انٹرویو شگفتہ یاسمین

آج ہم جس شخصیت کا انٹرویو آپ قارئین کے لیے لائیں ہیں آپ باکمال افسانہ نگار ہیں میری مراد محترمہ شگفتہ یاسین صاحبہ سے ہے آئیں ان سے بات کا آغاز کریں

اسلام علیکم کیسی ہیں آپ ؟

الحمد للہ میں ٹھیک ہے شکر ہے اُس پاک ذات کا وہ جس حال میں بھی رکھے۔۔
سب سے پہلے یہ بتائیں آپ نے باقاعدہ طور پر لکھنا کب شروع کیا؟
میں شروع میں تو مصوری کرتی تھی پھر Graduation کے بعد لکھنا شروع کیا ۔لیکن اگر باقاعدہ لکھنے کی بات کی جائے تو میں تو urdu letrature میں ماسٹر کرنے کے بعد کیا ۔2014 میں۔۔۔۔
آپ کا زمانہ طالب علمی کیسا تھا ؟
اپنے آبائی علاقے کے گورنمنٹ سکول میں میڑک کیا پھر اپنے شہر کے پرائیویٹ کالج سے Graduation کیا اور BZU ملتان سے اردو اور اسلامیات لیچریچر میں ماسٹر کیا۔بی ایڈ سرگودھا یونی ورسٹی سے کیا ۔۔بس زمانہ طالب عملی ٹھیک تھا ۔سادہ زندگی گزاری۔انسان کو سمجھ تو وقت کے ساتھ ساتھ ہی آتی ہے۔۔۔۔لیکن زمانے اور معاشرے سے بڑھ کر کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں سے انسان زندگی گزارنا سیکھ سکے۔شرارتی سی تھی شرارت کرکے خود بچ جاتی تھی ۔چیزوں کو جیسے ہی دیکھتی تھی ویسی ہی سمجھ لیتی تھی جبکہ ایسا نہیں ہوتا یہ اب سمجھ آئی ہے کہ چیزیں ویسی نہیں ہوتی جیسی ہمیں پیش کی جاتی ہیں۔
اس ادبی سفر میں گھر والوں کی کتنی سپورٹ حاصل رہی ؟
سپورٹ کی بات کی جائے تو سب کچھ خود کیا ۔اپنی کوشش کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچی ۔روکنے کی بات کی جائے تو ساتھ جانے والا کوئی نہیں بس اجازت تھی کہ بس کرسکتے ہو آپ۔۔۔۔۔۔۔کیسے کرنا ہے کیا کرنا ہے یہ سب خود پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ کیسے کرنا ہے۔
اگر آج آپ افسانہ نگار نا ہوتی تو کیا ہوتی ؟
سرکاری ٹیچر ہوتی۔۔۔۔۔۔۔یا پھر کچھ نہ ہوتی۔۔۔لیکن جس نے بھی کچھ کرنا اور بننا ہوتا ہے نا وہ شروع سے ہی اپنے راستے کا انتخاب کرلیتا ہے ۔جیسے مجھے مصوری کا شوق تھا پھر جب سراہا نہ گیا تو مطلب کوئی اس چیز کو سمجھ نہیں سکتا تھا تو میں نے قلم کے زریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا راستہ خود ڈھونڈ لیا۔۔۔میں سمجھتی ہوں جس نے کچھ کرنے کا سوچ لیا ہوتا ہے نا وہ کرکے ہی چھوڑتا ہے ۔زمانہ بھلے کچھ بھی کہے، حالات چاہے جیسے بھی ہوں۔اُسے اپنی منزل تک پہنچنا ہی ہوتا ہے۔ ورنہ کسی کو تو سب کچھ میسر ہوتا ہے حالات اور سپورٹ وغیرہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔۔یا کرنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔اور جن کو پتہ ہوتا ہے کہ خود ہی کرنا ہے وہ حالات جیسے بھی ہوں خود کرنا سیکھ ہی لیتے ہیں۔

پسندیدہ افسانہ نگار کونسا ہے؟
اشفاق احمد،بانو قدسیہ تو بہت ہی پسند ہیں اس کے علاوہ غلام عباس،عصمت چغتائی ،سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی،ہاجرہ مسرور،کرشن چند،پریم چند اور
جو بھی اچھا لکھے اور جس کی تحریر آپ کے تخیل کو بدل دے مجھے وہی افسانہ نگار پسند ہے۔
پسندیدہ افسانہ کونسا ہے؟
اگر میری بات کی جائے تو مجھے تو اپنا ننھی کلی افسانہ بہت پسند ہے جس نے مجھے پہچان دلائی۔اور اگر دوسروں کی بات کی جائے تو پھر ٹھنڈا گوشت،کالی شلوار،ہتک،لحاف،چراغ کی لو،اور کوٹ. وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔

کیا پاکستان میں ادب پر کام ہو رہا ہے ؟
ہو رہا ہوگا پر نظر صرف فیس بک پر آرہا ہے ۔باقی اگر ہے بھی تو اُس کی publicity نہیں ہورہی تاکہ نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی راہ کھولی جائے۔میں چاہتی ہوں کہ ادب ہمارے معاشرے کے لیے ایک طرح سے ادارہ ہے جس میں مصنف معاشرے کے اُستاد کے طور پر کام کررہے ہیں۔اس لیے کوئی گورنمنٹ لیول پر اس پر کام ہونا چاہئیے ۔جس میں تمام لکھنے والوں کو ساتھ ملا کر چلا جائے ۔اُن کے قلم کے مسائل کو حل کیا جائے ۔اُن کی سپورٹ کے لیے کچھ بڑے لیول پر ہو اور میرٹ پر ہو۔۔۔۔یہ نہ ہو جیسے ہر جگہ ہوتا ہے جیسے پنجابی میں کہتے ہیں “انہا ونڈے ویوڑیاں دے اپنوں اپنوں کو”
قلم کو اور اُس کی تحریر کو روح کی تسکین بنایا جائے اس کے زریعے کرداروں میں شفافیت لائی جائے ۔کسی حد تک یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو روزی نہ دے وہ کام فضول ہے ۔یہ بات بھی ایک حد تک ٹھیک ہے کیونکہ لوگوں کو روٹی کے مسائل بہت ہیں وہ اگر قلم کو روٹی روزی کے بیچ لے آئیں تو پھر یہ سراسر دھندہ دہی بن جائے گا۔اور لوگ قلم سے کتابوں سے تحریروں سے دور ہوتے چلے جائیں گے ۔یہ نہیں ہونا چاہئیے کچھ تو صرف قلم کو صرف تسکین کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر جن کو مشکل حالات کا سامنا ہے وہ اس کا سہارہ لے کر اپنی زندگی کو پرسکون بنانا بھی چاہتے ہیں۔کچھ ایسا ہونا چاہئیے جس سے قلم تسکین کا باعث بھی بنے اور کسی حد تک روزی روٹی کا سبب بھی۔
ادب میں ہمیشہ سے گروہ بندی کا رجحان رہا ہے کیا آپ کو بھی گروہ بندی کا سامنا ہوا؟
شروع شروع میں تو نہیں تھا یا شاید سمجھ نہیں تھی اب سمجھ آنے لگی ہے تو نظر بھی آنے لگا ہے ۔۔ہوتا ہے یہ ہرجگہ ہوتا ہے اور ہر فیلڈ میں ہوتا ہے۔یہاں بھی ہے ۔۔ایک دو دفعہ مجھے بھی ہوا لیکن پھر یہی سوچا کہ اپنے قلم کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کروں گی ۔یہ زیادہ اچھا ہے نہ کے کسی سے الجھنے کے۔
کیا افسانہ نگاری سے بھی ہمارے معاشرے کو بہتر کیا جا سکتا ہے ؟
یہی تو بات ہے ۔۔پہلے دور کے لوگوں میں وہ احترام اور عاجزی انکساری اور رکھ رکھاؤ اسی وجہ سے تھا کہ وہ لوگ کتابوں کے قریب تھے۔کیونکہ میں سمجھتی ہوں جو تحریر دل ودماغ پر اثر کرسکتی ہے وہ زبان سے کہے ہوئے الفاظ بھی نہیں کرسکتے۔آج کا انسان کتاب سے دور ہے شاید اسی لیے زندگی کی بھول بھلیوں میں بکھر کے رہ گیا ہے۔
وہ سمجھتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ کر خود کو منوا سکتا ہے مگر قومیں ہمیشہ اپنی اخلاقیات اپنی ثقافت اور کردار سے بہچانی جاتی ہیں۔افسانے سے تو زیادہ بہتری لائی جاسکتی ہے کیونکہ آج کے انسان کے پاس وقت کی بہت کمی ہے۔ اور وہ خود کو بہت سارے راستوں کا مسافر تصور کرچکا ہے ۔ایک افسانہ نگاری ہی ہے جس کا مقصد کم وقت میں اپنا پورا مطلب اور اپنا پیغام اپنے قاری تک پہچانا ہوتا ہے ۔وہ بھی ایک ہی نشت میں۔۔۔۔۔۔اور ڈھیروں موضوعات کو زیرِقلم لا کر تحریر کے زریعے اپنے معاشرے کی بہتری کا سوچا جاسکتا ہے۔ لکھنے والے کے لیے بھی کم وقت میں آسان اور پڑھنے والے کے لیے کم وقت میں آسان ۔اور ساتھ ساتھ تمام موضوعات کا احاطہ بھی بہترین طریقے سے ہو جاتا ہے۔ اصل میں پہنچ ہی سیکھاتی ہے جب کسی چیز تک پہنچا ہی نہیں جائے گی تو پھر سیکھنے کا موقع کیسے ملے گا تجربہ کیسے حاصل ہوگا۔ ورنہ تو انگور کھٹے ہیں والی بات ہوجائے گی نا۔۔۔۔۔۔
میں سمجھتی ہوں ناول اور لمبی تحریروں کے لیے وقت نہ سہی مگر افسانے کے لیے تو ہے نا اس لیے اس پر زیادہ کام کرنا چاہئیے تاکہ اس سے کرداروں میں بہتری لائی جاسکے ۔اخلاق کو ظرف میں سمویا جاسکے۔۔۔۔یہی ایک راستہ ہے۔۔۔

افسانہ نگاری میں کس موضوع پر لکھنا پسند کرتی ہیں ؟
میں ہر موضوع پر لکھنا پسند کرتی ہوں۔
ہر موضوع سے مراد ہر وہ مسلہ جس سے ہمارے معاشرے میں بگاڑ آرہا ہے۔ ہماری نسل کو نسل نہیں بلکہ قوم بنانے کی ضرورت ہے ۔ہم ایٹمی یا طاقت کے لحاظ سے کم ہیں تو کم از کم اپنے بہترین کرداروں اور عمل کی وجہ سے ہی ایک بہترین قوم بن کر اس دنیا کے سامنے آجائیں۔یہ تو ہمارے بس میں ہے نا۔۔۔۔۔
میں ہر اُس موضوع کو لکھنا چاہتی ہوں جس سے ہمارا معاشرہ دوچار ہے ۔۔چاہے وہ محبت ہو چاہے رومانس ہو چاہے جنسی تعلق ہو چاہے اخلاقیات ہو لین دین ہو ناپ تول ہو یا پھر نفسیاتی ہو۔
آپ کو آپ کی پسندیدہ کیسی ایک شخصیت پر لکھنا کا موقع ملے تو کس پر لکھے گی ؟
قائدِ اعظم پر کیونکہ دیکھا جائے تو انھوں نے محنت کی اور فائدہ قوم کو ہوا ۔۔۔اُن کے اس عمل سے ہمیں سیکھنا چاہئیے کہ جس کی بنیاد ہم رکھتے ہیں ہمارا وہ کام دوسروں کی زندگیوں میں نکھار لاتا ہے سکون لاتا ہے۔تو اسی سے سوچ لیں کہ ہماری زندگی دوسروں کے لیے ہوتی ہے ۔یہ دنیا ہمیں کچھ نہیں دیتی صرف نام باقی رہ جاتا ہے بس۔۔۔۔۔۔۔بڑے ظرف کی بات ہے ویسے سب کچھ کرکے دوسروں کی جھولی میں ڈال دینا اور خود خالی ہاتھ اس دنیا سے رخصت ہوجانا۔ حسنِ عمل کی کمال سیڑھی ہے۔ یہی اصل انسانیت کی روح ہے۔
آپ افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ کالم نگاری بھی کرتی ہیں کالم نگاری مشکل ہے یا افسانہ نگاری
میں صرف افسانہ نگاری کے ساتھ منسلک ہوں ۔کالم لکھنا زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ اس میں صاف صاف موضوع پر ہی بات کی جاتی ہے جبکہ افسانہ نگاری میں کہانی کی صورت قاری تک بات پہنچائی جاتی ہے جو ناگوار بھی نہیں گزرتی ۔

ایک اچھا کالم لکھنے کے لیے کیا ضروری ہے
معاشرے سے مکمل آگاہی ۔حالات سے آگاہی ،تاریخ سے آگاہی ،اور قلم میں پختگی۔

کیا پاکستان میں لکھاریوں کا مستقبل روشن ہے؟
یہاں تو کسی کا بھی مستقبل روشن نہیں ہے آپ لکھاریوں کی بات کررہے ہیں۔بس ہر فیلڈ میں دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ہر جگہ ہجوم سا ہے اپنی جگہ بنانے کے لیے سخت محنت اور وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ اگرکوئی مضبوط قدم اٹھایا جائے تو ہی روشن مستقبل ممکن ہو سکتا ہے۔لکھاریوں کے لیے کوئی راہ نکالنی چاہئیے جیسے کہ کوئی اُن کو ایسا پلیٹ فام فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنے قلم کو آزادانہ استعمال کرسکے۔۔۔۔جب ہم سنتے ہیں یا پڑھتے ہیں کہ کیسے لکھنے کا آغاز ہوا اور بہت سارے افسانہ نگاروں اورناول نگاروں نے بہت کچھ لکھا اور پھر وہ رہتی دنیا تک اپنا نام چھوڑ گئے تو بہت اچھا لگتا ہے ۔لیکن آج کے دور میں جہاں شہرت صرف چند دنوں کی چاندنی بن کے رہ گئی ہے ۔کوئی ایسا نقطہ نظر ہی نہیں آرہا کہ ہم جیسے لکھنے والے کبھی نام پیدا کر سکیں گے ۔ہر آئے دن نئی بات نیا بندہ سامنے آرہا ہے پر سب کم وقت کی شہرت لیے ہوئے۔
اب تو سوچ کے وحشت ہوتی ہے تاریخ کیا لکھے گی اور کسے لکھے گی۔
کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نا ہوئی ہو ؟
ٓ؂ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
بہت نکلےمرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے

اس کے لیے تو مرزاغالب صاحب کا شعر ہی کہوں گی۔۔۔۔خواہش ،جس کی کوئی منزل ہوتی ہے وہ ایک ہی ہوتی ہے ۔یعنی جسے آپ اپنا مقصد بنا کے چلتے ہیں وہ ایک ہی ہوتی ہے باقی تو ہزاروں خواہشیں ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔۔۔۔بس ان کو ضرورتوں پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہئیے۔ورنہ آپ کبھی بھی سکون سے نہیں رہ پائیں گے۔ میری خواہش بس ایک ہی ہے جسے پوری کرنے کے لیے کوشش اور محنت کا دامن نہیں چھوڑوں گی ان شاءاللہ اور جب منزل تک پہنچ جاؤں گی تب ہی بتاؤں گی ۔۔ہاہاہا

زندگی کا کوئی ایسا واقع جس سے سبق ملا ہو ؟
سبق سیکھنے کی بات کی جائے تو مجھے لگتا ہے جیسے غلطی ہوتی ہے نا ، اور جو لاکھ کوشش کرنے کے باوجود ہر کسی سے ہوجاتی ہے ۔جیسے انسان جب بھی کوئی غلطی کرتا ہے یا اُس سے ہوجاتی ہے تو وہ کہتا ہے اگلی بار تو یہ نہیں کروں گا۔وہ والی غلطی تو وہ دوبارہ نہیں کرتا مگر کوئی اور غلطی کر بیٹھتا ہے ۔مطلب یہ ہر بار اپنا انداز بدل لیتی ہے مگر مسلسل ہوتی ہی رہتی ہے۔اسی طرح اگر واقع کی بات کی جائے تو انسان تو چھوٹی چھوٹی باتوں سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہی رہتا ہے اور یہ عمل مرتے دم تک جاری رہتا ہے۔کوئی خاص واقعہ تو یاد نہیں نہ ہواکچھ ایسا جس سے زندگی کو سیکھا ہو۔۔۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں باقی چھوٹی موٹی باتیں تو اکثر ہوتی ہی رہتی ہیں ۔جن سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ریتے ہیں۔بس ایک بار یاد ہے کہ سکول میں پھول توڑنے سے منع کیا گیا تھا تو لڑکیاں ایک جگہ کھڑی کہہ رہی تھی کہ کوئی بھی ایسا نہیں جو پھول توڑ سکے کسی میں اتنی ہمت نہیں ۔۔۔ یہ سنتے ہی میں نے جھٹ سے پھول توڑ لیا اور کہا ایسے توڑتے ہیں پھول۔۔۔۔۔ہاہاہا
پھر کیا تھا سزا تو ملی ہی ملی مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک احساس بھی ہوا کہ پھول توڑنے کے لیے نہیں ہوتے ۔۔۔۔اور اب مجھے درختوں اور پھولوں سے اتنا پیار ہے کہ میں شجریار گروپ کی ممبر ہوں جو پورے ملک میں درخت لگانے کے لیے ہر وقت کوشاں اور متحرک رہتا ہے ہمارا ہر رکن پھولوں کے پودے لگانے اور ہر اقسام کے درخت لگانے میں مصروفِ عمل ہے اور اس گروپ کے آنر محترم سر محمد اقبال صاحب بذاتِ خود اس کام کو سرانجام دے رہے ہیں۔اُن کی اسطرح فطرت سے محبت کو دیکھ کر میں بہت متاثر ہوئی ہوں یہ ہوتی ہے اپنی زمین سے اصل محبت ۔اور کسی حد تک انسانیت سے محبت کا انوکھا انداز۔۔۔۔۔میں سمجھتی ہوں ہماری سرزمین پر ایسے لوگوں کا ہونا ضروری ہے جو عمل کرکے دیکھائیں جیسے کہ. محترم اقبال صاحب کررہے ہیں۔۔۔۔
قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی ؟
پرانے زمانے کے لوگ کہتے تھے کہ کتاب دوست ہوتی ہے یہ ایک بہترین ساتھی ہے اور یہ ساری دنیا کی سیر کراتی ہے ۔واقعی آج اس بات کی اہمیت سمجھ میں آئی ہے کہ وہ بالکل سچ کہتے تھے ۔مگر ہماری قوم کتاب سے بہت دور ہوچکی ہے وہ ٹیکنالوجی میں پڑ چکی ہے جہاں انسان نہیں ،انسان کے جذبات نہیں ،احساس نہیں بلکہ صرف اور صرف مشین کام کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔کتاب دوستی تو اب ناپید ہوچکی ہے۔میں اپنے قارئین سے یہی کہوں گی کہ کتاب سے دوستی قائم رکھیں یہ آپ کے اندر ایک نئی دنیا قائم کردیتی ہے ایسی دنیا جہاں انسانیت سے محبت کرنا سیکھایا جاتا ہے ۔ایسی روشن دنیا جہاں احساس پنپنے لگتا ہے ۔جہاں روح سے محبت کرنا سیکھا جاتا ہے ۔یہ تخیل کی پرواز ہے ۔آپ ایک جگہ بیٹھے بیٹھے نہ جانے دنیا کے کونسے کونے تک سیر کر آتے ہو ۔۔یہ روحانی سیر ہوتی ہے مگر سکون جسم پاتا ہے۔۔دماغ میں سوچ کے نئے باب کھلتے ہیں ۔تصور تخیل کے لبادے میں آزادانہ پرواز کرنے لگتا ہے ۔۔۔۔احساسات کی دنیا قائم ہوجاتی ہے ۔نظر تصور کی دنیا میں کھو کر نہ جانے کہاں کہاں سفرکر آتی ہے ۔ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے حقیقت میں سب دیکھ لیا ہو۔
وہی قومیں صدیوں یاد رکھی جاتی ہیں جن کا تعلق کتاب سے مضبوط ہوتا ہے ۔۔۔۔اُسی قوم کی ثقافت رہتی دنیا تک قائم رہتی یے جو انسانیت کو مرنے نہیں دیتی۔تحریر ایک قاری کو تخیل کی پرواز کے زریعے روح تک کو جھنجھوڑنے اور اُسے احساس کی دنیا میں واپس لانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ تحریر آپ کے باطن کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔
اس سے دوری سراسر تباہی ہے۔
انٹرویو نگار: نادر فہمی

75 total views, 9 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *