انٹرویو…وجہیہ سحر

مہمان
وجیہہ سحر
میزبان
رشنا اختر
___________________
السلام علیکم محترم قارئین!
حاضر ہیں زبردست سے انٹرویو کے ساتھ ۔ آج کی ہماری مہمان شخصیت ہیں وجیہہ سحر صاحبہ جو کہ ڈرامہ رائٹر ہیں اور کافی مقبول ہیں تو چلئیے بغیر وقت ضائع کیے ان سے کرتے ہیں مزیدار سی باتیں ۔

السلام علیکم!

و علیکم السلام
1- کچھ اپنے بارے میں بتائیے

میرا آبائی شہر سر گو دھا ہے ۔ میری شادی جوہر آباد ہوئی ۔ اسلیے جوہر آباد رہائش پذیر ہوں ۔ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ یہیں مقیم ہوں ۔ سرگودھا کے ڈگری کالج سے تعلیم حاصل کی ۔

2 بچپن کیسا گزرا

ہر انسان کا بچپن اُس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ دوسرے بچوں کی طرح زیادہ کھیل کود میں دلچسی نہیں رکھتی تھی۔ بہت سے۔ شوق پالے ہوئے تھے۔ مٹی کے برتن بنانا ، تصویریں بنانا – سہیلیوں. کو اکٹھا کر کے چھوٹے چھوٹے ڈرامے بنانا ، کردار بنانا ۔ بچپن میں کے ، بھی اسی طرح کے شوق تھے ۔ والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ گزرا ہوا وقت سب سے قیمتی لمحات ہوتے ہیں ۔ رنگوں سے کھیلتےگزرا ہے بچپن ۔

– 3 ادب سے کسی حد تک لگاؤ ہے ۔ ؟

ادب سے تو بچین کا ساتھ ہے ۔ کتابوں سے ہی دوستی کی اور صفحات سے غم اور خوشیاں بانٹیں . اپنے قلم کو ہی اپنی طاقت بنایا۔ اپنی محرومی اور کمزوریوں سے آگے بڑھنا سیکھا اور اپنی تحریروں سے قارئین کے ساتھ ایک مضبوط تعلق بنایا ۔ ایک خوبصورت زندگی ہے جو گزار رہی ہوں ۔ ایک دنیا میرے کرداروں کی جن کے احساسات اور جذبات میں جیتی ہوں ۔
4- قلمی سفر کا آغاز کب ہوا ۔ ؟
لکھنے کا آغاز تو آٹھویں جماعت سے ہی کر دیا تھا ۔ مگر میٹرک کے بعد تحریر مزید پختہ ہوئی کالج کے دور سے ہی میں نے نوائے وقت کے فیملی میگزین میں لکھنا شروع کیا۔ میرا پہلا افسانہ “نیلی آنکھوں والی تھا ” ۔ شروع سے ہی مجھے تجسس آمیز کہانیاں لکھنا پسند تھا ۔ فیملی میگزین میں میرے بہت بہت سے سے ناولز شائع ہوئے جو بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع ہوئے ۔ میرے والدین کے میرے اس قلمی سفر میں میرا بہت ساتھ دیا ۔ آج میں جو ہوں انکی وجہ سے ہوں ۔ – شادی کے کے بعد میرے شوہر نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔ میرے اس قلمی سفر میں میرا ساتھ دیا۔ میں نے سوشل اور پر اسرار دونوں طرح کے ناولز لکھے۔ شاعری بھی کرتی تھی جو صرف میری ڈائری – تک محدود تھی۔ فیس بک پر شاعری کا پیج بنایا تو قارئین کی پر زور اصرار پر اپنی شاعری کو ” رم جھم ” کے عنوان سے کتابی شکل میں محفوظ کیا جب لکھنے کا آغاز کیا تو فیملی میگزین کے ایڈیٹر شاید نذیر چوہدری صاحب نے میری تحریروں کو سنوارا اور عبد الغفار صاحب نے نے ناولوں کو کتابی شکل میں شائع کر کے قارئین تک پہنچایا ان دو لوگوں کا بہت اہم کردار ہے میرے قلمی سفر میں جو میں کبھی نہیں بھولوں گی ۔ میرے پروردگار نے میرے لیے راستے بنائے اور وسیلے پیدا کیے ۔

5 :پہلی کہانی کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا؟

پہلی کہانی میں نے نوائے وقت گروپ کے فیملی میگزین کے لیے لکھی ۔ جس کا نام “نیلی آنکھوں والی ” تھا ۔ وہ کہانی بہت پسند کی گئی –

-6- آپ نے حال ہی میں اپووا خواتین کا نفرنس میں شرکت کی آپ کا ایکسپیرنس کیسا رہا

اپووا خواتین کا نفرنس میں شرکت کر کے مجھے بہت اچھا لگا ۔ ادب سے تعلق رکھنے والی خواتین سے ملاقات ہوئی ۔ اور بہت خوشی ہوئی سب سے ملکر ۔ اور میں خراج تحسین پیش کرتی ہوں اپووا کی رائیٹرز ایسوسی ایشن کی اس تنظیم کو کہ وہ خواتین کو آگے بڑھنے کے لیے مواقع فراہم کر رہی ہے ۔ اس پلیٹ فارم سے ادب کو فروغ مل رہا ہے اور رائٹرز کے لیے آگے بڑھنے کے لیے راستے کھل رہے ہیں ۔

-7- فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟
مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. اچھے ڈرامے بھی شوق سے دیکھتی ہوں، Horror Movies بھی پسند ہیں ۔
8: زندگی کا دیا ہوا کوئی سبق جو ابھی تک کارآمد ثابت ہوا ہو ؟

خو سے جڑے تمام رشتوں کو نبھائیے مگر خود سے پیار کیجئے ۔ زندگی اللہ نے عطا کی ہےاور اس کا حق ہے آپ پر ۔ اگر آپ خود کو نظر انداز کریں گئے تو لوگ بھی
آپ کو بھول جائیں گئے۔

-9 لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

لوگوں کی رائے میرے بارے میں اچھی رہے یہ اہم ہے۔ میں لوگوں کو Judge نہیں کرتی ۔نفسا نفسی کا دور ہے۔ ہمیں شروعات اپنے گھر سے کرتی ہے اپنے بچوں کو اور خود کو معاشرے کا اچھا انسان بناتا ہے ۔معاشرہ سدھر جائے گا ۔

-10 – کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری / ڈرامہ رائٹر نہ ہوتی تو کیا ہوتی؟

میں کسی بھی شعبے سے منسلک ہوتی تو بھی لکھاری / ڈرامہ رائٹر ہوتی۔ کیونکہ لفظوں سے میرا خاص رشتہ ہے

-11 ڈرامہ نگاری کی طرف کب آنا ہوا ؟

پانچ سال پہلے میں نے جیو چینل کے لیے ڈرامہ سیریل سایہ لکھا ۔ جو بے حد مقبول ہوا ۔ اس کے بعد سایہ ٹو لکھا جو کامیابی سے ہم کنار ہوا ۔ مکافات، دکھاوا ، کے لیے مختلف کہانیاں لکھیں ۔ گرین چینل پر “راز ” میں میری تحریر شدہ کہانیاں ہیں ۔ جیو اور دوسرے چینلز کے لیے دو ڈرامہ سیریل شوٹ پر ہیں ۔
آج کل ایک ڈرامہ سیریل لکھنے لکھنے میں مصروف مصروف ہوں.

13 – جدید ڈرامہ نگاری کے لیے کیا چیز ضروری ہے جو معاشرےمیں مثبت تبدیلی لا سکے؟

میرے خیال میں ڈراموں کی اقساط 25 سے 30 تک ہونی چاہیے ڈراموں میں گھریلو سازشیں دکھانے کے بجائے نئے موضوعات ڈھونڈنے چاہئیں ۔ معاشرے کے دوسرے مسائل کو بھی اجاگر کرنا چاہیے ۔ کرائم سٹوریز بھی بنانی چاہیئے
جن میں وہ چھوٹے چھوٹے مسائل دکھاۓ جائیں جن سے جرم فروغ پاتے ہیں ۔ ڈراموں میں معلوماتی مواد بھی ہونا چاہیے۔

14 – سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ۔ ابھی ” تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں؟

سیاحت بہت پسند ہے مجھے اور میری فیملی میں سب کو ہی سیاحت سے لگاؤ ہے ۔ ناران ، کاغان ، جانا پسند ہے ۔ سکردو اور گلگت جانے کی خواہش ہے اس سال۔
15 – کھانا پکانے کی شوقین ہیں یا کھانا کھانے کی ؟

مجھے کوکنگ کرنا پسند ہے۔ کھانے میں میٹھا شوق سے
کھاتی ہوں۔

16: آپ کے مطابق زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہو گا ؟

“پھول اور کانٹوں سے سجا سفر ہے زندگی”
17: زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا؟

اللہ کی طرف راغب ہو کر ۔ جن کا سہارا ہر سہارےپر افضل ہے۔
18 : زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے اب بھی ہنسی آتی ہو؟

بچپن میں میں نے اپنے دادا ابو کی ٹوپی میں چھوٹا سا تعویذ بنا کر چھپا دیا تھا۔ جب دادی اماں ٹوپی دھونے دھونے میں لگیں تو تعویز دیکھ کر پورے گھر میں شور برپا ہو گیا ۔ کوئی تعویز کو چینی لگا کر پانی میں بہانے کی بات کر رہا تھاتو کوئی کچھ اور جب پتا چلا کہ میری شرارت ہے تو کافی ڈانٹ پڑی ۔ بہت ہنسی آتی ہے جب بھی یہ شرارت یاد آتی ہے ۔

-19 نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام …..

قلمی سفر میں تحریر کا کوئی مول نہیں ہوتا ۔ ایک لکھاری کے الفاظ انمول ہو تے ہیں ۔ ایک کھاری کی اصل دولت قارئین کی کی پسندیدگی ہوتی ہے ۔ نئے لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ مختلف رسالوں میں طبع آزمائی کریں. شوق سے دل سے لکھیں … بیسوں کے لیے مت لکھیں۔ ایک دن آئے گا جب آپ کا یہ شوق آپ کا ذریعہ معاش بھی بن جائے گا مگر اس بات پر محنت سے مت گھبرائیں کہ رائٹرز کو معاوضہ کم ملتا ہے آپکی تحریریں انمول ہیں، آپکی پہچان ہیں ۔ ادب سے پیار کریں ۔ ادب کی اس دنیا میں اپنا نام بنائیں کیونکہ پیسہ تو ختم ہو جاتا ہے مگر تحریریں زندہ رہتی ہیں۔ لکھاری مرنے کے بعد بھی اپنی تحریروں میںزندہ رہتا ہے ۔
20 – ابوا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی ۔

اہور کی تنظیم ایسا پلیٹ فارم ہے جس سے ادب کو فروع مل رہا ہے نئے لکھنے والوں کو سیکھنے کے مواقع مل رہا ہے ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے رائیٹرز کو ایک جگہ اکٹھے ہونے سے انہیں ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نئے راستے کھلتے ہیں ۔ کئی چھپے ہوئے قابل لوگ سامنے آتے ہیں۔ اپووا کی تنظیم کی ادب کے لیے یہ کاوش قابل تعریف ہے رائیٹرز کی حوصلہ افزائی سے اُن میں مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ ایووا کی تنظیم کے تمام ممبران کو اُن کی اِس کامیابی مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپووا کی اس تنظیم کو مزید کامیا بی دے اور اپووا رائٹر ویلفیئر ایسوسی ایشن رائٹرز کی یونہی رہنمائی کرتی رہے ۔ آمین –

5,535 total views, 3 views today

3 Responses to انٹرویو…وجہیہ سحر

  1. naz pervin says:

    بہت خوب ۔ہارر ڈرامے ہمارے ہاں بہت کم بنتے ہیں ۔اگر یہ ان پر مزید طبع آزماٸی کریں تو بہتر ہوگا سایہ ہم سب نے شوق سے دیکھا

  2. Ch.azam mehmood says:

    Mashallah you are really genius we all family members proud of you wish you best of luck

  3. فائزہ شہزاد says:

    بہت خوب بہت اچھا انٹرویؤ ہے مگر آپ نے جو اتنی اقساط بتائی ہیں اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہئے پندرہ سے اٹھارہ میں ڈرامے کو ختم ہو جانا چاہیے بعض اوقات زیادہ طوالت قارئین اور ناظرین کو بور کر دیتی ہے ۔۔۔ باقی آج پتا لگا سایہ آپ کا تحریر کردہ تھا سب سے زیادہ بچوں نے شوق سے دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو صالحہ بن کر ڈراتے تھے ہا ہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *