواب ملا۔اللہ اللہ کرکے میٹرک کے امتحان ہوئے اور قرآن کو سیکھنے، سمجھنے کاموقع ملا ۔اسی قرآن کو سیکھنے کے عرصہ میں ایسی آیات گزریں جسے پڑھنے کے بعد وہ تمام سوال میری یاداشت میں آئے اور ایک ایک کر کے جوب ملتا گیا۔’کہو کیا تم نے اللہ کے سوا ایسے کارساز، جو نہیں اختیار رکھتے خود کو بھی نفع پہچانے کا اور نہ نقصان پہنچانے کا؟ کہو کیا برابر ہو سکتا ہے اندھا اور آنکھوں والا یا کہیں برابر ہو سکتیں ہیں تاریکیاں اور روشنی؟ کیا ٹہرا رکھے ہیں انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسے شریک جنہوں نے پیدا کیا ہے کچھ جس طرح اللہ نے پیدا کیا ہے؟ جسکی وجہ سے مشتبہ ہوگیا ہیتخلیق کا معاملہ ان پر؟ کہو اللہ ہی ہے پیدا فرمانے والا ہر چیز کا اور وہ ہے یکتا اور زبردست” (الرعد:12)
میں اس آیت کو یک لخت پڑھتی رہتی اور ان تمام سوالوں کے جواب تفصیلاً ملے۔کہ ایمان لانے والے ہمیشہ آزمائے جاتے ہیں اور آزمائش ایمان والوں کیلئے توبیت ہوتی ہے تاکہ وہ آگے اپنے سپرد کی گئی ذمہ داری کو سنبھالنے کے قابل ہو جائے اور دنیا کیلئے رول ماڈل بنیں اور پھر رب آزمائش میں ڈھارس بھی دیتا ہے کہ ”اسے پکارو بیشک وہ پکارنے والے کی پکار سنتا ہے” اسی پر بھروسہ رکھو اور اللہ کے سوا ان دروں پر مت جاؤ جو خود کیلئے کچھ کرنے کا اخییار نہیں رکھتے۔ اگر وہ اختیار رکھتے تو سب سے پہلے اپنی زندگیوں میں آسانی لاتے دوسروں کیلئے نا بیٹھے ہوتے!اسی عرصے میں مجھے علم و شعورآیا کہ انسان ہر لمحہ بھٹکتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو کر دوسروں کے دروں کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ ماتا(معاذاللہ) وہ مسلمان ہوکر اس بت کی تابعداری کر رہا تھا جسکا سرے سے وجود ہی نہیں محض لوگوں کو متاثر کرنے، پھانسنے کا جال تھا۔خوشبو کے بارے میں معلوم ہوا کہ ایسی اقسام کے مشک و عطر ہوتے ہیں جو دور تک اور دیر تک ماحول کو معطر و سحرانگیز کر دیتے ہیں اور وہ خوشبو پاس بیٹھے شخص کو بھی لگ جاتی ہے۔ اف کیا نادانی تھی خوشبو کے متعلق۔مگر اس وقت اس کشمکش کا احساس موجود تھا جسکی وجہ سے خوف محسوس ہوتا تھا اور اب وہ وقت تھا کہ میں مکمل شعور کے ساتھ حقیقت کو لوگوں کے سامنے کھول کر انہیں اپنی حد تک بھٹکنے سے روکوں۔
افسوس بھی بہت ہے کہ ناجانے کتنے لوگ ایسے جالوں میں پھنستے ہوں گے۔ اللہ کے بجائے اللہ کر خلق سے مرادیں مانگتے ہوں گے۔ کچھ تو ایسے بھی جو قدموں میں بیٹھ کر مریدی کرنے لگتے ہیں اور اپنی کمائی ان لوگوں پر نچھاور کر دیتے ہیں جو نا تو اپنے آپ کو فائدہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو۔کاش کہ وہ شخص دوبارہ مجھے ملے تو اس سے سوال کروں اور ان لوگوں کو آزاد کرنے کا کہوں جسے اا نے گرویدہ بنا رکھا ہے۔
میری بہن اس پر لاکھوں روپے لٹا چکی تھی اور اس کا احساس اب ہوتا ہے کہ وہ پریشانی رب کے حضور کھڑے ہو کر دور کرنے کی دعا کر لی جاتی۔
وہ رب کتنا خوبصورت ہے جو کسی مدد کے بدلے معاوضہ نہیں مانگتا بلکہ انسان پر اپنی نعمتوں کی بارش کرتا ہے چاہے وہ نعمت کھانے پینے کی ہو یا زندگی کی مشکلات کو آسان کرنے کی۔اللہ ہم سب کو قرآن مجید کا صحیح معنوں میں فہم عطا فرمائے تاکہ ہم حق و باطل کی پہچان کر سکیں اور بھٹکنے سے بچیں۔
تحریر.اقصی امل

5,620 total views, 3 views today

One Response to وہ سحر زداہ شخص

  1. RABIYAH says:

    AMAZING JUST LOVE IT KEEP IT UP ~RABIYAH AHMED

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *